دسمبر 1, 2022

ڈیلی سویل۔۔ زمیں زاد کی خبر

Daily Swail-Native News Narrative

پلٹ رہے ہیں غریب الوطن، پلٹنا تھا….….|| وجاہت مسعود

’گزشتہ سے پیوستہ‘ کا عنوان درج ہو گا۔ 2018 کا ہائبرڈ بندوبست معیشت کی منطق اور عالمی حقائق سے تصادم میں زمیں بوس ہو چکا ہے۔ تاہم تاریخ کے طالب علم جانتے ہیں کہ یہ عہد عبور ماندگی کا ایک وقفہ ہے۔ اختیار اور وسائل کی میزان بدستور جمہور کے دست ناتواں سے بہت دور ہے۔

وجاہت مسعود

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بے رنگ مایوسی کے طویل برسوں کے بعد تاریخ کی ٹہنیوں پر زرد پتوں نے ذرا سا رنگ بدلا تو اس خوف نے آ لیا کہ ہمارے تجربے میں کتنے ہی ایسے موڑ آئے، جب امید کے مختصر وقفے دیکھتے ہی دیکھتے سازش کے طویل صحرائی منطقوں میں بدل گئے۔ 80ءکی دہائی کے نصف آخر میں، عزیز دوست ضیا الحسن نے لکھا تھا، ’مگر اک غم پس عمر رواں ٹھہرا ہوا ہے‘۔ اس سے بہت برس پہلے منیر نیازی نے یہی دکھ رقم کیا تھا، ’بیت گئے ہیں کئی زمانے جا کر واپس آنے میں‘…. اور منیر نیازی کے ایک ہم عصر احمد مشتاق نے گویا آہستہ سے گرہ لگائی تھی، ’مگر وہ سات برس لوٹ کر نہیں آئے‘۔ نظیر اکبر آبادی پر بھی ایسی ہی ساڑھ ستی اتری ہو گی، ’آج کیا مر گئے گھڑیال بجانے والے‘۔ نظیر نے تو خیر اٹھارہویں صدی کی طوائف الملوکی میں زندگی کی۔ ہمیں تو گوکھلے، جناح، موتی لعل اور آزاد ایسے ’ تیز بین و پختہ کار و سخت کوش‘ مانجھی میسر آئے تھے۔ ہمارا خواب تاحد نگاہ ٹھہرے ہوئے غم میں کیسے مبدل ہوا؟ سید رضی ترمذی یاد آ گئے، جانے کیسا خواب تھا، برسوں بیت گئے۔ تاریخ کے دھارے پر اختیار نہ ہو تو قلم کی باگ پر گرفت کی کیا صورت ہو۔ ضیا الحسن سے چلتے ہوئے بات ترمذی صاحب تک آ پہنچی۔ عرض یہ ہے کہ وسط 2016 میں ایک توسیع سے جو بات چلی تھی، اواخر 2022 میں ایک دوسری نوع کے تان پلٹے تک آن پہنچی ہے۔ ڈان لیکس کا کھیل آڈیو لیکس تک آ پہنچا ہے۔ المیے میں کہیں کہیں طربیے کے آثار نمودار ہوئے ہیں لیکن دلوں کے وسوسے بہرصورت محاصرہ کئے ہوئے ہیں۔
رواں برس مارچ میں عمراں خان حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی خبر نکلی تو برسراقتدار حکومت کا پہلا ردعمل دستور کی شق 95 پر عمل درآمد کو حد امکان تک طول دینا تھا۔ 28 مارچ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں تحریک عدم اعتماد پیش ہونا تھی۔ ایک شام قبل عمران صاحب نے جلسہ عام میں ایک کاغذ لہراتے ہوئے اعلان کیا کہ امریکی حکومت نے ان کی حکومت کے خلاف سازش کی ہے اور یہ مبینہ خط اس دھمکی کا ثبوت ہے۔ یہ چال 30 اپریل 1977 کو پنڈی کے راجہ بازار میں بھٹو صاحب کے امریکی وزیر خارجہ سائرس وانس کا مبینہ دھمکی آمیز خط لہرانے کی بازگشت تھی۔ چند روز بعد نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں کھلا کہ امریکی حکومت کا عمران صاحب کو مبینہ خط دراصل پاکستانی سفیر کا ایک مراسلہ ہے۔ نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اعلامیے میں سازش کا لفظ کہیں استعمال نہیں ہوا کیا گیا۔ تاہم عمران حکومت نے دورہ روس اور پاکستانی سفیر کے مراسلے کا آمیزہ تیار کر کے 4 اپریل کو قومی اسمبلی کا اجلاس ختم کر دیا۔ سپریم کورٹ نے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی رولنگ کو خلاف آئین قرار دیتے ہوئے عدم اعتماد پر ووٹنگ کے لیے 9 اپریل کی تاریخ مقرر کر دی۔ اس روز نصف شب کا گھڑیال بجنے سے چند منٹ قبل قیدیوں کی گاڑی کی گڑگڑاہٹ میں ایاز صادق کو افراتفری میں ووٹنگ کروانا پڑی۔ عمران خان اپنے ساتھیوں سمیت قومی اسمبلی سے مبینہ طور پر مستعفی ہو کر واک آﺅٹ کر گئے اور تب سے ملک بھر میں جلسوں کے ذریعے اپنے سیاسی مخالفین اور ریاستی اداروں میں گٹھ جوڑ نیز امریکی سازش کا راگ الاپتے ہوئے فوری انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اگرچہ وہ اپنے مطالبے کے حق میں کوئی دستوری جواز دینے سے قاصر ہیں۔ ان کے حامیوں کا خیال ہے کہ ایوان اقتدار سے نکلنے کے بعد عمران خان کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ پنجاب، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں تحریک انصاف کی حکومتیں قائم ہیں۔ عمران کے حامیوں نے سوشل میڈیا پر طوفان اٹھا رکھا ہے۔ اس دوران ملک میں سیلاب کی قیامت ٹوٹی مگر عمران صاحب کسی مستورہ ’حقیقی آزادی‘ کے تعاقب میں سرگرداں رہے۔ فوری انتخابات کی صورت نظر نہ آئی تو یہ مطالبہ بھی داغ دیا کہ آئندہ آرمی چیف کی تقرری نئے انتخابات کے بعد کی جائے۔ یہ سب تو ہوا لیکن سیاسی خط تنصیف کے دوسری طرف بھی خاموشی نہیں رہی۔ آئی ایم ایف سے معاہدہ طے پایا جس کے ساتھ مہنگائی کا طوفان اٹھا۔ ڈالر اور تیل کی قیمتیں آسمان کی خبر لائیں۔ رواں ہفتے کے آغاز میں اسحاق ڈار صاحب کی وطن واپسی اور وزارت خزانہ سنبھالنے کی خبر آئی۔ یہ گویا نئی سیاسی بساط کے ابتدائی خطوط کا اعلان تھا۔ اس دوران مختلف آڈیو لیکس کا غلغلہ ہوا۔ اتفاق سے حکومت کی آڈیو لیکس کا مواد بے ضرر نکلا لیکن شوکت ترین کی آڈیو لیک بلاشبہ ملکی مفاد کے منافی تھی۔ پھر عمران خان اور ان کے قریبی ساتھی اعظم خان کی آڈیو لیکس نے مبینہ امریکی سازش کی لٹیا ہی ڈبو دی۔ 29 ستمبر کو مریم نواز اور کیپٹن صفدر کوایون فیلڈ کیس میں بری کرنے کے فیصلے سے سیاسی امکانات کا دروازہ کھل گیا ہے۔ میجر جنرل بابر افتخار اور امریکی سفیر کے مبینہ سائفر کے بارے میں ایک جیسے موقف کا نتیجہ یہ ہے کہ عمران خان نے سازش کا جو کھیل رچایا تھا وہ پے در پے سیاسی تبدیلیوں کی نذر ہو گیا ہے۔ عدالتی فیصلوں کا رخ بتاتا ہے کہ 2017 کے معتوب سیاست دانوں کو اب چور اور لٹیرے قرار دینا آسان نہیں ہو گا۔ عمران خان کے لیے دو تہائی اکثریت تو ایک طرف، شاید قابل ذکر تعداد میں نشستیں جیتنا بھی مشکل ہو۔ نتیجہ یہ کہ آئندہ برس انتخابات میں ایک کمزور حکومت تشکیل پائے گی۔ ہمارے ملک میں انتخابی حرکیات اور عوامی جذبات میں عدم مطابقت کی ایک تاریخ رہی ہے۔ آئندہ برس کے وسط تک بہت سی تبدیلیاں نمودار ہو ں گی جن کے حاشیے پر ’گزشتہ سے پیوستہ‘ کا عنوان درج ہو گا۔ 2018 کا ہائبرڈ بندوبست معیشت کی منطق اور عالمی حقائق سے تصادم میں زمیں بوس ہو چکا ہے۔ تاہم تاریخ کے طالب علم جانتے ہیں کہ یہ عہد عبور ماندگی کا ایک وقفہ ہے۔ اختیار اور وسائل کی میزان بدستور جمہور کے دست ناتواں سے بہت دور ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

منجھلے بھائی جان کی صحافت۔۔۔ وجاہت مسعود

ایک اور برس بڑھ گیا زیاں کے دفتر میں۔۔۔وجاہت مسعود

وبا کے دنوں میں بحران کی پیش گفتہ افواہ۔۔۔وجاہت مسعود

اِس لاحاصل عہد میں عمریں یونہی ڈھلتی ہیں۔۔۔وجاہت مسعود

وجاہت مسعود کی مزید تحریریں پڑھیں

%d bloggers like this: