مئی 15, 2021

ڈیلی سویل۔۔ زمیں زاد کی خبر

Daily Swail-Native News Narrative

جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں ||اشفاق نمیر

ایک آٹھ سال کا بچہ مسجد کے ایک طرف کونے میں اپنی چھوٹی بہن کے ساتھ بیٹھا ہاتھ اٹھا کر اللہ پاک سے دل ہی دل میں نہ جانے کیا مانگ رہا تھا؟کپڑوں میں پیوند لگا تھا مگر

اشفاق نمیر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ایک آٹھ سال کا بچہ مسجد کے ایک طرف کونے میں اپنی چھوٹی بہن کے ساتھ بیٹھا ہاتھ اٹھا کر اللہ پاک سے دل ہی دل میں نہ جانے کیا مانگ رہا تھا؟کپڑوں میں پیوند لگا تھا مگر

کپڑے نہایت صاف تھے اس کے ننھےننھے سے گال آنسوؤں سے بھیگ چکے تھے اس کے رونے کی آواز بہت سے لوگ اس کی طرف متوجہ ہو چکے تھے لیکن وہ بچہ بالکل ان سب سے بےخبر اللہ پاک سے باتوں میں لگا ھوا تھا جیسے ہی وہ بچہ دعا سے فارغ ہوا اور اٹھ کر جانے لگا تو ایک شخص نے بڑھ کر اسکا ننھا سا ہاتھ تھاما اور پوچھا کہ تم اللہ پاک سے کیا مانگ رھے تھے؟

اس بچے نے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا کہ میرے ابو مر گئے ہیں ان کےلئے جنت مانگ رہا تھا میری امی ہر وقت روتی رہتی ہیں ان کے لئے صبر کی دعا کر رہا تھا میری بہن ماں سے نئے کپڑے مانگتی ہے اس کے کپڑوں کے لئے رقم کا مطالبہ کررہا تھا اس اجنبی شخص نے بڑی حیرت سے سوال کیا کیا آپ سکول جاتے ہو؟ بچے نے جواب میں کہا کہ ہاں جاتا ہوں اس شخص نے پوچھا بیٹا کس کلاس میں پڑھتے ہو؟ بچے نے بڑے معصوم لہجے میں کہا نہیں انکل میں پڑھنے نہیں جاتا بلکہ ماں چنے بنا دیتی ہیں وہ چنے سکول کے بچوں کو بیچنے کے لیے جاتا ہوں بہت سارے بچے مجھ سے چنے خریدتے ہیں بس ہمارا یہی کام دھندا ہے اسی سے گزر بسر چلتا ہے امی کہتی ہیں غریب کا کوئی رشتہ دار نہیں ہوتا پتا ہے انکل امی کبھی جھوٹ نہیں بولتی ہیں لیکن انکل جب ہم کھانا کھا رہے ہوتے ہیں اور میں کہتا ہوں امی آپ بھی کھانا کھاؤ تو وہ کہتی ہیں میں نے کھا لیا ہے اس وقت مجھے لگتا ہے کہ میری امی جھوٹ بول رہی ہیں اس اجنبی شخص نے کہا کہ بیٹا اگر گھر کا خرچ مل جاۓ تو تم پڑھوگے؟جس پر بچے نے کہا کہ بالکل بھی نہیں پڑھوں گا کیونکہ جو لوگ تعلیم حاصل کرتے ہیں وہ غریبوں سے نفرت کرتے ہیں

ہمیں آج تک کبھی کسی پڑھے ھوۓ نے نہیں پوچھا کہ کیسے حالات چل رہے ہیں ہمارا حال دیکھ کر پاس سے گزر جاتے ہیں لیکن پوچھتے نہیں ہیں اجنبی شخص یہ سب سن کر بڑا حیران تھا اور پریشان بھی تھا اس بچے نے مزید کہا کہ میں ہر روز اسی مسجد میں آتا ہوں کبھی کسی نے نہیں پوچھا حالانکہ یہاں تمام آنے والے اکثر لوگ میرے والد کو جانتے تھے مگر ہمیں کوئی نہیں جانتا کیونکہ ہم غریب ہیں بچہ زور زور سے رونے لگا انکل جب باپ مر جاتا ہے تو سب لوگ اجنبی بن جاتے ہیں

ایسے کتنے معصوم لوگ ہمارے ارد گرد موجود ھوتے ہیں جو حسرتوں سے زخمی ہوتے ہیں جو اپنی انا کی وجہ سے کسی سے سوال نہیں کرتے ہیں اور غربت کی جہنم میں چپ چاپ جلتے رہتے ہیں لیکن کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے ہیں بس ایک کوشش کیجیے اپنے اردگرد ایسے ضروت مند یتیموں اور بےسہارا کو ڈھونڈئے اور ان کی مدد کیجئے مدرسوں اور مسجدوں میں سیمنٹ یا اناج کی بوری دینے سے پہلے اپنے آس پاس کسی غریب کو دیکھ لیں شاید اسکو آٹے کی بوری زیادہ ضرورت ہو

یہ بھی پڑھیں:

چچا سام اور سامراج۔۔۔ اشفاق نمیر

جمہوریت کو آزاد کرو۔۔۔ اشفاق نمیر

طعنہ عورت کو کیوں دیا جاتا ہے۔۔۔ اشفاق نمیر

مائیں دواؤں سے کہاں ٹھیک ہوتی ہیں۔۔۔ اشفاق نمیر

بچوں کے جنسی استحصال میں خاموشی جرم۔۔۔ اشفاق نمیر

اشفاق نمیر کی مزید تحریریں پڑھیے

%d bloggers like this: