اپریل 16, 2024

ڈیلی سویل۔۔ زمیں زاد کی خبر

Daily Swail-Native News Narrative

بلوچستان: سب سجدہ ریز ہیں۔۔۔||عامر حسینی

جنرل مشرف نے بلوچ قوم کی اپنے وسائل اور زرایع پیداوار کی لوٹ مار اور قبضہ گیری کے خلاف مزاحمت کا جواب کھلی اور پراکسیز پر مبنی جنگ مسلط کرکے دیا تھا اور اس جنگ میں جبری گمشدگی، ماورائے عدالت قتل سمیت آئین پاکستان کی کھلی خلاف ورزی پر مبنی تعذیب مسلط کی اور بلوچستان میں اتنی بھی جمہوری سیاست کو چلنے نہ دیا جتنی اجازت دیگر صوبوں میں تھی -

عامرحسینی 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سب سے پہلے بلوچستان میں بلوچ قومی سوال پر میرا دو ٹوک اور بالکل واضح موقف ہے کہ میں اس ایشو پر سب سے زیادہ ترقی پسند اور انقلابی اصول کا حامی ہوں اور وہ ہے:
” ہم قوموں کے حق خود ارادیت( جس میں الگ ہونے کا حق بھی شامل ہے) کی حمایت کرتے ہیں”
بلوچستان پر میرے سیاسی موقف کا دوسرا جزو یہ ہے:
"ہم وہاں پر ہر قسم کے نسلی، مذھبی، قومی جبر ، ظلم، استحصال اور وسائل کی لوٹ مار کی سختی سے نہ صرف مذمت کرتے ہیں بلکہ اس کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی مکمل حمایت بھی کرتے ہیں”
اس موقف کا تیسرا اہم جزو یہ ہے:
"ہم بلوچ قوم پر نسلی، قومی جبر کرنے والوں کی ہر کھلی اور خفیہ پراکسی/ گماشتگی کرنے والوں کو بلوچ قوم کے محکوم، مجبور، کچلے ہوئے اور پسے ہوئے عوام کا مجرم سمجھتے ہیں اور انھیں جمہوری سیاست دان ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں”
اس موقف کی روشنی میں ہمارے لیے کسی بھی سیاسی جماعت کا بلوچستان میں قومی جبر میں آلہ کار بننے والوں کو اپنی صفوں میں شامل کرنا نہ تو درست اقدام ہے اور نہ ہی یہ بلوچ قومی سوال کے مستحکم اور پائیدار حل کی طرف جانے والا راستا ہے-
یہاں ریکارڈ کی درستگی کے لیے میں بتانا چاہتا ہوں کہ بلوچستان میں بلوچ قومی سوال کے تناظر میں بلوچ قوم پر جبر و ظلم اور استحصال مسلط کرنے والا حکمران سرمایہ دار طبقہ کے ساتھ بار بار بطور جونیئر شراکت دار کے اقتدار میں شرکت اور مرکز کی امتیازی اور جبر پر مبنی پالیسیوں کے خلاف عملی طور پر کچھ نہ کرنے کے گناہ سے کسی بھی سیاسی جماعت کا دامن پاک نہیں ہے –
جتنی بھی جماعتیں اقتدار میں شریک ہوئیں انھوں نے عملا بلوچستان کو غیرمنتخب ھیئت مقتدرہ کی مرضی و منشا پر چھوڑے رکھا-
جنرل مشرف نے بلوچ قوم کی اپنے وسائل اور زرایع پیداوار کی لوٹ مار اور قبضہ گیری کے خلاف مزاحمت کا جواب کھلی اور پراکسیز پر مبنی جنگ مسلط کرکے دیا تھا اور اس جنگ میں جبری گمشدگی، ماورائے عدالت قتل سمیت آئین پاکستان کی کھلی خلاف ورزی پر مبنی تعذیب مسلط کی اور بلوچستان میں اتنی بھی جمہوری سیاست کو چلنے نہ دیا جتنی اجازت دیگر صوبوں میں تھی –
ملک گیر وفاقی پالیمانی سیاست کی علمبردار سیاسی جماعتوں نے جنرل مشرف کی قیادت میں غیرمنتخب ھیئت مقتدرہ کی جانب سے بلوچستان کو ایک مفتوحہ نو آبادیات کے طور پر چلانے کی پالیسی کے آگے سرنڈر کردیا-
2008ء سے 2013ء تک رہی پی پی پی کی حکومت نے یہ سرنڈر اس وقت کیا جب بدترین ہزارہ شیعہ نسل کشی کی لہر کے دوران ایک دھرنے کی قیادت کرنے والوں نے صدر اور وزیراعظم کو کہا کہ وہ صوبہ سدرن کمانڈر اور کوئٹہ کورکمانڈر کے حوالے کردیں-
اس وقت نواز شریف جو افتخار چودھری اور کیانی سے مل کر پی پی پی کے خلاف ایک مضبوط ٹرائیکا بناچکے تھے کے ساتھ بلوچستان سے خود کو اینٹی اسٹبلشمنٹ اور بلوچ و پشتون کاز کے علمبردار کہلانے والے بزنجو، اچکزئی بھی نواز شریف کے ساتھ کھڑے تھے اور جنھیں آج "باپ والے سیاست دان” کہا جاتا ہے ان کی اکثریت یا تو بطور پراکسی بلوچ سیاسی مزاحمت کرنے والوں میں موت بانٹنے، مخبریاں کرنے کا کام کررہی تھی یا پھر نواز لیگ کا حصہ تھی اور کئی ایک پی پی پی کا جھنڈا اٹھائے کھڑے تھے –
2013ء کے انتخابات کے بعد بلوچستان میں پوسٹر بوائے کے طور پر ڈاکٹر مالک کو چیف منسٹر بلوچستان بنایا گیا اور یہ دعوا کیا گیا کہ بلوچ قوم کے زخموں پر مرہم رکھا جائے گا اور ناراض نوجوان بلوچوں کو واپس لائیں گے، بلوچستان کے وسائل پر بلوچوں کے حق کو عملا مقدم کرکے دکھائیں گے- جبری گمشدگی اور ماورائے عدالت قتل بند ہوں گے – اور اس حکومت میں اچکزئی، فضل الرحمان کا بھی طاقتور حصہ تھا- لیکن عملا بلوچستان میں وہی پالیسی چلتی رہی جسے مشرف دور میں شروع کیا گیا تھا –
پھر 2018ء سے اگست 2022ء تک بلوچستان میں تحریک انصاف کے ساتھ اتحادی باپ پارٹی کا اقتدار آیا ،ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس دور میں اسٹبلشمنٹ نے کسی جمہوری سیاسی لیپا پوتی کے بغیر پورا سیاسی سیٹ اپ ہی اپنا تشکیل دیا اور وہ سارے کردار جو باپ کا حصہ تھے یا پی ٹی آئی کا حصہ بنے وہ اگست 2022ء سے اگست 2023ء تک پی ڈی ایم حکومت کا حصہ بنائیے گئے اور اب انھیں آزادی دی گئی کہ وہ نواز لیگ، پی پی پی کسی کا بھی حصہ بن جائیں –
پی پی پی ، نواز لیگ اور پی ٹی آئی ان تینوں جماعتوں کی بلوچستان بارے پالیسی بڑی حد تک واضح ہے کہ یہ جنرل مشرف دور سے چل رہی غیر منتخب ھئیت مقتدرہ کی پالیسی اور اس کے نفاذ کے میکنزم کے سامنے سرنڈر کیے ہوئے ہیں اور ان کا بین السطور موقف یہ ہے کہ وہ بلوچستان میں اسٹبلشمنٹ سے ہٹ کر کوئی پوزیشن نہیں لے سکتیں

یہ بھی پڑھیے:

ایک بلوچ سیاسی و سماجی کارکن سے گفتگو ۔۔۔عامر حسینی

کیا معاہدہ تاشقند کا ڈرافٹ بھٹو نے تیار کیا تھا؟۔۔۔عامر حسینی

مظلوم مقتول انکل بدرعباس عابدی کے نام پس مرگ لکھا گیا ایک خط۔۔۔عامر حسینی

اور پھر کبھی مارکس نے مذہب کے لیے افیون کا استعارہ استعمال نہ کیا۔۔۔عامر حسینی

عامر حسینی کی مزید تحریریں پڑھیے

(عامر حسینی سینئر صحافی اور کئی کتابوں‌کے مصنف ہیں. یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے ہے ادارہ کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں)

%d bloggers like this: