مئی 26, 2026

ڈیلی سویل۔۔ زمیں زاد کی خبر

Daily Swail-Native News Narrative

سرائیکی وسیب کی تاریخی و لسانی شناخت اور پنجاب کی مرکزیت کا سیاسی بیانیہ۔۔۔۔شہزاد عرفان

ایہ او پہلا منڈھلا ایرا لبھا جئیں ساری ڳالھ دا پک کیتا جو انسانی نسل دا پیڑھیاں در پیڑھیاں دا پندھ کتھوں تے کیویں شروع تھیندے تے باندر توں بنده بݨݨ دے آدھل وچ جیڑھی کڑی نہ پئی لبھدی ہئی او لوسی نے پوری کرݙتی۔ ایہ ہک وݙا موہری ٹَک لگا ہا جتھوں پک تھیا جو اساں کون تے کیویں ہیں۔

شہزاد عرفان

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ایہ قصہ ہک ہا بادشاه توں وی پہلوں دا ہے جݙݨ ویلھے دی ٹور ٻہوں نویکلی ہائی۔۔۔ ماݨس دا روپ رنگ انگ رُخ وی نویکلا ہئی۔۔۔ ماݨس دا پندھ اڄوکے بندے دا پُتر بݨݨ وچ

بلوچستان، سندھ اور خیبر پختون خوا میں متعدد زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں سرائیکی واحد ایسی زبان ہے جو ان تینوں صوبوں میں اپنی تاریخی و ثقافتی موجودگی کے ساتھ زندہ روایت کے طور پر پائی جاتی ہے مگر اس کے باوجود ان خطوں میں کبھی لسانی تنوع کو دبانے یا مختلف زبانوں کو کسی ایک غالب صوبائی شناخت میں جذب کرنے کی منظم کوشش نہیں کی گئی۔ بلوچستان میں بلوچی کے ساتھ براہوی اور سرائیکی، سندھ میں سندھی کے ساتھ سرائیکی اور دیگر زبانیں، جبکہ خیبر پختون خوا میں پشتو کے ساتھ ہندکو اور سرائیکی کو اپنی جداگانہ شناخت کے ساتھ قبول کیا گیا۔ ان صوبوں کی جمہوری قوم پرست جماعتوں نے بھی سرائیکی وسیب کی قومی و لسانی شناخت اور سرائیکی صوبے کے مطالبے کو سیاسی منشوروں میں تسلیم کیا۔ اس کے برعکس پنجاب کی مقتدر سیاسی اشرافیہ نے سرائیکی خطے کو ہمیشہ ایک تابع اور محکوم جغرافیہ کے طور پر برتا جہاں پنجاب کے وسیع جنوبی و مغربی خطے کی اکثریتی آبادی بھی سرائیکی بولتی ہے، وہاں مقامی مفاد پرست جاگیرداروں اور موقع پرست سیاسی آبادکاروں کے ذریعے اقتدار کی نمائندگی قائم رکھی گئی تاکہ سرائیکی شناخت کمزور اور سیاسی مطالبات منتشر رہیں۔ سرائیکی خطہ مسلسل معاشی پسماندگی، بے روزگاری، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور لسانی انکار کا شکار رہا ہے، اسی لیے کبھی “جنوبی پنجاب” اور کبھی “بحالیِ بہاولپور” جیسے نعروں کے ذریعے اصل سرائیکی قومی سوال کو دبانے کی کوشش کی جاتی رہی تاکہ پنجاب کی مرکزی سیاسی و عسکری اشرافیہ کا طاقتور گٹھ جوڑ برقرار رہے۔
جو لوگ آج کے موجودہ پنجاب کو پنجابیوں کی کوئی آفاقی یا ازلی ریاست سمجھتے ہیں انہیں یہ حقیقت بھی سامنے رکھنی چاہئے کہ سرائیکی وسیب کی ریاست بہاولپور ایک مضبوط، خودمختار اور باقاعدہ معاشی و انتظامی ریاست تھی جس کا قیام 1727ء میں ہوا تھا۔ تقسیمِ ہند کے بعد اس خطے میں منظم انداز سے پنجابی آبادکاری کی گئی اور بعدازاں ریاستِ بہاولپور کو اس کی سرائیکی شناخت، خودمختاری اور قومی وجود سمیت پنجاب میں ضم کر دیا گیا۔ اسی طرح ملتان 1818ء تک ایک آزاد اور خودمختار ریاست تھا جہاں وہ پشتون حکمران برسرِ اقتدار تھے جو نسلوں سے اس خطے میں رہتے ہوئے مقامی سرائیکی تہذیب اور زبان کا حصہ بن چکے تھے۔ اس عہد میں نہ موجودہ معنی میں کوئی “پنجاب” تھا اور نہ ملتان کی شناخت پنجابی تھی۔ تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ بیرونی حکمرانوں کی آمد سے زمینوں کی تہذیبی شناختیں تبدیل نہیں ہوجایا کرتیں۔ اگر ظہیرالدین بابر اور اس کی نسلوں کی صدیوں پر محیط حکمرانی کے باوجود ہندوستان فارستان یا مغلستان نہیں بن گیا، اگر ترک، عرب، فارسی، افغان اور انگریز حکمرانوں کے باوجود ہندوستان اپنی تہذیبی شناخت برقرار رکھ سکا، تو محض رنجیت سنگھ کی فوجی یلغار کے بعد ملتان کی سرائیکی شناخت کیسے بدل سکتی ہے؟ سکندر مقدونی نے بھی ملتان فتح کیا تھا، محمد بن قاسم بھی یہاں آیا تھا، مگر نہ ملتانی یونانی بنے اور نہ عرب۔ اسی طرح رنجیت سنگھ کی فتح کے بعد بھی سرائیکی وسیب کی اکثریتی آبادی اپنی زبان، ثقافت اور تاریخی شعور کے اعتبار سے سرائیکی ہی رہی۔ دادپوترہ عباسی نواب، جو اپنی نسل کو عرب و عراق سے جوڑتے تھے، خود سرائیکی بولتے تھے؛ نواب مظفر خان سدوزئی سرائیکی بولتا تھا؛ آج بھی وسیب کی قدیم پشتون نسلیں اپنی روزمرہ ثقافتی شناخت سرائیکی زبان ہی میں ظاہر کرتی ہیں۔ اس لیے محض نوآبادیاتی یا عسکری بندوبست کے نتیجے میں کسی خطے کو انتظامی طور پر پنجاب میں شامل کر دینے سے وہاں کے کروڑوں لوگوں کی تہذیبی شناخت تبدیل نہیں ہوجاتی۔
کسی بھی زبان یا قومی شناخت کو محض موجودہ سرکاری جغرافیوں یا جدید ریاستی سرحدوں سے نہیں ماپا جاتا بلکہ اس تاریخی خطے سے پہچانا جاتا ہے جہاں صدیوں سے ایک تہذیب اپنے ثقافتی رویوں، زبان، لوک روایت، آثارِ قدیمہ اور اجتماعی شعور کے ساتھ موجود رہی ہو۔ ملتان اور اس کے گرد و نواح کا خطہ اپنی قدیم تہذیبی روایت اور ملتانی یا سرائیکی زبان کے حوالے سے ایک مستقل تاریخی شناخت رکھتا ہے، جبکہ “پنجاب” بطور جدید سیاسی وحدت نسبتاً نئی تشکیل ہے جسے نوآبادیاتی دور میں عسکری و انتظامی ضرورتوں کے تحت منظم کیا گیا۔ رنجیت سنگھ کی حکومت بھی دراصل “خالصہ سرکار” تھی جس کی سرکاری زبان فارسی تھی، نہ کہ پنجابی۔ اس سے قبل اس پورے خطے میں مختلف ریاستی، تہذیبی اور ثقافتی وحدتیں موجود تھیں جنہیں بعد ازاں برطانوی نوآبادیاتی انتظام نے اپنی سہولت کے مطابق ایک نئے انتظامی جغرافیے میں سمو دیا۔ اس لیے سرائیکی وسیب کی تاریخی و تہذیبی شناخت کو محض جدید پنجاب کی سیاسی حدود کے اندر جذب کر دینا نہ تاریخ کے مطابق ہے اور نہ ہی ثقافتی حقائق کے۔

شہزاد عرفان دیاں بیاں لکھتاں پڑھو

About The Author