اگست 12, 2022

ڈیلی سویل۔۔ زمیں زاد کی خبر

Daily Swail-Native News Narrative

سپریم کورٹ نے سید خورشید شاہ کی ضمانت منظور کرلی ، رہا کرنے کا حکم

ترجمان نیب کے مطابق خورشید شاہ کو آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں گرفتار کیا گیا ہے۔

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سابق قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی سید خورشید شاہ کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے ،

پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سید خورشید احمد کو نیب سکھر نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں اٹھارہ ستمبر 2019 کو بنی گالا سے حراست میں لیا تھا
نیب سکھر کی جانب سے خورشید شاہ پر ایک ارب تیس کروڑ روپے کا ریفرنس دائر کرکے انکی دونوں اہلیہ، دو بیٹوں اور بھتیجے صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ سید اویس قادر شاہ سمیت اٹھارہ افراد کو ریفرنس میں شامل شامل کیا گیا
احتساب عدالت کی جانب سے ستر روزہ جسمانی ریمانڈ کے بعد خورشید کو 19 نومبر دو ہزار انیس کو جیل کسٹڈی میں دیا گیا
میڈیکل رپورٹس کے تحت عدالت نے خورشید کو این آئی سی وی ڈی میں زیر حراست رکھنے کے احکامات جاری کیے
خورشید شاہ سینٹرل جیل سکھر میں حاضری دینے کے فوری بعد انیس نومبر کو ہی این آئی سی وی ڈی سکھر منتقل ہوگئے
خورشید شاہ کی جانب سے ضمانت کے لیے سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ میں درخواست دائر کی
عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے معاملہ نیب کورٹ کو بھیج دیا

نیب ذرائع کے مطابق نیب سکھر نے اسلام آباد میں خورشید شاہ کو بنی گالہ میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کرلیا۔

ذرائع نے بتایا کہ خورشید شاہ کے خلاف 7 اگست سے تحقیقات کا آغاز ہوا تھا۔

بتایا جارہا ہے کہ خورشید شاہ پر کوآپریٹو سوسائٹی میں بنگلے کیلئے ایمنسٹی پلاٹ غیر قانونی طور پر اپنے ام کرایا۔

ذرائع نے بتایا کہ خورشید شاہ نے ہوٹل، پیٹرول پمپس اور بنگلے فرنٹ مین اور بے نامی داروں کے ناموں پر بنائے۔

ابتدائی تحقیقات میں یہ تمام الزامات ثابت ہوئے ہیں اور اس حوالے سے مزید تفتیش کی جائے گی۔

نیب سکھر نے آج خورشید شاہ کو خط لکھ کر طلب کر رکھا تھا تاہم انہوں نے جوابی خط میں میں پیش ہونے سے معذرت کی تھی۔

خط میں ملزم نے مؤقف اختیار کیا کہ قومی اسمبلی کے اجلاس کے باعث پیش نہیں ہوسکتا۔

دوسری جانب خورشید شاہ کی گرفتاری کے باعث مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی نے کشمیر کانفرنس کا بائیکاٹ کر دیا۔

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، سابق وزیر داخلہ احسن اقبال اور سینیٹر شیری رحمان کانفرنس سے اٹھ کر چلے گئے۔

گرفتاری پر اپنے ردعمل میں شیری رحمان نے کہا کہ ہم سب قومی یکجہتی کا مظاہرہ کر رہے ہیں لیکن قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایک رکن کو گرفتار کر لیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ خورشید شاہ کی گرفتاری کی اسپیکر کو بھی اطلاع نہیں دی گئی۔

پی پی پی رہنما ناصر حسین شاہ نے الزام عائد کیا ہے کہ سلیکٹڈ حکومت کی ہدایت پر پر خور شیدشاہ کو گرفتار کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خورشیدشاہ کو جب بھی نیب نے طلب کیا وہ پیش ہوئے، حکومت کو احتساب سے کسی نے نہیں روکا لیکن انتقامی کارروائیاں نہ کریں۔

ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے آج معیشت کا برا حال ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سابق صدر آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور بھی جھوٹے مقدمات کی وجہ سے جیلوں میں ہیں۔

’میں نے خورشید شاہ کو گرفتار نہیں کیا‘

وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی کا معاملے پر کہنا تھا کہ میں نے خورشید شاہ کو گرفتار نہیں کیا، اس حکومت کی خوبصورتی یہی ہے کہ اس نے اداروں کو آزاد رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے اراکین کو بھی نیب نے گرفتار کیا، ادارے خودمختار ہیں، شواہد ہیں تب ہی گرفتاری

سابق قائد حزب اختلاف اور پیپلزپارٹی کے سینئیر رہنما سید خورشید شاہ کی گرفتاری پر سیاسی رہنماؤں اور سندھ حکومت کے وزرا کی طرف سے شدید ردعمل کا اظہار کیا گیاہے۔

سابق چیرمین سینیٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل سید نیر حسین بخاری نے سابق اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی خورشید شاہ کی گرفتاری پر مذمتی بیان میں کہا ہے کہ پارٹی کے مرکزی راہنما خورشید شاہ کی گرفتاری دباؤ کا گھٹیا حربہ ہےسلیکٹ نیب کا قانون صرف پیپلز پارٹی کے خلاف استعمال ہو رہا ہے ۔

نیر بخاری نے کہا کہ حتساب کے نام پر انتقام نا منظور ہے ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ چیرمین پی پی پی بلاول بھٹو نے آیینی قومی سیاسی عوامی معاملات پر اہم اجلاس طلب کر رکھا ہے اور مرکزی راہنما کی گرفتاری حکمرانوں کے پیپلز پارٹی قیادت کے ساتھ بغض اور زاتی عنادکا تسلسل ہے۔

نیر بخاری نے مزید کہا کہ سیلیکٹ نیب حکمران خاندان اور نیب زدگان وزرا کے سامنے اپاہج اور اندھا ہے۔

نیر بخاری نے کہا کہ پوری یپلز پارٹی گرفتار کر لی جائے پھر بھی جینا مرنا عوام کے ساتھ رہے گا۔  پاکستان پیپلز پارٹی حکمرانوں کی نااہلی اور نالائقی قوم کے سامنے لاتی رہے گی ۔

انہوں نے کہا کہ پپیلز پارٹی گرفتاریوں سے خوفزدہ ہونے والی پارٹی نہیں، قومی اسمبلی کے جاری اجلاس کے دوران ممبر قومی اسمبلی کی گرفتاری قابل مزمت ہے انہوں نے کہا کہ احتںساب کو انتقام میں تبدیل کرنے والوں کا انجام قریب ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے سید خورشید کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سید خورشید شاہ پاکستان کی سیاست کا ایک قابل احترام نام ہیں،سید خورشید ایک پختہ کار، سنجیدہ اور حقیقی سیاسی کارکن ہیں انکی گرفتاری قابل مذمت عمل ہے۔

شہباز شریف نے کہا عمران نیازی ایک سال سے کالے قانون کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کررہے ہیں، قومی اسمبلی کے اجلاس اور کشمیر کانفرنس میں شرکت کے موقع پر ان کی گرفتاری انتہائی افسوسناک ہے، حکمران سیاسی انتقام میں اندھے ہوچکے ہیں۔

مسلم لیگ نے کے مرکزی سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ہے کہ یہ حکومت عقل اور صلاحیتوں سے پیدل ہے، پارلیمنٹ کے جوائنٹ سیشن کے 24 گھنٹوں کے اندر مریم نواز کو گرفتار کر لیا گیا،آج لطیفہ ہے کہ قومی پارلیمنٹیئرینز کی کانفرنس ہو رہی ہےاور سینئیر پارلیمینٹرین خورشید شاہ کو گرفتار کرلیا گیاہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ کیا یہ کام ایک دو دن بعد نہیں کیا جا سکتا تھا؟ سیشن چل رہا ہے اور اسپیکر کو بتائے بغیر گرفتاری کی گئی ۔

صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے سابق قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی سید  خورشید شاہ کی گرفتاری پر ردعمل میں کہاہے کہ انہیں  غیر قانونی اور غیر اخلاقی طور پر گرفتار کیا گیاہے۔ آصف زرداری کی بہن فریال تالپور پر الزام لگاکر گرفتار کرلیا گیا جبکہ وزیراعظم کی بہن علیمہ خان کے خلاف کوئی جے آئی ٹی نہیں بنی۔

سندھ کے صوبائی وزیر نے کراچی  میں حکومت سندھ کے تعاون سے کچرا کنڈی کی جگہ فیملی پارک کا سنگ بنیاد  رکھنے کی تقریب کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا  کہ خورشید شاہ کو غیر قانونی اور غیر اخلاقی طور پر گرفتار کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور پر الزام لگاکر گرفتار کرلیا گیاجبکہ وزیراعظم کی بہن علیمہ خان نے سب کچھ مان لیالیکن ان کے خلاف کوئی جے آئی ٹی نہیں بنی۔

ان کاکہناتھا کہ وفاقی حکومت ملک کو کس مقام پر لے آئی ہے جو کوئی مہنگائی اور مسائل کی بات کرتا ہےاس کی آواز دبا دی جاتی ہے۔

سندھ حکومت کے ترجمان مشیر قانون ، ماحولیات و ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی وہاب نے بھی سید خورشید شاہ کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی اس گھناؤنی حرکت کی مذمت کرتی ہے۔

بیرسٹرمرتضی وہاب نے کہا کہ نیازی دور کی روش ہے کہ عدالتوں میں جرم ثابت ہونے سے پہلے انکوائری کے وقت گرفتار کیا جاتا ہے۔خورشید شاہ ایک سینیئر پارلیمینٹرین ہیں، اپوزیشن لیڈر رہ چکے وہ ایک عرصہ سے رکن قومی اسمبلی رہتے آئے ہیں۔خورشید شاہ کے تمام اثاثے ڈکلیئرڈ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ایسا صرف پیپلزپارٹی کے ساتھ ہی کیوں ہے؟ پی ٹی آئی کے وزراءکے خلاف بھی انکوائریاں جاری ہیں انہیں گرفتار کیوں نہیں کیا جاتا؟

سندھ کے مشیر قانون نے وفاقی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سیاسی انتقامی کارروائیوں سے باز رہے۔

 

%d bloggers like this: