مئی 18, 2024

ڈیلی سویل۔۔ زمیں زاد کی خبر

Daily Swail-Native News Narrative

پاکستان پیپلز پارٹی امید سحر۔۔۔|| بشیر نیچاری

بشیر نیچاری بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سیاسی وسماجی کارکن ہیں، سیاسی سماجی اور عالمی حالات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور مختلف جرائد ورسائل میں لکھتے بھی رہتے ہیں ، انکی تحریریں ڈیلی سویل کے قارئین کی نذر

بشیر نیچاری

@BashirNichari
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سرزمین بلوچستان اپنے قدرتی وسائل، طویل ساحلی پٹی، گیارہ ہزار سالہ پرانی تاریخ وثقافت، قدرتی معدنیات، رنگ برنگی موسم، دریاوں، سمندروں، صحراوں پرمشتمل خطہ پر واقع ہے۔ بلوچستان کے مغرب میں ایران شمال میں افغانستان اور جنوب میں بحریہ عرب واقع ہے۔ سرزمین بلوچستان جو پاکستان کی تقریباً 44 فیصد رقبہ پر مشتمل قدرت کے تمام نعمتوں سے مالامال ایک امیر خطہ ہے۔ جس کی آبادی کم وسائل دوسرے تمام صوبوں سے کئی گنا زیادہ ہیں۔ بلوچستان میں معدنی دولت کی فراوانی کا یہ عالم ہے۔ کہ اس سرزمین میں پوشیدہ جملہ خزانوں کے ساتھ ساتھ یورنیم جیسے معدنی خزانے بھی موجود ہیں۔ اس سرزمین کے نیچے سونا، تانبا اور چاندی کے بےشمار خزانے دفن ہیں۔ اور یہاں سے نکلنے والے گیس سے نہ صرف ہمارے ملک کے کارخانے چلتے ہیں۔ بلکہ ملکی ضرورت کے زیادہ تر گیس کا انحصار بھی بلوچستان پر ہوتی ہے۔

بلوچستان میں چین کی مدد سے تیارکردہ گوادر پورٹ اور سی پیک جیسے عالمی و انقلابی منصوبوں نے بلوچستان کو علاقائی وعالمی تجارت کا مرکز بنادیا ہے۔ سی پیک منصوبے کے تحت لاکھوں لوگوں کے لیے ملازمتوں اور کاروبار کے مواقع پیدا ہونگے۔ بلوچستان کے عوام سیاسی سماجی ثقافتی اور قومی نابرابری ظلم و نانصافی سے طویل عرصے سے آئینی وقانون حقوق سے محروم ہیں۔ اسی بناء پر بلوچستان کے عوام وفاق پاکستان سے ناراض رہتے ہیں۔ لیکن بلوچستان کے عوام کے دکھ اور یہاں کے عوام کو درپیش بنیادی مسائل کے حل کےلیے پاکستان کے تاریخ میں پہلی بار پاکستان پیپلز پانی کے بانی چیئرمین شہید ذوالفقار علی بھٹو جو 70 کے دہانی میں وزیراعظیم بنے تھے۔ تب انہوں نے بلوچستان کے عوام کے مشکلات کو محسوس کرتے ہوئے مختلف اضلاع میں کالجز کے قیام، تفتان تا ایران آرسی ڈی شاہراہ، بلوچستان یونیورسٹی، بلوچستان سیکنڈری ایجوکیشن بورڈ کا قیام، بولان میڈیکل کالج، انجینئر نگ یونیورسٹی خضدار، سوئی گیس ایل پی جی پلانٹ کوئٹہ کے قیام، گڈو سے کوئٹہ بجلی کے ٹرانسمیشن لائن کی فراہمی اور بلوچستان کے بے روزگار نوجوانوں کو پولیس ودیگر وفاقی محکموں میں ملازمت کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات ہر ہمیشہ تاریخ میں یاد رکھیں جائیں گے۔

ذوالفقار علی بھٹو بحثیت وزیراعظم صوبہ بلوچستان کے تمام اضلاع کے دورہ کیا۔ انھوں نے کھلی کچہریوں کا انعقاد کرکے لوگوں کے مسائل کو سننے کے بعد انکے دہلیز پر مسائل کو حل کرنے کے احکامات صادر فرمائے۔ جملہ مسائل پر عوام کے ساتھ مشاورت کرکے درپیش مسائل کو حل کرنے کی کوشش کیا۔

شہید ذوالفقار علی بھٹو کے بعد 2008 میں ایک دفعہ پھر پاکستان پیپلز پارٹی آصف علی زرداری کی قیادت میں وفاق اور بلوچستان میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوا تو انہوں قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو شہید جمہوریت محترمہ بنظیر بھٹو کی فلسفہ پر عمل پیرا ہو کر سابق ڈکٹیٹر جنر ل پرویز مشرف کی بلوچستان کے عوام کے ساتھ کی گئی ناروا سلوک سیاسی کارکنوں کی گرفتاری، ومقدمات، ظالم، و نا انصافیوں، استحصال پر نہ صرف بلوچستان کے عوام سے معافی مانگا بلکہ بلوچستان میں تمام سیاسی لیڈر شپ پر قائم تمام جھوٹے مقدمات کو نہ صرف ختم کیا۔ بلکہ بات چیت کے ذریعے بلوچستان کے سیاسی قائدین کے ساتھ ملکر تمام پارٹیوں سے مشاورت کے بعد بلوچستان کے عوام کے آئینی حقوق کو 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے تحفظ فراہم کیا۔

این ایف سی ایوارڈ سے بلوچستان کو ملنے والے شیئرز جو 4.5فیصد تھے اس کو بڑھا کر 9 فیصد کر دیا گیا۔ صوبے کو وسائل فراہم کرکے بلوچستان کو معاشی طور پر مستحکم کیا گیا بلوچستان کے عوام کے ضرورتوں محرومیوں کو مٹانے اور ان کو قومی دہارے میں لانے کے لئے آغاز حقوق بلوچستان کے نام سے زخموں پر مرہم رکھ کر خوشحالی کے سفر کا آغاز کیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے گئی عملی اقدامات سے نہ صرف آج بلوچستان کے عوام مطمئن ہیں۔ بلکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں بلوچستان کے عوام دی گئی آئینی تحفظ سے آج بلوچستان کے عوام مستفید ہورہے ہیں۔ آغاز حقوق بلوچستان پیکچ کے تحت پانچ ہزار سے زائد لوگوں کو روزگار کی فراہمی، بلاجواز چیک پوسٹوں کی خاتمہ، بلوچستان حکومت کے اٹھارہ ارب روپے قرضوں کی ادایئگی، سی پیک جیسے عظیم منصوبے کی بنیاد رکھی۔ ایسے دیگر اقدامات سے بلوچستان کے عوام کے احساس محرومیوں اور مایوسی کا خاتمہ کرکے بلوچستان کے عوام روشن مستقبل کی نوید سنائی دی۔

تاریخ گواہ ہے پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے ہمیشہ بلوچستان کے عوام کی خدمت کرنے کی وجہ سے بلوچستان کے عوام کے دلوں میں زندہ ہیں۔ آج پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت ایک نڈر اور باصلاحیت نوجوان کر رہا ہے۔ جس کی رگوں میں قائد عوام شہید جمہوریت اور مرد آہن کی خون دوڈ رہی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان میں ایک ناقابل شکست قوت بن چکی ہے۔بلوچستان پاکستان پیپلز پارٹی کا مضبوط قلعہ بن چکا ہے چیرمین بلاول بھٹو اور صدر زرداری بلوچستان پر خصوصی توجہ مرکوز کیے رکھے ہیں۔ بلوچستان کے عوام پاکستان پیپلز پارٹی کو امید سحر سمجھتے ہیں۔

اس سال 30 نومبر کو پاکستان پیپلز پارٹی اپنے 56ویں سالگرہ شالکوٹ (کوئٹہ) میں منارہی ہے۔ سالگرہ کا مرکزی پروگرام کوئٹہ میں منعقد کرنے کا مقصد بلوچستان کے ترقی و خوشحالی کے سفر کو وہاں سے شروع کرنا ہے جہاں 2013 کو پیپلز پارٹی کے حکومت ختم ہوا تھا اور بعد کے حکومتوں نے اس ترقی اور خوشحالی کو ادھورا چھوڑا تھا۔ بلوچستان کے ترقی و خوشحالی کا بیڑہ اٹھاکر نوجوان قیادت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری 30 نومبر کو بلوچستان تشریف لاکر ایک اعظیم الشان جلسہ عام سے تاریخی خطاب کریں گے۔ بلوچستان کے عوام کو اعتماد میں لے کر درپیش بنیادی مسائل کےحل کے حوالے سے اپنی حکمت عملی اور پروگرام دیں گے۔ فروری میں ہونے والے انتخابات کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کی منشور بلوچستان کے عوام سامنے لاکر بلوچستان کے مستقبل کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے اقدامات اور منصوبوں کا بھی اعلان کرینگے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کا تاسیسی جلسہ عام بلوچستان کے تاریخ میں ایک تاریخی سنگ میل ثابت ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے:

منجھلے بھائی جان کی صحافت۔۔۔ وجاہت مسعود

ایک اور برس بڑھ گیا زیاں کے دفتر میں۔۔۔وجاہت مسعود

وبا کے دنوں میں بحران کی پیش گفتہ افواہ۔۔۔وجاہت مسعود

اِس لاحاصل عہد میں عمریں یونہی ڈھلتی ہیں۔۔۔وجاہت مسعود

بشیر نیچاری کی مزید تحریریں پڑھیں

%d bloggers like this: