دسمبر 1, 2022

ڈیلی سویل۔۔ زمیں زاد کی خبر

Daily Swail-Native News Narrative

اٹھاسی کے الیکشن، پمفلٹ، جہاز اور کرایہ||حیدر جاوید سید

حیدر جاوید سید سرائیکی وسیب سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے نامور صحافی اور تجزیہ کار ہیں، وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان کےمختلف قومی اخبارات میں مختلف موضوعات پر تواتر سے کالم لکھ رہے ہیں، انکی تحریریں انہی کی اجازت سے ڈیلی سویل کے قارئین کی نذر کی جارہی ہیں،

حیدر جاوید سید

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہمارے انگنت سابق جیالے اور حاضر انصافی دوست اور قارین (ن) لیگ سے اپنی عداوت کا ’’ساڑ‘‘ نکالنے کے لئے (ن) لیگ کے ماضی کو پھرولتے ہوئے ان دنوں کی راکھ اٹھالاتے ہیں جب ہر خاص و عام (ن) لیگی یہ راکھ اٹھائے جیالوں کو دیوانہ وار تلاش کرتا تھا تاکہ ان کے سروں پر ڈال سکے یہی نہیں ان دنوں تو ہمارے کامریڈ چنگچی نوازشریف کا بھی جی چاہتا تھا کہ وہ پیپلزپارٹی اور بھٹو خاندان کو بحیرہ عرب میں پھینک کر پاکستان کو ’’نشادر ‘‘ کرلیں۔
صحافت و سیاست کے ایک طالب علم کی حیثیت سے ہمیشہ ان دوستوں اور قارین سے عرض کیا کہ ایک تو آپ اپنی حاضر سیاسی کمائی پر (ن) لیگ اور پیپلزپارٹی کو رگیدا کیجئے دوسرا یہ کہ (ن) لیگ پر ’’ساڑ‘‘ نکالنے کیلئے سیاسی تاریخ کے ان دنوں کے اوراق نہ پھرولا کیجئے جنہیں بند کرکے ان دونوں جماعتوں نے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔
سچ یہی ہے کہ ہم یا یہ دوست اور قاری کوئی حق نہیں رکھتے کہ ان دونوں جماعتوں کے ماضی کے اختلافات اور (ن) لیگ جمع آئی جے آئی، کے پیپلزپارٹی کے خلاف ’’جہاد‘‘ کی یادوں کو تازہ کرتے رہنے کی۔
ہاں یہ ضرور ہے کہ جب کسی معاملے میں تاریخی حوالہ درکار ہو تو تاریخ کے بند ابواب میں لکھے حقائق پیش کئے جاسکتے ہیں۔ تاریخ سے انکار لیگی کرسکتے ہیں نہ جیالے اور نہ ہی ’’حاضر‘‘ انصافی اور حقیقی انصافی ۔
تاریخ تو تاریخ ہوتی ہے صاحبو ! ۔ اچھا ویسے ماضی کی بداخلاقیوں کا تاریخی حوالہ پیش کرتے ہوئے اخلاقیات کے حاضر دیوتا اور اس کے پجاریوں کی زبان دانی پر اگر "کسی” کو شرمندگی نہیں ہوتی تو اس کے لئے دعائوں کی ضرورت نہیں۔ بعض امراض لاعلاج ہوتے ہیں
دعائیں معجزہ برپا نہیں کرسکتیں۔
ایک بات اور برصغیر پاک و ہند کے بٹوارے یا اس سے قبل کی تاریخ میں ہوئی زبان دانیوں کا ذکر کرتے ہوئے (ن) لیگ کے ’’جی ٹی روڈ‘‘ پر بریکیں مارنے کی بجائے تاریخ کی کتاب کے اگلے ابواب کے ورقے پھرول لینا صحت اور حافظے کے لئے مناسب علاج ہوگا۔

اس علاج سے ہی ہم یہ جان پائیں گے کہ برصغیر کی (جب متحد تھا) سیاست میں گالم گلوچ، نام بگاڑنے، ہاتھ ملانے کو توہین سمجھنے کی روایات کی بانی مسلم لیگ ہی ہے یعنی آل انڈیا مسلم لیگ۔
اب جو بھی ق، ش، م، ن، ل، ف کے لاحقے والی مسلم لیگ یا کوئی اور خود کو آل انڈیا مسلم لیگ کا روحانی و سیاسی وارث قرار دے گا اسے تاریخ کے ان ’’کچے پکے‘‘ معاملات، بدزبانیوں اور تکبر کا بوجھ بھی اٹھانا پڑے گا۔
فقیر راحموں کا کہنا ہے کہ جب انصافی دوست عمران خان کو جناح صاحب کے بعد دوسرا بڑا لیڈر مانتے ہوئے منوانے پر بضد ہیں تو آل انڈیا مسلم لیگ کی ’’کرنیوں‘‘ کا بوجھ بھی اٹھالیں اس سے ان کی شان میں اضافہ ہوگا۔
بات کچھ طویل ہوگئی مختصراً مکرر عرض کرتا ہوں۔
تاریخ کا حوالہ حق بلکہ برحق ہوتا ہے لیکن تاریخی حوالے کو اپنی زبان درازی کے حق میں دلیل کے طور پر پیش کرنا نفسیاتی مرض ہے۔
مرض کے علاج کے لئے کسی حاذق حکیم سے رجوع کیا جانا چاہیے۔
اب آیئے اس قصے کی طرف جس کے لئے لمبی چوڑی تمیہد باندھنا مجبوری تھی۔ قصہ کیا ہے اس ملک کی سیاسی تاریخ کا سیاہ باب ہے سچ پوچھیں تو بدبودار سیاہ باب، اس سیاہ باپ کا پھر سے تذکرہ یا اسے یاد دلانا طنز کے لئے ہے نہ کسی کی سیاہی ’’دھونے‘‘ کے لئے بطور جواز یاد دلانا ہے۔
وجہ صرف ایک ہے اور وہ ہے ریکارڈ کی درستگی ۔ وجاہت مسعود ہمارے قابل احترام دوست ہیں۔ شخصی احترام کے علاوہ ہمیں ان کی نتھری نتھری اردو بہت پسند ہے ان کے کالم پڑھتے وقت ہمیں اردو معلیٰ کے الفاظ قطار در قطار ملتے ہیں اور خوشی ہوتی ہے کہ حالی و چراغ حسن حسرت کا اسلوب زندہ و تابندہ ہے۔
اپنے ترقی پسند شعور کے ساتھ وجاہت مسعود اب (ن) لیگ یا یوں کہہ لیجئے میاں نوازشریف کو انقلاب کا آخری نشان سمجھتے پیش کرتے ہیں۔
اچھا اس پر برا منانے کی ضرورت بھی نہیں۔ اپنی بوئی ہوئی فصلیں کاٹ اور پکڑ دھکڑ (وہ جس طرح کی بھی ہے) مقدمے تھانے، حوالات، جیلیں، قیدوبند بھگت کر (ن) لیگ سیاسی جماعت کا سفر طے کررہی ہے
ہم اور آپ لاکھ اختلاف کریں اس کے سیاسی وجود سے انکار نہیں کرسکتے۔ ویسے میں تو قبلہ بنی گالوی سرکار کے سیاسی "وجودِ مسعود” سے بھی انکار نہیں کرتا۔
مارکیٹ میں حاضر مال یہی ہے خریدار اپنی اپنی پسند کی دکان پر ہیں، دکان بند کرانے کے لئے "آڑھتیوں” سے سازباز کوئی بھی کرے یہ کاروباری اصولوں کے خلاف ہے ۔
دکاندار کی مرض ہے سودا جس طرح بھی فروخت کرے،گاہک کو بھی آزادی ہونی چاہیے وہ جس مرضی دکان سے سودا لے۔
خیر چھوڑیں ہم برادرم محترم وجاہت مسعود کی بات کررہے تھے ان سے لگ بھگ دو عشروں سے احترام کا رشتہ ہے وہ اچھے لکھاری عمدہ خطیب اور دانشور ہیں۔
کبھی کبھی تاریخ کے معاملے میں ہماری طرح "ڈنڈی” مار جاتے ہیں۔ چلیں یہ بھی کوئی ایسی بڑی بات نہیں ڈنڈی مارنا بہتر ہے تاریخ کے کسی ایک واقعہ اور مکمل انکار سے یا اپنے محبوب کا کج چھپانے کے لئے یہ کہنا کہ لیلیٰ بھی سانولی تھی اور مجنوں کالا کلوٹا۔
ایک دوست نے چند دن قبل وجاہت مسعود کی ایک ویڈیو بھجوائی اس میں وہ 1988ء میں محترمہ بینظیر بھٹو اور محترمہ بیگم نصرت بھٹو کے خلاف اٹھائے گئے طوفان بدتمیزی اور والٹن سے لئے گئے جہاز کے ذریعے پھینکوائی گئی بیہودہ تصاویر کے معاملے میں میاں نوازشریف کو بری الذمہ قرار دے رہے ہیں
کہتے ہیں "نوازشریف نے ان باتوں سے اتفاق نہیں کیا اس کی تمام تر ذمہ داری حسین حقانی پر ہے” ۔ اب ضروری ہے کہ تاریخ کا ریکارڈ درست رکھنے کیلئے معروضات پیش کی جائیں ۔
آگے بڑھنے سے قبل عرض کردوں کہ مجھے اس امر کا احساس ہے کہ (ن) لیگ اور پیپلزپارٹی ماضی کو سات سلام کرکے میثاق جمہوریت کے راستے سے آگے بڑھ رہے ہیں ۔ لیکن تاریخ کو مسخ کیا جائے تو پھر ریکارڈ کی درستگی ضروری ہے۔
ہوا یہ کہ جنرل ضیاء الحق کی حادثاتی موت کے بعد غلام اسحق خان قائم مقام صدر بنے اور جنرل مرزا اسلم بیگ آرمی چیف۔ غلام اسحق خان اور جنرل حمید گل اینڈ کمپنی الیکشن نہیں چاہتی تھی۔
مارشل لاء کی تجویز مرزا اسلم بیگ نے مسترد کردی۔ تب زوروشور سے یہ کہا گیا کہ مرزا اسلم بیگ چونکہ مہاجر تھے اس لئے ان کی خواہشِ مارشل لاء کا کور کمانڈروں نے ساتھ نہیں دیا تھا
لیکن کڑوا سچ یہ ہے کہ نئے آرمی چیف نے ایوان صدر کےاجلاس اور پھر کور کمانڈر کانفرنس دونوں جگہ مارشل لاء اور جمہوری عمل میں سے اپنا وزن جمہوری عمل کے پلڑے میں ڈالا۔ عبوری حکومت کے سینئر وزیر الٰہی بخش سومرو ان کے ہم خیال تھے۔ سومرو صاحب نے ہی ایوبی پریس اینڈ پبلیکیشن آرڈیننس کی جگہ نیا اطلاعاتی قانون نافذ کیا جس سے اخبارات اور جرائد کے ڈیکلریشنوں کی بہار آگئی۔
مارشل لاء کی بجائے سیاسی عمل آگے بڑھانے کے فیصلے پر انتخابات کے انعقاد کا اعلان ہوا تو مارشلائی ’’دیوانے‘‘ حمید گل اینڈ کمپنی نے راتوں رات پیپلزپارٹی کے مقابلہ میں اسلامی جمہوری اتحاد بنوادیا۔
اس اسلامی جمہوری اتحاد کا مرکزی میڈیا سیل میاں نوازشریف کے ماڈل ٹائون والے گھر میں قائم ہوا۔ میڈیا سیل کے سربراہ حسین حقانی تھے۔
اس میڈیا سیل میں اسلام پسند محب وطن جماعتی برانڈ بھٹو دشمن صحافیوں اور دانشوروں کے علاوہ جنرل حمید گل کے بھجوائے ہوئے تین افراد بھی شامل تھے۔
میڈیا سیل کی "تیارکردہ” اشتہاری اخباری اور پمفلٹی مہموں کے علاوہ یہ بھی ذمہ داری تھی کہ وہ آئی جے آئی کے جلسوں کے بڑے مقررین کو بھٹو مخالف ’’مواد‘‘ کے نکات فراہم کرے۔
محترمہ بینظیر بھٹو اور بیگم نصرت بھٹو کے خلاف بیہودہ پمفلٹ اسی میڈیا سیل نے تیار کئے۔ میاں نوازشریف کی منظوری کے بعد ہی والٹن سے کرائے پر جہاز لیا گیا اور پمفلٹ پھینکوائے گئے۔
یہ کہنا کہ میاں صاحب اس سے متفق نہ تھے سفید جھوٹ ہے۔ وجاہت مسعود اس زمانے یعنی 1988ء کی انتخابی مہم کے دوران میاں نوازشریف کی تقاریر کا ریکارڈ نکلواکر دیکھ پڑھ لیں تو انہیں احساس ہوگا کہ وہ اس ساری غلیظ بلیم گیم کا حصہ تھے۔
اس حوالے سے دو باتیں مزید عرض کرنا ضروری ہیں اولاً یہ کہ حسن نثار کے الگ ہونے کے بعد جب بابا مقبول احمد نے مجھے ماہنامہ ’’زنجیر‘‘ لاہور کا ایڈیٹر بنایا تو ہم نے زنجیر کے ایک شمارے میں والٹن سے حاصل کئے جانے والے جہاز کے کرائے کی ادائیگی کے وہ ثبوت پیش کئے جن سے ثابت ہوتا تھا کہ ادائیگی میاں نوازشریف نے کی تھی۔
دوسری بات جہانگیر بدر کے مقابلہ میں آئی جے آئی کے امیدوار حافظ سلمان بٹ (جماعت اسلامی والے) کی علی پارک نزد بازار حسن لاہور والی وہ تقریر ہے جس پر خوش ہوکر میاں نوازشریف نے اگلے روز حافظ سلمان بٹ کو اپنی قیام گاہ پر عشائیہ دیا تھا اور تقریر کی تعریف کی تھی۔
وجاہت مسعود چاہیں تو اس غلیظ ترین تقریر کی کسی سے یا ارشاد احمد امین سے تصدیق کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:

%d bloggers like this: