مارچ 4, 2024

ڈیلی سویل۔۔ زمیں زاد کی خبر

Daily Swail-Native News Narrative

امریکی عالی دماغ ڈاکٹر ہنری کسنجر کی وفات۔۔۔ || نصرت جاوید

نصرت جاوید پاکستان کے مایہ ناز سینئر صحافی ہیں، ، وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے روزنامہ ایکسپریس، نوائے وقت اور دی نیشن سمیت دیگر قومی اخبارات میں کالم ،مضامین اور پارلیمنٹ ڈائری لکھتے چلے آرہے ہیں،انکی تحریریں خاص طور پر ڈیلی سویل کے قارئین کی نذر

نصرت جاوید

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جمعرات کی صبح اٹھ کر اخبار میں چھپے کالم کو سوشل میڈیا پر لگانے کے لئے لیپ ٹاپ کھولا تو ہنری کیسنجرکے انتقال کی خبر ملی۔ امریکہ کی سامراجی حیثیت برقرار بلکہ اسے مزید توانا بنانے کے لئے موصوف نے حالیہ تاریخ میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ اس کے بے تحاشا کائیاں دماغ نے 1960 کی دہائی کے اختتامی برسوں میں کمال ہوشیاری سے دریافت کر لیا تھا کہ روس اور چین کئی حوالوں سے متحارب سلطنتیں رہی ہیں۔ کمیونزم کا نظریہ انہیں یک جا نہیں کر سکتا۔ قصور، کوتاہی یا نا اہلی اس تناظر میں کمیونزم کا نظریہ نہیں۔ تاریخ کے گہرے مطالعے سے بلکہ کیسنجر نے یہ اخذ کیا کہ کوئی بھی ”نظریہ“ تاریخی اور دیگر حوالوں سے ایک دوسرے سے قطعاً جدا اقوام کو اپنی شناخت مٹاکر کسی وسیع تر شناخت میں مدغم نہیں کر سکتا۔ فرد کی طرح معاشروں اور اقوام کی بھی اپنی منفرد شناخت ہوتی ہے اور ہر قوم بالآخر ”اپنے اصل“ کی طرف ہی رجوع کرنے کو ترجیح دیتی ہے۔

 

اس سوچ پر کامل ایمان کی بدولت وہ نہایت لگن سے امریکی صدر نکسن کو 1970 ءکی دہائی کا آغاز ہوتے ہی اس امر پر قائل کرنے میں کامیاب ہوا کہ چیئرمین ما کی قیادت میں ابھرے چین کو ”کمیونسٹ بلاک“ کا حصہ سمجھ کر امریکہ کا دشمن قرار نہ دیا جائے۔ سوویت یونین کی قیادت میں قائم ہوئے ”کمیونسٹ بلاک“ سے عوامی جمہوریہ چین نظر بظاہر ”نظریاتی بنیادوں“ پر دوری اختیار کرنا شروع ہو گیا ہے۔ ماوزے تنگ کا اصرار تھا کہ سٹالن کی موت کے بعد سوویت یونین نے کمیونزم کے بنیادی نظریات بتدریج نظرانداز کردئے ہیں۔ اس کے برعکس عوامی جمہوریہ چین اب بھی سرمایہ دارانہ نظام کی تباہی کو ڈٹ کرکھڑا ہے۔ وہاں کے عوام ”افسر شاہی“ کے غلام نہیں اور کمیونسٹ پارٹی اپنی صفوں میں سے نظریاتی اعتبارسے ”بھٹکے“ افراد کی مسلسل تطہیر میں مصروف رہتی ہے۔

روس اور چین کے مابین 1962 ءسے شروع ہوئی چپقلش دنیا بھر میں مجھ جیسے سادہ لوح افراد کو ”نظریاتی“ محسوس ہوتی تھی۔ ایک اور حوالے سے دیکھیں تو یہ محسوس ہوتا تھا کہ روس اور چین غالباً کمیونزم میں ابھرے دو مختلف ”فرقوں“ کی نمائندگی کر رہے ہیں جن میں سے چین خود کو ”بنیادپرست“ ثابت کرنے کو بے قرار ہے جبکہ روس ”ترمیم پسند“ ہے جس نے کمیونزم سے وابستہ ”عوام دوستی“ کو تج دیا ہے۔

 

قوموں کے مابین ایک دوسرے پر غلبے کے جنون کو حقیقت پسندانہ نگاہ سے دیکھنے والا ڈاکٹر کیسنجر مگر سادہ لوحی کا شکار نہ ہوا۔ وہ مصر رہا کہ چین ہزاروں سال پرانی تہذیب کا حامل ملک ہے۔ اسے اپنے ورثے اور شناخت پر بے پناہ ناز ہے اور ماؤزے تنگ کی قیادت میں ابھرتی چینی قیادت کمیونزم کے فروغ کے لئے نہیں بلکہ چینی قوم کی نشاة ثانیہ کی لگن سے مغلوب ہے۔ وہ خود کو ایک بار پھر دنیا کا طاقت ور ترین ملک ثابت کرنا چاہ رہی ہے۔ کیسنجر نے گہری تحقیق کے بعد امریکی اشرافیہ کو اس امر پر قائل کیا کہ سوویت یونین کے خلاف سرد جنگ جیتنے کے لئے عوامی جمہوریہ چین کو حریف کے بجائے ”حلیف“ بنانا ہو گا۔

امریکی صدر نکسن اس کی سوچ سے متفق تھا۔ کیسنجر اس کا مشیر برائے قومی سلامتی تھا۔ اسی کی بدولت نکسن امریکہ کو ویت نام کی جنگ سے نکالنے میں کامیاب ہوا۔ یہ الگ بات ہے کہ امریکہ جس انداز میں ویت نام سے شکست کھاکر واپس لوٹا تھا اسے ہم نے رواں صدی کے 2021 ءمیں افغانستان میں بھی ہوتے دیکھا جب امریکی افواج کا انخلاءکرتے جہازوں کے پیندوں سے چپکے کم سن بچے فضا؟ ں سے زمین پر گرکر پاش پاش ہوتے رہے۔

ویت نام میں عبرت ناک شکست کی جانب بڑھنے سے قبل تاہم امریکہ نے کیسنجر کی بدولت عوامی جمہوریہ چین سے نئے رشتے استوار کرلئے تھے۔ اسی باعث ویت نام میں ہوئی ذلت آمیز شکست کو امریکی عوام دو تین برسوں ہی میں بھول گئے۔ 1980 ءکا آغاز ہوا تو ریگن امریکہ کا صدر منتخب ہو گیا۔ اس نے سوویت یونین کو افغانستان میں گھیرنے کی گیم لگائی۔ چین نظریاتی طور پر ”کمیونسٹ“ کہلانے کے باوجود افغان کمیونسٹوں کی مدد کی بجائے ان کے خلاف برسرپیکار ”مجاہدین“ کا ساتھ دیتا رہا۔ امریکہ اور چین کے باہمی تعلقات کی بدولت ماسکو عالمی برادری میں تقریباً تنہا ہو گیا۔ لاکھوں چینی طالب علموں نے امریکہ کی یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کی۔ وطن لوٹ کر وہ ان دھندوں کو خیرہ کن حد تک کامیاب بناتے رہے جنہیں بنیادی طور پر امریکی سرمایہ کاری کے ذریعے متعارف کروایا گیا تھا۔ امریکہ کی تمام دکانیں اب چین میں تیار ہوئی مصنوعات سے بھری ہوئی ہیں اور امریکی اشرافیہ کو تیزی سے یہ خوف لاحق ہو رہا ہے کہ ایک دن چین اقتصادی اور فوجی اعتبار سے ان کے ملک کو پچھاڑتے ہوئے دنیا کا طاقت ور ترین ملک بن جائے گا۔ یہ بات بھی مگر یاد رکھی جائے گی کہ چین کو اس مقام تک پہنچانے میں ان روابط نے کلیدی کردار ادا کیا تھا جو کیسنجر نے امریکہ کو اس ملک کا ”دوست“ بنانے کے لئے 1970 ءکی دہائی میں ادا کیا تھا۔

 

کیسنجر کا ذکر کرتے ہوئے ہمیں اپنی نئی نسل کو یہ بھی یاد دلانا ہو گا کہ چین کے ساتھ دوستی کے راستے کھولنے کے لئے اس تاریخ ساز سفارت کار نے اس ملک کا جو پہلا دورہ کیا اسے ”خفیہ“ رکھا گیا تھا اور اسے خفیہ رکھنے میں پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ دنیا کو دکھانے کے لئے کیسنجر 1970 میں پاکستان کے دورے پر آیا ہوا تھا۔ یہاں پہنچتے ہی مگر اسے ”فلو“ ہو گیا اور آرام کرنے کے لئے مری بھیج دیا گیا۔ اس کا ”بیماری کی وجہ“ سے مری جانا مگر سفارتی اور جاسوسی زبان میں ایک ”کوور سٹوری (Cover Story) تھی“ وہ پنڈی سے درحقیقت مری نہیں بلکہ چین کے دارالحکومت پرواز کر گیا تھا۔

امریکہ کے لئے چین کے بند ہوئے دروازے کھولنے کے لئے ان دنوں پاکستان نے جو کلیدی کردار ادا کیا تھا امریکہ نے اسے کئی برسوں تک یاد رکھا۔ اسی باعث نکسن اور ہنری کیسنجر کے امریکہ نے 1971 کے دوران بھارت کی سرپرستی میں بنگلہ دیش کے قیام کے لئے چلائی تخریب کارانہ جنگ کی حمایت نہیں کی۔ اس کی بلکہ واضح الفاظ میں مذمت کرتا رہا۔ نکسن اور ہنری کیسنجر ان دنوں بھارتی وزیر اعظم کے بارے میں ا پنی نجی گفتگو میں انتہائی سخت الفاظ بھی استعمال کرتے رہے جسے بھلانے میں بھارت کو طویل عرصہ لگا۔

ڈاکٹر ہنری کیسنجر کے حوالے سے یہ کالم ختم کرنے سے قبل میں بہت دنوں سے عوام میں مشہور ہوئی ایک کہانی کی تصحیح کرنا چاہتا ہوں۔ ہمارے ہاں 1973 ءسے یہ دعویٰ ہو رہا ہے کہ امریکہ نے 1975 ءمیں ڈاکٹر ہنری کیسنجر کے ذریعے ان دنوں کے پاکستانی وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو ”خطرناک انجام“ کی دھمکی دی تھی۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ہنری کیسنجر بھٹو صاحب کی ذہانت کا تہہ دل سے معترف تھا اور اس کا اظہار وہ مختلف انٹرویوز میں ریکارڈ پر لاچکا ہے۔ امریکہ کو 1975 ءسے یہ ”خبر“ ملنا شروع ہو گئی تھی کہ بھٹو صاحب بھارت کی جانب سے 1974 ءمیں ہوئے ایٹمی دھماکے کے بعد پاکستان کوبھی جنونی لگن کے ساتھ ایٹمی قوت بنانا چاہ رہے ہیں۔ پاکستان پر لہٰذا اس تناظر میں کڑی نگاہ رکھنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ بالآخر پاکستان کو ایٹمی قوت سے باز رکھنے کے لئے کیسنجر کو ذوالفقار علی بھٹو سے ملاقات کے لئے بھیجا گیا۔

 

بذاتِ خود ایک ذہین ترین سفارت کار ہوتے ہوئے بھٹو صاحب نے کیسنجر سے ملاقات میں جان بوجھ کر تاخیر سے کام لیا۔ اپنی ”مصروفیات“ کابہانہ بنا کر اسلام آباد کے بجائے لاہور کے گورنر ہاؤس میں کیسنجرسے ملنے کو رضا مند ہوئے۔ ان دونوں کے مابین تنہائی میں جو گفتگو ہوئی اس کا ریکارڈ جن لوگوں نے دیکھ رکھا ہے ان میں سے تین افراد سے میں نے 1990 ءکی دہائی میں الگ الگ ملاقاتیں کی ہیں۔ ان تینوں نے مجھے بتایا کہ ہنری کسینجر نے ذوالفقار علی بھٹو کو براہ راست ”عبرت کا نشان“ بنانے کی دھمکی نہیں دی تھی۔ نہایت فکرمندی سے کیسنجر نے بلکہ بھٹو صاحب کو خبردار کرنے کی کوشش کی تھی کہ 1976 ءمیں امریکا کا جو صدارتی انتخاب ہونا ہے اس میں جمی کارٹر کی کامیابی یقینی ہے۔ ڈیموکریٹ پارٹی کا یہ نمائندہ ”انسانی حقوق“ کا چمپئن ہونے کا دعوے دار تھا اور وہ یہ بھی نہیں چاہتاتھا کہ پاکستان جیسے ”غیر مہذب“ ملک ایٹمی قوت بن کر ”مہذب“ دنیا کو ”بلیک میل“ کرنا شروع ہوجائیں۔ کارٹر کے اقتدار میں آنے کے قوی امکان کا ذکر کرتے ہوئے کیسنجر بھٹو صاحب کو سمجھاتا رہا کہ ”ہمارے“ یعنی ری پبلکن کے بعد جو ڈیموکریٹ پالیسی ساز آئیں گے ان میں سے چند Wolvesیعنی بھیڑیوں کی مانند ”تمہاری“ یعنی بھٹو صاحب کی جان کے درپے ہوجائیں گے (اگر وہ پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کی ضد سے باز نہ آئے ) ۔ کیسنجرنے جس امرکی بابت بھٹو صاحب کو خبردار کیا تھا وہ بالآخر درست ثابت ہوا۔ ”بھٹو سے نجات“ بھی تاہم پاکستان کو ایٹمی قوت بننے سے روک نہیں پائی۔

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت۔

یہ بھی پڑھیں:

کاش بلھے شاہ ترکی میں پیدا ہوا ہوتا! ۔۔۔ نصرت جاوید

بھٹو کی پھانسی اور نواز شریف کی نااہلی ۔۔۔ نصرت جاوید

جلسے جلسیاں:عوامی جوش و بے اعتنائی ۔۔۔ نصرت جاوید

سینیٹ انتخاب کے لئے حکومت کی ’’کامیاب‘‘ حکمتِ عملی ۔۔۔ نصرت جاوید

نصرت جاوید کے مزید کالم پڑھیں

%d bloggers like this: