اگست 3, 2021

ڈیلی سویل۔۔ زمیں زاد کی خبر

Daily Swail-Native News Narrative

سرائیکی طلبہ کا مستقبل داؤ پر

حسن مرتضی

عام انتخابات 2018 میں جہاں بڑی اکثریت کی جانب سے نتائج پر انگلیاں اٹھیں وہاں ایک بات پر سب کا اتفاق رائے ہے کہ مضبوط سوشل میڈیا، کئی سالوں کی محنت اور چٹکی میں مسائل کے حل کا اعلان کرنے والی سیاسی جماعت تحریک انصاف نے طلبا اور نوجوان طبقے کو متاثر کیا۔

وجوہات چاہے طلبا سیاست پر پابندی سے شعور کا نا ہونا یا مسلسل امیج بلڈنگ ہو. اس بات سے انکار ممکن نہیں.

عمران خان جو کہ اکثر تعلیم پر زور دیا کرتے تھے اور سابقہ حکومتوں کی تعلیمی اصلاحات اور کم بجٹ پر دھاڑ کر تقریریں کیا کرتے تھے حکومت میں آنے کے بعد اس بات پر بھی یوٹرن لے گئے.

بجٹ پیش ہوا اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے بجٹ پر ڈاکہ مارا گیا یوں پہلے سے کم بجٹ مزید کم ہوا تو HEC نے یونیورسٹیز کو ہدایت جاری کی کہ اب اپنا بجٹ خود پیدا کیا جائے.

فیسوں میں اضافہ ہوا. پاکستان کے چند بڑی سرکاری انجینئرنگ یونیورسٹیز میں شامل یونیورسٹی آف انجینئرنگ ٹیکنالوجی لاہور نے بھی فیسیں دگنی کردیں. ریاست نے ضیاالحق نے کالے دور میں طلبا یونین پر پابندی عائد کی تھی جو اب کے جمہوری دور میں بھی جاری ہے سو بے ہنگم قوم کی طرح بے ہنگم طلبا بھی کچھ نا بول سکے چند ایک نے آواز اٹھائی تو دبا دی گئی.

ابھی یہ بھی اطلاعات ہیں کہ سرکاری انجینئرنگ یونیورسٹیز میں سیلف فنانس پر 500 سیٹیں رکھی جائیں گی. جس سے یقینی طور پر میرٹ پر آنے والے غریب طالب علم کا حق غصب ہوگا.

سرائیکی بحیثیت قوم اس ظلم سے زیادہ متاثر ہوگی. جن کے علاقوں میں ابھی تک اعلیٰ تعلیم کے در نہیں کھلے. غربت اور سہولیات کی کمی کی وجہ سے طلبا کی ایک بڑی تعداد میٹرک اور ایف ایس ای کے بعد تعلیم کو خیر آباد کہہ دیتی ہے.

سرائیکی وسیب جس پر تخت لاہور کا ناجائز قبضہ ہے. وہاں آج تک ایک مربوط اور منظم انجینئرنگ یونیورسٹی نہیں بنائی گئی. بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی اور اسلامیہ یونیورسٹی میں انجینئرنگ فیکلٹی موجود ہے جو سرائکی خطے کےلیے ناکافی ہے، رحیم یار خان میں چند سال پہلے ایک انجینئرنگ یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھا گیا جو پروگرامز آفر تو کررہی ہے مگر ابھی اس کو اپنا وجود منوانے میں کافی وقت لگے گا. پرائیویٹ انجینئرنگ کالجر جن میں بیشتر جعلی ہیں وہاں ایک غریب سرائیکی داخلے کا سوچ بھی نہیں سکتا.

یوں سرائیکی خطے کے ذہین دماغوں کے پاس انجینئرنگ کےلیے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور اور ٹیکسلا رہ جاتی ہے.

سیلف فنانس پر تعلیم، فیسوں میں اضافہ اور سکالرشپس میں کمی کا سب سے زیادہ نقصان سرائیکی وسیب کے ہونہار طلبا کو ہوگا. جن کی اکثریت پہلے ہی انٹری ٹیسٹ کے ڈرامے اور پنجاب کے اعلیٰ تعلیمی اداروں سے مقابلے کی بنا پر یہاں تک نہیں پہنچ سکتے.

مقام حیرت ہے کہ آزادی کے بعد سے اب تک 8 کروڑ سرائیکیوں کو سرکاری انجینئرنگ یونیورسٹی کا کوئی کیمپس نہیں دیا گیا. بلکہ ان اداروں کے کیمپس بھی لاہور کے مضافات، کالا شاہ کاکو، فیصل آباد، نارووال میں بنائے گئے.

تمام سرائیکی قوم پرست جماعتیں فیسوں کے ہوشربا اضافے اور میرٹ کے قتل عام پر آواز اٹھائیں. اپوزیشن کی جماعتوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ جہاں اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں وہاں طلبا یونین کی بحالی کے لیے بھی آواز اٹھائی جائے تاکہ حقیقی سیاست اور جمہوریت فروغ پا سکے طلبا کی آواز اقتدار کے ایوانوں تک پہنچ سکے . ورنہ جو چند ایک سرائیکی ان اداروں میں داخلہ لینے کے اہل ہیں وہ بھی شاید آنے والے وقت میں کہیں کلرک، چپراسی اور چوکیدار بنے نظرآئیں گے.

%d bloggers like this: