مئی 15, 2021

ڈیلی سویل۔۔ زمیں زاد کی خبر

Daily Swail-Native News Narrative

دلی دل والوں کی (قسط26)||عباس سیال

  یہ حوض جہانگیری ہے۔حوض کے کناروں پر مٹی کے دئیے جل رہے ہیںجن کی مدہم لو اور شفاف پانی پر پڑ تا آتشیں عکس کنیزوں کے ملکوتی چہروں پر جھلملاتا ایک طلسماتی سا نکھار چھوڑ چلا ہے

 

عباس سیال 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

            شہزادہ شاہجہان جہانگیر کی پہلی بیوی جگت گوسین المعروف بلقیس مکانی بیگم کے بطن سے تھا اور اکبر بادشاہ نے اپنی زندگی میں ہی جہانگیر کے بعد اپنے پوتے شاہجہان کو ولی عہد سلطنت بنانے کا اعلان کر دیا تھا۔نورجہان کے پہلے شوہر (شیر افگن) سے ایک بیٹی لاڈلی بیگم تھی جس کی شادی وہ اپنے سوتیلے بیٹے اور مستقبل کے ولی عہد شہاہجہان سے کرنا چاہتی تھی مگر شاہجہان اَرجمند بانو(نورجہان کے بھائی آصف جاہ کی بیٹی ) کی زُلفوں کا اسیر تھا۔ملکہ نورجہان نے لاڈلی بیگم کی شادی شہزادہ شہر یار سے کر دی اور شہر یارکو تخت و تاج کا مالک بنانے کیلئے شاہجہان پر زمین تنگ کر دی ۔جہانگیرنے نورجہان کے کہنے پر اپنے سب سے بڑے بیٹے خسرو کی آنکھوں میں سلا ئیاں پھروادیں جبکہ شہریار ایک نالائق اور بدکار شہزادہ ثابت ہوا۔ آتشک کے مرض میں مبتلا ہونے کے باعث اس کے بدن پر پھوڑے پھنسیاں نکل آئی تھیں اور جسم کے سارے بال جھڑ گئے تھے۔

            جہانگیر نشے کی حالت میں دمے کا مرض لے کر 8 نومبر 1627ءکو مرگیا اور پھریہیں سے نورجہان کا زوال شروع ہو ا اور وہ جہانگیر کی موت کے بعد لاہور میں راوی کنارے باغ ِدلکشا( مقبرہ جہانگیر ) میں دفن ہوئی۔ملکہ نورجہان کی موت کے بعد شاہجہان نے تخت و تاج سنبھال کر اپنی و فادار بیوی ارجمند بانو کوملکہ ممتا ز محل کا خطاب دیا اور شاہجہان کے سسر آصف جاہ نے ا پنی بھانجی کے شوہر شہر یار کی آنکھوں میں سلائیاں پھروا کر اسے ناکارہ کر دیا۔یہ وہی شہنشاہ شاہجہان تھا جس نے آگرہ میں راجہ جے سنگھ کا باغ خرید کر وہاں لاکھوں روپوں کی لاگت سے تاج محل تعمیر کیا تھا۔شاہجہا ن کے سارے بچے ارجمند بانو کے بطن سے پیدا ہوئے تھے ،جن کی کل تعداد چودہ کے قریب تھی۔جہاں آراء1614ئ، داراشکوہ1615ئ،شاہ شجاع1616ئ،روشن آرائ1617ئ،اورنگزیب1618ءاور مراد بخش1624ئ۔ شاہجہان نے اپنی زندگی میں شاہ شجاع کو بنگال،اورنگزیب کو دکن،مراد بخش کو گجرات اور دارا شکوہ کو ملتان سے کابل تک کا علاقہ تفویض کر دیا تھا جبکہ چودہویں بچے کی زچگی کے دوران ممتا زمحل کا انتقال ہو گیا تھا۔

            آگرہ کے قلعے پرپہلی نظر پڑتے ہی مجھے یہ لال قلعہ دہلی اور لاہور کے شاہی قلعے سے بھی بڑ ا اور خوبصورت لگا،خاص کر اس کا دیوان خاص اور دیوان عام واقعی حسین ہے۔ قلعے کی بیس بیس میٹر موٹی دیواریں اور دو کلومیٹر کے اند رپھیلا رقبہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ یہ کوئی قلعہ نہیں تھا بلکہ شہر کے اندر بیس میٹر چوڑی چار دیواری کے احاطے میں ایک اور شہر بسایا گیا تھا۔ سنگ سرخ سے تعمیر کردہ ایک عالیشان قلعہ جو1637ءتک مغلیہ سلطنت کی راجدھانی تھا اورشہنشاہو ں کا مسکن تھا۔جہاںدیوان خاص کا اپنا حسن اور دبدبہ وہیں دیوان عام میں یہ خوبی کہ کوئی کہیں بھی بات کرتاوہ بادشاہ کے کانوں تک پہنچ جاتی تھی ،واقعی یہ قلعہ انجینئرنگ کا شاہکار تھا۔باتوں باتوں میں ٹہلتے ٹہلتے ہمارا گروپ ایک خوبصورت سنگ مرمری عمارت کے قریب آن کھڑا ہوا ۔یہ شاہجہان اور ممتاز محل کی خوابگاہ تھی۔قیمتی پتھروں ، رنگین شیشوں ، سنگ مرمر سے مزین در و دیوار اور چھتیں۔ چھتوں کے کنڈ ے بتا رہے تھے کہ یہاں بڑے بڑے ریشمی کپڑوں کے پنکھے ٹنگے ہوں گے جس میں کبھی ریشمی حریری پردے لہراتے ہوں گے اور تازہ ہوا کے لطیف اور سرور بخش جھونکے خوابگاہ کی سحر انگیزی میں اضافہ کرتے ہوں گے۔ میںخود کو اُسی دور کی تاریخ میں کھڑا دیکھ رہا تھا ۔میرے اردگرد روشنی کا ہالہ ہے اورمیں کسی درباری وزیر کی طرح قلعے کے اندربنی بار ہ دریوں اور محرابوں میں بے خوف و خطرگھوم پھر رہا ہوں۔قلعے کے ایک طرف جمنا ندی سبک رفتاری سے بہہ رہی ہے ، سامنے محلِ خاص ہے جس میں خوبرو شہزادے اور شہزادیاں دھیمی رفتار سے گھوم پھر رہی ہیں ۔یہیں قریب ہی سنگ مرمر کا شیش محل ہے۔دالان در دالان شیش محل میں کنیزیں اور خواجہ سرا بھاگ رہے ہیں ۔ایک طرف شاہجہان کی بیٹی جہاں آراءکا کمرہ خاص ہے ،جس کے نزدیک شمالی جانب ایک انتہائی خوبصورت ہشت پہلو موسمان برج جمنا پار کھڑے تاج محل پر برابر نظریں گاڑے کھڑا دکھائی دیتا ہے۔

            شاہی خوابگاہ کانیم خوابیدہ و سحر انگیز ماحول میری آنکھوں کو خیرہ کر رہا ہے ۔نرم و ملائم ایرانی قالین ،دیواروں پر لگے شیشوں میں ابھرتا آتشیں عکس ، چھت پر لگے قیمتی فانوس ،ریشمی پردوں سے ڈھکے بستر، میز پر پڑے لوازمات کے ڈھیر،سارنگی سے نکلے سازوں کی مد بھری دھنوں پر رنگ وخشبو کی ہلکی سی سر سراہٹ،ریشمی پردوں کے پیچھے بیقرار آہٹیں اور خوشبوﺅں سے عطر کشیدہ مہک نے ماحول کو مست بنا رکھا ہے۔مدہوشی کے عالم میں جام تھامے خوابگاہ کے خارجی دروازے سے بادشاہ جہانگیر برآمد ہوتے ہیں ۔نیزہ بردار مستعد کھڑے ہیں۔میں دوڑ کر جہانگیر کے پاس پہنچتا ہوں اور پھر اس کے ساتھ خراماں خراماں چلنے لگتا ہوں۔سنگ مرمر کی بڑی سلوں سے مزین محلات شاہی کے چاروں اطراف دالانوں میں گھری ایک عمارت ہے۔جہانگیر اس عمارت پر پہنچ کر رُک جاتا ہے ،وہیں ملکہ نورجہان بھی موجود ہے اور حسب پروگرام شطرنج کا کھیل شروع ہو جاتا ہے۔ملکہ مدہوش بادشاہ کے ساتھ شطرنج کھیل رہی ہیں۔شطرنج کے مہروں کی جگہ حسین و جمیل کنیز یں ہیں جنہیں سفیدو سیاہ لبا س پہنا کر ان کے سروں پر مخصوص شطرنجی مہرے کی شباہت نما ٹوپیاں رکھ دی گئی ہیں ۔ملکہ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی جیت جاتی ہیں اور وقت کا شہنشاہ ہار جاتا ہے۔ میں تھوڑا آگے سرکتا ہوں۔میرے سامنے پائیں باغ کامنظر ہے جہاں شہزادیوں نے مینا بازار لگارکھا ہے ۔شہزادہ خرم(شاہجہان) مینا بازار میں گھوم پھر رہا ہے میں بھی چپکے سے اس کے ساتھ ہو لیتا ہوں۔ مینا بازار میں گجرے کے ہار بیچنے والی ایک نابینا عورت ہر ایک سے کہتی پھر رہی ہے ۔جولڑ کی میرے ہاتھ کابناہار پہنے گی وہ ایک دن مغلیہ سلطنت کی ملکہ کہلائے گی۔ لڑکیاں اور کنیزیں اس بوڑھی عورت کی پیشن گوئی کا مذاق اڑا رہی ہیں۔اسی اثناءمیں نقاب کے اوپر سجی کاجل سے مزین آنکھوں والی ایک خوبرو حسینہ راستہ بنا کر تیزی سے اس بڑھیا کی جانب بڑھتی ہے اور آناً فاناً اپنا نقاب اتار کر بڑھیا سے ہار لے کر اپنی صراحی دار گردن کے گرد لپیٹ لیتی ہے۔بیحد شفاف، ٹھہری جھیل کی مانند آ نکھیں ، ریشمی ڈوروں سے بندھے خو بصورت سنہری بال اور کانوں میں جھومتے نگینوں کے آویزوںکا عکس ،ڈھلتے سورج کی نارنجی کرنوں میں اس کے گلگوں عارض پر ہلکے ہلکے پڑتے گڑھے۔شہزادہ مبہوت سا ہو کر اسے دیکھنے لگتا ہے اوریہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب تاج محل کے خالق کو اپنی ملکہ مل جاتی ہے۔کب نظروں کی شناسائی لفظوں میں ڈھلتی ہے ؟ کب آگرہ قلعے کے دیوار و در پر محبت کسی آکا س بیل کی طرح پروان چڑھتی ہے اور کب ظالم ملکہ نورجہان کا قہر دونوں پر برسنے لگتا ہے ،میں ان سب باتوں سے نظریں چرا کر دائیں کروٹ ہو لیتا ہوں۔

            یہ حوض جہانگیری ہے۔حوض کے کناروں پر مٹی کے دئیے جل رہے ہیںجن کی مدہم لو اور شفاف پانی پر پڑ تا آتشیں عکس کنیزوں کے ملکوتی چہروں پر جھلملاتا ایک طلسماتی سا نکھار چھوڑ چلا ہے ۔انگوری باغ کے کنارے بنی کیاریوں میں لگے خوش رنگ پھولوں کی بھینی بھینی خوشبو اورموسیقی کی وجد بار تانیں محفل کے شرکاءپر اثر انداز ہو رہی ہیں ۔نیلگوں روشنی میں انگوری باغ کے پیڑ،پودے اوربیلوں پر لگے سرخ انگور بہت دلکش اور خوشنما نظر آ رہے ہیں ٹھنڈ ی ہوا کے جھونکے اور ان سے پھوٹتی ہلکی ہلکی مہک،مست فضا اور روشن ماحول کے دائرے میںاحساس کی خوشبو اپنے گرد لپیٹے بھاگتی دوڑتی کنیزیں اور حوض کے عین وسط میں پھوٹتے خوشیوں کے فوارے ۔۔موسیقی کی لے رفتہ رفتہ بلند ہورہی ہے۔ مسرت کے سازوں میں لپٹے بدن رقص کرنے لگے ہیں ۔خوشی ان کے جسموں سے روشنی بن کر پھوٹ رہی ہے۔ بے خودی میں بیٹھے خواص جھوم رہے ہیں اوردادو دہش کا سلسلہ جاری و ساری ہے ۔ آگرہ قلعے کے شاندار ایوانوں اور خوابگاہوں میں گھومتے ہوئے گھوڑوں کی ٹاپوں اور ہاتھیوں کی چنگھاڑوں کو محسوس کرتے ہوئے جب قلعے کے جھروکے کے پاس پہنچتا ہوں تو یکایک روشنی کا ایک تیز جھماکا میری آنکھوں سے ٹکراتا ہے۔ بدحواسی کے عالم میں سٹپٹاتے ہوئے میں اپنی پلکیں جھپکاتا ہوں اور جب میری آنکھ کھلتی ہے تو خود کو موسما ن بُرج کے اوپر پاتا ہوں ۔اسی برج پر جمنا کے پار کوئی د وکلومیٹر کے فاصلے پر دھندلکوں میں سمٹی محبت کی عظیم نشانی تاج محل مجھے دکھائی دیتی ہے۔میرے پہلو میں کھڑے بشیر خان ایک عمارت کی طرف ہاتھوں کا اشارہ کر کے بتا رہے ہوتے ہیں۔

            موسمان برج بھی شاہجہان کے دور کا ہے جسے اس نے اپنی ملکہ ممتاز کیلئے بنوایا تھااور پھر یہیں پر بادشاہ نے قید کاٹی تھی۔ اس برج کے دائیں طرف تخت جہانگیری ،حمام ِ شاہی اور مچھلی بھون واقع ہے۔ساتھ ہی مینا بازار اور حرم خاص ہے۔ شاہی حمام خانے کے ساتھ شیش محل بنایا گیا تھا۔شیش محل کی دیواروں پر چھوٹے چھوٹے شیشے نصب تھے اور یہ سارا علاقہ ممنوعہ تھا ۔شاہی خاندان اور کنیزوں کے علاوہ یہاں پر کسی کو آنے کی اجازت نہیں تھی۔اورنگزیب عالمگیر نے اپنے باپ پر رحم کھاتے ہوئے صرف ایک جھروکا کھلا رکھا تھا تاکہ اُسے تاج محل نظر آتا رہے جبکہ باقی کی دیواروں میں پارہ بھروا دیا تھا تاکہ اس کی چکاچوند سے شہنشاہ ِہند کی بینائی زائل ہو جائے ۔شاہجہان کوہِ نور ہیرے کو کھڑکی میں رکھ کر اس کے عکس میں تاج محل کا نظارہ کیا کرتا تھا ۔

جاری ہے۔۔۔۔

 

یہ بھی پڑھیے:

دلی دل والوں کی (قسط22)۔۔۔ عباس سیال

دلی دل والوں کی (قسط21)۔۔۔ عباس سیال

دلی دل والوں کی (قسط20)۔۔۔ عباس سیال

دلی دل والوں کی (قسط19)۔۔۔ عباس سیال

دلی دل والوں کی (قسط18)۔۔۔ عباس سیال

دلی دل والوں کی (قسط17)۔۔۔ عباس سیال

دلی دل والوں کی (قسط16)۔۔۔عباس سیال

عباس سیال کی دیگر تحریریں پڑھیے


مصنف کا تعارف

نام:  غلام عباس سیال

 تاریخ پیدائش:  دس جنوری 1973
 مقام پیدائش:  ڈیرہ اسماعیل خان
 تعلیم:  ماسٹر کمپیوٹر سائنسز، گومل یونیو رسٹی، ڈیرہ اسماعیل خان 1997
ٍ  ماسٹر انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ منیجمنیٹ، سڈنی یونیورسٹی، آسٹریلیا2009
 ڈپلومہ اِن جرنلزم، آسٹریلین کالج آف جرنلزم2013
 عرصہ 2005ء سے تاحال آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں مقیم۔
کتابیں
 ۱۔ خوشبو کا سفر    (سفرنامہ حجا ز)  دوبئی سے حجاز مقدس کا بائی روڈ سفر۔  اشاعت کا سال 2007۔
پبلشر: ق پبلشرز، اسلام آباد۔
 
۲۔  ڈیرہ مُکھ سرائیکستان (موضوع:  سرائیکی صوبے کے حوالے سے ڈیرہ اسماعیل خان شہر کی سیاسی، سماجی اور ثقافتی اہمیت)۔ اشاعت کا سال 2008،   پبلشر: جھوک پبلشرز، ملتان۔
 
 ۳۔  گُلی کملی کے دیس میں (موضوع: صوبہ سرحد کے پرامن شہر ڈیرہ اسماعیل خان شہر میں اَسی، نوے کی دھائی کا آنکھوں دیکھا حال)،سن اشاعت  2010: پبلشر: ق پبلشر، اسلام آباد
 
۴۔  کافر کوٹ سے قلعہ ڈیراول تک  (سفرنامہ)  ڈیرہ اسماعیل خان کے تاریخی مقام کافر کوٹ سے بھکر، لیہ، مظفر گڑھ، ملتان، بہاولپور اور چولستان کے قلعہ ڈیراول تک کا سفر۔  سن اشاعت  2011۔ پبلشر:  جھوک پبلشرز، ملتان
 
۵۔  ذائقے فرنٹئیر کے (تقسیم ہند سے قبل صوبہ سرحد کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان کے کھانوں پر ہندی میں لکھی کتاب کا اردو ترجمہ) ۔  یہ کتاب مارکنگ پبلشرز، کراچی  سے بیک وقت ہندی، اردو میں شائع ہوئی تھی۔ دائیں طرف اردو، بائیں طرف ہندی تھی اور دراصل اس کتاب کی مصنفہ پُشپا بگائی تھیں، جن کا بچپن ڈیرہ اسماعیل خان میں گزرا تھا اور وہ تقسیم کے بعد دہلی ہجرت کر گئی تھیں۔ انہوں نے ہندی زبان میں ڈیرہ اسماعیل خان کے لذیذ کھانوں پر کتاب لکھی تھی اور ان کی موت کے بعد اس کے بیٹے اتل بگائی  جو  بنکاک میں  مقیم ہیں اور یو این او میں  جاب کرتے ہیں۔  انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ وہ اپنی والدہ کی کتاب کو اردو، ہندی دونوں زبانوں میں چھپوانا چاہتے ہیں۔ ہندی نسخہ انہوں نے مجھے بھیجا تھا۔ سڈنی میں ایک بزرگ  ہندو  شری لچھمن ٹُھکرال نے ہندی سے اردو ترجمعہ کرنے میں پوری مدد کی تھی اور پھر  اتل بگائی نے کتاب کو  کراچی سے چھپوایا تھا۔کتاب کو چین کے انٹرنیشنل بُک فئیر میں  امن کے مشترکہ ایوارڈ (پاکستان و ہندوستان)  سے نوازا گیا تھا۔ سال اشاعت 2013،  ناشر:  مارکنگز پبلشنگ کراچی
 
۶۔  جو ہم پہ گزری۔   (موضوع:  پاکستان ٹیلی ویژن کی نامور فنکارہ عظمیٰ گیلانی کی زندگی اور ان کے کیرئیر پر لکھی کتاب، جسے اباسین آرٹ کونسل پشاورکے 2013-2014  کے ادبی ایوارڈ(تحقیق و تالیف کے جسٹس کیانی ایوارڈ سے نوازا گیا تھا)۔سن اشاعت: جنوری 2014۔ پبلشر: ق پبلکیشنز، اسلام آباد
 
۷۔  برٹش عہد 1893 ء  میں کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان مسٹر ٹکر کے لکھے ہوئے گزیٹئیر ڈیرہ اسماعیل خان کا اردو ترجمعہ۔
اشاعت  2015  ۔   ناشر:  ق پبلکیشنز، اسلام آباد
 
۸۔  انگریز محقق  ٹی ڈبلیو ایچ ٹولبوٹ کی لکھی کتاب  دا  ڈسٹرکٹ  آف ڈیرہ اسماعیل خان  ٹرانس انڈس 1871،   کا اردو ترجمعہ۔  اشاعت  2016۔   پبلشر: سپتا سندھو  پبلکیشنز، ڈیرہ اسماعیل خان
 
۹۔  دِلی دل والوں کی (سفرنامہ دِلی)   سڈنی سے نئی دہلی تک کا سفر۔  اشاعت  اگست2018۔
پبلشر:  ق  پبلکیشنز، اسلام آباد
%d bloggers like this: