اگست 3, 2021

ڈیلی سویل۔۔ زمیں زاد کی خبر

Daily Swail-Native News Narrative

ایکوفیمنزم اور اشولال(Ecofeminism and Ashu Laal) ۔۔۔ منیر غنی شیخ

"عورت کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ ایسے معاشرے  میں جس کا بنیادی   ڈھانچہ ایک طبقہ  "مردکو غالب کرنے کی کوشش کرتا رہے گاتو وہاں عورت کی آزادی اور ماحولیاتی بحران کا حل ممکن نہیں چنانچہ ماحولیاتی اورعورت تحریکوں کو یکجا کرکےسماجی ومعاشی بنیادی نظریات کو انقلابی شکل دے کراس سےمتعلقہ دیگراقدار کی بھی تشکیل نو کی جانی چاہیے”. ((Rosemary Ruother, New Women/New Earth.1975

ایکو فیمنزم کا ادبی نظریہ عورت کے حقوق کے  مختلف شعبوں مثلا امن تحریک، عورتوں کی صحت ، ماحولیاتی تحریکیں، جانوروں اور پرندوں کے حقوق کی تحریکوں سے اُبھرتا ہے، یہ نظریہ ماحولیاتی تحریک ، عورت تحریک اور سوشلزم کی بصرت اور دانش کا سر چشمہ ہے۔ ایکو فیمنزم کی فلسفیانہ اساس کا ماننا ہے جو کہ طاقتیں نسل، طبقاتی فرق، صنفی یا جنسی امتیاز و جسمانی صلاحیتوں اور زورآوری کی بنیاد پر استحصال کرتی ہیں وہ قوتیں ماحول اور فطرت کے استحصال سے کبھی دور نہیں رہ سکتیں۔ ایکو فیمنزم ہر طرح کے نسلی طبقاتی صنفی اور جنسی، جسمانی استحصال کی شدت سے مخالفت کرتا ہےاور ساتھ ہی ظلم و جبر کے سارے جذبوں کے خاتمے کا بھی مطالبہ کرتا ہے۔

مرد مرکزیت کا نظریہ مرد کو لافانی ، ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کی بنیاد پر قدرت کا ایک شاہکار کہتا ہے جسکی وجہ سے انسان اور ماحول کے درمیان ایک بناوٹی دوری

(Hyper Separation)   کا موجب بنتا ہے۔ ایکوفیمنزم اور ایکو کریٹسیزم کے درمیان غلبے کی منطق (Logic of Domination) ایک قدر مشترک ہے۔

عورت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ فطرت کے بہت نزدیک اور جڑی ہوئی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ جذباتی اور دوسری خوبیوں کی مالک ہے اس معاملے میں مرد کی ذات عورت سے علیحدہی کوئی چیز ہے۔ ایکوفیمنزم ماحول سے زیادہ ماحولیاتی انصاف پر زور دیتا ہے۔ غلبے کی دیوار بنیاد سے ہی جبر اور تفریق پر اُٹھتی ہے اور یہ جبر ہمیشہ تفریق جنسی رجحان اور صنف کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ ایکو فیمنزم کا مرکزی نقطہ استحصال ہے اور اسی نقطے کے گرد سارا نظریہ گھومتا ہے۔ ایکو فیمنزم کا مرکز اور موضوع ماحول اور عورت دونوں ہیں اور یہ دونو ں پدرسری اور سرمایہ دارانہ نظام اور جدیدیت کے استحصال کا شکار ہیں، ایکو فیمنزم دراصل عورت تحریک کا پھیلاؤہے اور اسکا مقصد صنفی عدم مساوات اور عورتوں کے مادری پہلو کو زندگی کی اہم شعبوں، عمرانیات، سماجیات، معاشیات ، فطرت اور ادب کے حوالے سے سمجھنا ہے۔ یہ نظریہ اور فلسفہ عورت کے مادری پہلو اور قدرت یا فطرت کے مادری جذبے میں ایک جیسے اصولوں کو سامنے رکھ کا چلتا ہے۔

مرد’   فطرت اور اس کے ایک اہم اور خاص جُز و عورت سمیت دونوں کا استحصال کرتا ہے۔ اس استحصال کی کئی قسمیں ہیں جو فطرت اور عورت کے لیے ایک جیسی یا پھر علیحدہ علیحدہ مرتی جاتی ہیں اور یہ استحصال ماحولیاتی جنسی یا پھر سماجی اور معاشرتی شکلوں میں سامنے آتا ہے۔ ایکو فیمنرم غلبے کی منطق کو رد کر کے ماحولیاتی توازن اور برابری کا قائل ہے۔

جدید سرائیکی شاعری اپنے وسیب ، کرہ حیات اور اس کے باسیوں اور جغرافیے کے ساتھ گندھی ہوتی ہے۔ ہماری وسیبی شاعری چاہے جو اپنی وسّوں اور اسکی معاشرت سے پھوٹتی ہے پھر بھی اسکا شاعر شعوری اور غیر شعوری یا پھر لاشعوری طور پر عالمی ادبی ، علمی، فکری اور سماجی رویوں رجحانات اور تحریکوں کے ساتھ جُڑا ہوا ہے۔ سرائیکی شاعری کسی بھی بڑے عالمی ادب کا مقابلہ کرنے کے قابل ہے۔

ماحولیاتی تنقید نئے تنقیدی نظریات میں سے ہے جو ادب پر طبعی ماحول کے ان رشتوں کا مطالعہ کرتا ہے، جو ہمیں پرانے کلاسیکی جدید اور مابعد جدید ادب میں نظر آتے ہیں۔

اس حوالے سے خواجہ غلام فریدسے لے کر آج کی جدید سرائیکی شاعری تک ہماری جڑت اپنی مقامیت، کرہ حیات اور وسیب کے ساتھ ہم آہنگ نظر آتی ہے۔ یہ شاعری کسی دوسری یا نئی دنیا کی متلاشی نہیں بلکہ اپنی وسوں اور مقامیت اور واسیوں  کے ساتھ میل کھاتی نظرآتی ہے۔

سرائیکی شاعری صرف بشر مرکزیت نہیں ہے جو دوسری مخلوق سے علیحدہ ہوکر صرف انسان کو ہی موضوع بنا کراُتم مخلوق کی طرح اسکا اظہار کرے بلکہ ہماری شاعری سارے کرہ حیات کی شاعری ہے جو اس کرہ ارض کی ہر چیز کو اپنا موضوع بناتی ہے اور اسکا  احترام کرتی ہے۔ ہم آج کی سرائیکی شاعری کو اگر بائیو کریٹسیزم کہیں تو سچ ہوگا۔

ایسے ہی ماحولیاتی ادب کے ساتھ ساتھ ہم عورت ادب  یمینسٹ لڑیچر )یا پھر ایکو فییمنسٹ لٹریچر کی بات کریں تو خواجہ غلام فرید کے بعد ڈاکٹر اشولال سرائیکی کے سب سے بڑے ایکو فییمنسٹ شاعر نظر آتے ہیں۔

اشولال کی شاعری اپنے وسیب، مقامیت اور کرہ حیات (Biosphere)سے میل کھاتی ہے اور جڑی ہوی ہے۔ انکی شاعری انہیں سرائیکی ایکو شاعری کا امام بناتی ہے۔

اشو لال کی شاعری اپنی تہذیب و ثقافت ، وسیب اور اسکی وسوں میں پھوٹتی ہے انکی شاعری کا ایک بہت بڑا حصہ اس وسیباسکے لینڈ سکیپ اور اسکی فطرت کے ساتھ جڑا ہے

فییمنسٹ لٹریچر کی بات کریں تو اشولال کی شاعری میں ایکو فیمنزم کی فکر نمایاں نظر آتی ہے۔اشولال کی شاعری ماحول دوست ہے جو غلبے کی منطق کو رد کرتی ہے اور ماحولیاتی توازن پر زور دیتی ہے۔ اس حوالے سے اشولال کی ساری شاعری میں متعدد نظیمں ایکو فیمنزمی مطالعے کا تقاضا کرتی ہیں۔

انکی پہلی کتاب)چھیڑوہتھ نہ مرلی 1989( کی بہت سی نظمیں ایکو فیمنزم کے عالمی ادب کا مقابلہ کرتی نظر آتی ہیں جن میں انہوں نے عورت کو استحصال برہا، دکھ، جدائی، مونجھ اور ملامتوں کے ساتھ ساتھ فطرت کے ایک استحصال زدہ جز کی علامت کے طور پر پیش کیا ہے۔

چھیڑوہتھ نہ مرلی (1989) کی ایک نظم (Male Chauvinism) میں عورت کی ناقدری اور بے وقتی کو موضوع بنا کر کہتے ہیں کہ

کونجاں مارو

کپ کے ہتھ پکاوؤ

جِبھ دا  لو بھ ہنڈاوؤ

تن دی مستی آنوں

چُن کے پُھل و تاوؤ

اکھیں سیخ  چڑھا وؤ

(مرد اپنا حق سمجھتا ہے کہ وہ عورت کا جب اور جیسے چاہے استحصال کرے۔  اپنے تن کی لذت کیلئیے عورت کے جسم سے حظ اٹھائے اور اپنی شہوت کو پورا کرنے کیلئیے چن چن کر پھول جیسی نازک انداموں کو استعمال کرے۔ اسے کون پوچھنے والا ہے)۔

اس Male Chauvinistمعاشرے میں جہاں عورت کو ملکیت جان کر اس کے احساسات کی قدر افزائی نہیں ہوتی، جہاں اُسے عزت کے نام پر قتل کرنا عام رواج ہے، وہاں اسکی مرضی و منشا کو کہاں سامنے رکھا جاتا ہوگا ۔ چنانچہ کئی ہیریں اپنے با پ کی پگڑی کی عزت اور ماں کے دودھ کی دھاروں کے بدلے کھیڑوں کی سولی چڑھ جاتی ہیں۔ اشولال نے قدرت کے اس خوبصورت اور نفیسں جز عورت کے ساتھ ایسی نا انصافی کو نہایت دل فِگار الفا ظ میں بیان کیا ہے جن میں اسکی دبی دبی چیخیں، سسکیاں اور التجائیں قاری کے دل کو سوز سے بھر دیتی ہیں ، کہتے ہیں :

دل جے نئیں تاں اوپرا اوپرا

کھیٹریاں نال نِبھا وے بابلا

دل جے نئیں تاں سیج سہاگنی

دوزخ والی بھا وے بابلا

دل جے نیئں تاں جیونڑ سارا

جھولی پیا گناہ وے بابلا

دل جے نیئں تاں اپنا راہ وی

ہِیر سیال دا راہ وے بابلا

) گوتم نال جھیڑا 1992)

(بابلا’ اگر مرضی و منشا  نہ ہو تو نباہ مشکل ہو جاتا ہے پھر پھولوں بھری سیج بھی دوزخ والی آگ کی طرح جلاتی ہے اور سارا جیون گود پڑا گناہ بن جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے لڑکیاں مجبوراً   ہیرسیال کہ راہ پر چل نکلتی  ہیں)۔

اَشو کی شاعری ایکو فیمنزم لڑیچر سے بھری پڑی ہے، جسمیں عورت کے ساتھ زو آور طبقہ کے مختلف قسم کے استحصال کی داستانیں درج ہیں۔ ان نظموں میں اشولال ان کی حمایت میں عَلم بغاوت بلند کرتا نظر آتا ہے، اسکی وکالت میں دلائل دیتا نظر آتا ہے بلکہ یہ کہنا بجا ہوگا کہ اس زور آور طبقہ کے خلاف پر زور لہجے میں ببانگ دُھل انکے حقوق کے لیے جنگ کرتا نظر آتا ہے۔

گوتم نال جھیڑا (1992)کہ ایک نظم "ساڈی گواہی پوری ہے” میں کس خوبصورت اور مدلل دلیل اور منطق کے ساتھ جلوہ گر ہے، لکھتے ہیں:

کھبی پسلی دے کہیں کا رن

ساڈے نانویں دوریاں

اساں تاں جیویں باغ بہشتوں

پورے نال ادھوریاں

اساں ادھوریاں کہیں ڈینھہ اپنڑاں

پورا حصہ مَنگدیاں

پوری گواہی مَنگدیاں اپنڑاں

پورا قصہ منگدیاں

ڈُو ہتھاں ڈُو کَناں وانگوں

ساڈی گواہی پوری ہے

کیویں دا کوئی اپنے وِچوں

پورے نال ادھوری ہے

)گوتم نال جھیڑا 1992)    

(آدم کی بائِیں پسلی سے ہماری پیدائش نےہمارے لئیے دوریاں پیدا کیں حالانکہ ہم تو بہشت سے آدم کے ساتھ پوری حالت میں اس جہان میں آئیں۔ ہم ادھوریاں اپنا پورا حصہ اور پوری گواہی مانگتی ہیں۔   دو ہاتھوں اور دو  کانوں کے ہوتے ہوئے ہماری گواہی ادھوری کیوں ہے؟ کیونکہ اپنے پیٹ سے پورا مرد پیدا کرنے والی کیسے آدھی ہوسکتی ہے)۔

مرد زِدہ اس معاشرے میں جہاں عورت کو اس معاشرے کی حقیر سی چیز کے طور پر جانا جاتا ہو وہاں ایسی عورتیں جو بوجہ غربت اور مجبوری و استحصال کسبی بننے پر مجبور ہو جاتی ہوں گی ان کے ساتھ معاشرے کے رویے کتنے ہتک آمیز ہوں گے۔ معاشرے کی ایسی حقیر اور مطعون عورتوں کا کیا حال ہوگا ،گویا غلیظ سے غلیظ سوچ کا ایک عام مرد بھی ان پر طعن و تشینع کے نشتر چلانا اپنا فرضِ عین سمجھتا ہے، جیسا کہ صرف یہی ہیں جو اس معاشرتی بگاڑ کی ذمہ دار ہیں۔

میں اشولال کی ہمت کو سلام پیش کرتا ہوں جو اس نام نہاد عزت دار معاشرے میں ایسی عورتوں کے لیے بھی ایسے نیکوکاروں کے سامنے سینہ سپر ہے اور چھیڑ و ہتھ نہ مرلی کی ایک نظم "بھڑوَتن”  کی لائنوں میں وہ کیسے ان نیکوکاروں کے سامنے مورچہ زن ہےپڑھ کر مزہ آئے گا:

بھڑوی رن دی جُھپڑی اندر

شہردیاں نیکیاں کٹھیاں تھنیدن

من دی مو ج   ہنڈا ون

نیکیاں دا بھڑوَتن چاوے

جُھپڑی یارملاوے

سِجھ اُبھرے تاں ساریاں نیکیاں

ساوے چٹے چولے پاکے

خشبولا کے

اپنے اپنے بال کوں آکھن

بھڑوی رن دا جایا

رات دی رات اِچ

جُھپڑی دا بھڑ وَتن کیویں مندا بنڑدے

نیکیاں توں وی پچھو

(دلال عورت کے گھررات کی تاریکی میں تَن کی مستی کیلئےشہر کے شرفا جمع ہوتے ہیں  لیکن جب صبح ہوتی ہے تو یہی شرفا  خوشبو رچے ملبوس پہن کر اپنے بچوں کو فاحشہ اور دلال کی اولاد کی گالی دینے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ ان سے بھی پوچھا جائے کہ  "ایک ہی رات میں دلالی کیسے گالی بن جاتی ہے”)۔

رانا محبوب اختر کی کتاب "مونجھ سے مزاحمت تک” جس نے میرے لیے اشولال کو سمجھنے کے لیے نئے جہاں کھول دئیے ہیں اور اشولال کو اس زوایہ سے پڑھنے اور سمجھنے میں جس درجہ رہنمائی کی ہے اس کے لیے ممنون رہوں گا۔ لکھتے ہیں کہ اشو لال سرائیکی ایکو شاعری کا امام ہے۔میں انکی تائید کرتا ہوں اور انکی اس بات کو تھوڑا اور معتبر کرتا ہوں کہ بے شک اشولال سرائیکی ایکو فیمنزمی شاعری کا بھی امام ہے۔"چھیڑ وہتھ نہ مرلی کی نظمیں عورت کے خوبصورت جذبوں کی بھی عکاسی ہیں اس کتاب کی ایک نظم "گذر گیا ڈہینہ سارا” میں وہ عورت کی بِرہا اور مونجھ کو کیسے خوبصورت الفاظ کا جامہ پہنا کر قاری کو مونجھ کی جس کیفیت سے گذارتے ہیں داد کے قابل ہے:

تُوں نہ آیوں موسم کتیے سَت اسمان سلیٹی

پُھل کیرے کچنالاں

لسکا ں سئےے ورہیاں دی وِسری

تاکڑی کھول کھڑائی

واچھڑ درکھٹر کاۓ

وت وی تن دے پُھل کنول تے

پانڑی مول نہ تھا ہرا

گذر گیا ڈیھنہ سارا

) چھیڑ وہتھ نہ مرلی (1989

(تمہارے آنے کے انتظار میں دل نے موسم کی طرح کئی رنگ بدلے۔ کچنار کے درختوں نے تمہاری راہوں میں اپنے سارے پھول بچھا دئیے۔ بارش کی گرج چمک نے گزرے لمحوں کی بھولی بسری یادوں کا در وا کیا۔  بارش کی بوچھاڑیں میرے دل کے دروازے پر دستک دیتی رہیں پھر بھی تیرا  وصال نصیب نہ ہوا اور تمہاری راہیں تکتے میرا سارا دن بیت گیا)

ان تمام نظموں میں جہاں اشو لال ہمیں فطرت کے اس حسن، عورت کے حقوق کے لیے شمشیر بلند کرتے نظر آتا ہے وہاں اسکے پیار میں اپنے تن کے ماس کی جوتی بنا کے اسکے پیروں کی نذر کرتے بھی نظر آتا ہے۔ نا دیہ کے لیے ایک نظم میں عورت سے محبت کی استقدر من کو موہنے والی سرائیکی شاعری خال خال ہی نظر سے گذرتی ہے۔ اس نظم میں دل کی کیفیت زبان اور الفاظ سے جھلکتی نظر آتی ہے اور یہ کیف کی کیفیت اشولال کی شاعری کا خاصہ ہے، آئیں الفاظ کا مزہ لیتے ہیں:

من منوتیاں درگاہیں تے

بس ہک دان کماواں

سئے ورہیاں داتھی کےوَت

کہیں موچی دے گھر جاواں

اپنے چَم دی جُتی سی کے

تیڈے پیریں پاواں

ٹُریں تاں نین و چھاواں

)چھیڑ وہَتھ نہ مرلی(1989

(درگاہوں پہ جاکے تمہیں پانے کی منتیں مانوں اور پھر سو سال کی اس ریاضت کے بعد تیرا  وصال نصیب ہو تو کسی موچی کے گھر جاؤں اور اپنے جسم کے ماس کی جوتی سی کر تمھارے پاؤں کی نذر کروں اور پھر جب تو پہن کر چلے تو میں اپنی آنکھیں تمہاری راہوں میں بچھاتا پھروں )۔

چھیڑ وہتھ نہ مرلی(1989)کی اور بھی بہت سی نظمیں مثلاً، نوانی، ستوواڑہ، اوتر ایسی نظمیں ہیں جو ایکو  فیمنزمی لٹریچر کا شاہکار ہیں اور قاری کی اک نگاہِ خاص کی منتظر ہیں’ پھر انہیں قاری کے دل سے ہوتے ہوئے روح تک پہنچنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

چھیڑ و ہَتھ نہ مرلی، گوتم نال جھیڑا، کاں وَسوں داپکھی سے سندھ ساگر نال ہمیشاں تک اشولال کی شاعری ایکو فیمنزم کے موضوعات سے سجی اور سنوری نظر آتی ہے۔

چنانچہ سندھ ساگر نال ہمیشاں کی ایک نظم "کَتھا بُلھن” ایکو فیمنزمی لٹریچر کا ایک شاندار نمونہ ہے۔

اشو لال نے اس نظم کا آغاز عورت کے بنائے مدرسری نظام سے شروع کیا ہے۔ فطری نظام کا دوسرا نام مدرسری نظام ہے جسمیں   عورت کو آزادی حاصل تھی اور مرد کا غلبہ بالکل بھی نہ تھا۔

عورت اپنے جسم کی زرخیزی کےموجب زمین کی زرخیزی کے راز سے بھی واقف تھی ۔ پھر اس عورت نے زمین کے اندر سے قدرت کے چھپے رازوں سے پردہ اُٹھایا اس لیے مٹی کو بھی ماں کا درجہ دیا جاتا ہے۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ مدرسری نظام کی جگہ پدرسری نظام نے لے لی او ر ہر شے پر مرد کو غلبہ حاصل ہو گیا جس نے اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے استحصال شروع کر دیا اور عورت مغلوب مخلوق بن گئی ۔ اب اسے موٹے عقل والی بائیں پسلی سے نکلنے والی ٹیڑھی مخلوق کے طور پر جانا جانے لگا اور فاحشہ جیسے طعنے اور گالیوں سے نواز جانے لگاگویا کوئی بھی بات ایسی نہیں تھی جسمیں اسکا استحصال نہ کیا گیا ہو۔

پدرسری نظام میں عورت کو ذلیل ‘ حقیر اور کم تر ثابت کرنے کے لیے عورت مخالف کہاوتوں اور گالیوں کو رواج دیا گیا ‘ اسے بے نام کیا گیا یہی وجہ ہے کہ یہ اب مرد کے نام یا رشتوں سے پہچانی جاتی ہے۔اسکی اپنی کوئی علیحدہ پہچان نہیں ہے اسے مرد کی ماں بہن یا  بیوی کے نام سے جانا جاتا ہے۔

کِتھال رُل گئی ہے کیا پُچھدے ہو

کیاپُچھدے ہو  کتھاں پِھٹ گئی ہے

بے گھر تھئ ہے  کتھاں گھر ہوندیں

کتھاں ناں ہوندیں  بے ناں تھئ ہے

کوئی ناں رکھ ڈیو ایں  بُھونڈن دا

تُساں مالک ہو  جیویں دل آکھے

اُونویں نال ساڈے  سَرکار کرو

(شناخت  کے اس بحران میں پتہ نہیں وہ کہاں گم ہوئی ہے کہ گھر ہوتے ہوئے بھی بےگھروبےنام ہے۔ اب مرد کی مرضی ہے کہ اس کا جو بھی نام رکھے یا کوئی بھی گالی دے کیونکہ وہ اس کا مالک و مختار ہے)

چنانچہ ایسے  میں ایک اشولال ہی ایسا ماحول دوست شاعر ہے جس نے عورت کو سندھ دریا کی بُلھن "ڈولفن” کی  جنم کَتھا میں سے ایک بار پھر زندہ کیا ہے:

کوئی مِتر وَلا سوہنا سندھ سائیں

کَتھا آن کرے   ول جی پوسوں

اشولال اس وسوں کا دوست ہے جو من کی ماندگی کا     شکار بے بس اکیلی ہنستی روتی سندھ دریا کی بُلھنئوں "ڈولفز” ، پہاڑ پر بسنے والی سمیوں اور تھل کی سسیوں کے ساتھ کھڑا روتا اور ہنستا ہے۔  یہ سارے روپ فطرت کی وَسوں اور ہماری عورت کے ہیں ۔

اشولال ان بےبس اور دل گیر مومل سسیوں کے ساتھ ہے،   ان کو جینے کا پورا حق دلانا چاہتا ہے۔ وسیب  کی عورت کی طرح یہ  معصوم جانور بُلھئن "ڈولفن” بھی مظلوم ہے جو شروع سے مرد کے ظلم اور استحصال کا شکار ہے۔ یہ مرد ہی ہے جس نے ڈیم  اور بیراج بنائے، سندھ دریا کے پانی پر قبضے کے لیے جال بچھائے ، فطرت کو شکار کیا ۔

اسی مرد نے سندھ ساگر کے پاک پانی کو زہروں اور گندلے پانی سے آلودہ کیا اس لیے یہ ساری چیزیں سندھ وَسوں کی دوسری حیات کے ساتھ ساتھ بُلھئن کی بقا کے لیے بھی خطرہ بن گئی ہیں۔ بُلھئن عورت کی طرح ممالیہ ہے، اسکے کئی اعضاء بھی عورت جیسے ہیں ، اس لیے آج بھی سننے میں آتا ہے کہ عورت کی طرح یہ مظلوم جانور بھی مرد کے جنسی استحصال کا شکار ہے۔

کتَھا بُلھئن میں اشولال سندھ دریا کی اس نایاب مخلوق کے جنسی استحصال کے خلاف بہت توانا آواز کے ساتھ سامنے آتا ہے:

کیا ڈہیدیاں ہیں اُتھاں گھن آئی ہے

ساکوں نال اپنے  سِک آدم دی

جِتھاں منہ کالا ایں دنیا وچ

ساڈےنال اِیں دنیا کرنا ہا

کوئی سمجھے تاں اساں بھینیں ہیں

اُوں ویر دیاں جیں بُھن کھادا

جیں تل کھادا اُوں پُتر دیاں

کوئی سمجھے تاں

اساں مانواں ہیں

)کَتھا بُلھئن(

( آدم کی محبت ہمیں اس مقام پر لے آئی جہاں ہمارا جنسی استحصال ہوا۔ حالانکہ اگر کوئی سمجھے تو ہم اس بھائی اور بیٹے کی مائیں بہنیں ہیں جنہوں نے اپنے جسم و زبان کی لذت کیلئیے ہمیں استعمال کیا)۔

اشولال کی کتھا بلھن مرد سماج کےخلاف ایک مضبوط مزاحمت بن کے سامنے آتی ہے۔ سرائیکی شاعری میں بلھن وسوں ، روح ، محبت ، مونجھ اور برہا کے استعارے کے طور پر مستعمل ہے۔  انہوں نے بلھئن کو ایک نئے انداز میں اپنے وسیب اور وَسوں میں سے دیکھا ہے۔ کَتھا بُلھئن اصل میں عورت اور بُلھئن دونوں کے اعزاز میں ہے  جو  ایک ہی وقت میں فطرت کی ان دونوں چیزوں کے استحصال کے خلاف مزاحمت ہے۔ چنانچہ کتھا بلھئن ایکوفیمنزمی ادب کا شاہکار ہے

الغرض اشولال کی شاعری سندھ وسوں  کی جیاجون کی کہانی ہےاسمیں تہذیب اور اور زندگی کی عجیب خوبصورتی موجود ہے اور ماحولیاتی  پھیلاؤ اور تنوع بھی موجودہے۔  اشولال کی شاعری ہمیں مضوعی اور بناوٹی علیحدگی (Hyper separation) سے علیحدہ کرکے فطرت اور بائیو سنٹیرزم پر لاتی ہے اور ایکوکریٹیسزم لٹریچر اور فطرت کے آپس کے کے رشتوں کا متلاشی بناتی ہے۔

بے شک  اشولال کی شاعری ایک علیحدہ ماحولیاتی مطالعے کی متقاضی ہے اور اسکے اعزاز کے لیے ایک علیحدہ ایکو فیمنزمی ریسرچ کی ضرورت ہے۔

نوٹ:یہ تحریر رانا یوسف  نون کے سرائیکی زبان میں لکھے گئے تجزیے سے اخذ کی گئی ہے

%d bloggers like this: