اپریل 16, 2024

ڈیلی سویل۔۔ زمیں زاد کی خبر

Daily Swail-Native News Narrative

راگ پہاڑی اور راگ پیلو ۔۔۔۔۔ ایک یاد۔۔۔||عامر حسینی

لڑکپن میں، میں بار بار مہدی حسن کی گائی غزل ' جو تھکے تھکے سے تھے حوصلے' سنا کرتا اور ایسے ہی 'بات کرنی مجھے مشکل ایسی تو نہ تھی' سنا کرتا- اور نصرت فتح علی خان کی گائی غزل ' ہم سے فراقؔ اکثر چھُپ چھُپ کر پہروں پہروں روؤ ہو' بعد میں کہیں جاکر پتا چلا کہ مہدی حسن کی گائی دونوں غزلیں پہاڑی راگ میں اور نصرت کی گائی غزل 'پیلو راگ' میں تھیں۔

عامرحسینی 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں اکثر اپنے لڑکپن کے زمانے کو یاد کرتا ہوں تو گرمیوں میں گھر کی چھت پر ہیڈفون لگا کر سونی کے ٹیپ ریکاڈر پر ایسی غزلیں سنا کرتا تھا جو مجھ بیک وقت متضاد جذبات کو جنم دیا کرتی تھیں- کہیں تو ایک گہری شانتی و سکون کا احساس ہوتا تو ساتھ ہی کرب کی لہر آتی جاتی محسوس ہوا کرتی اور اس کے ساتھ سوگواری، ملال بھی ۔ اس زمانے میں مجھے موسیقی کی فنّی معلومات بہت ہی کم تھیں اورمجھے راگ راگنیوں بارے بنیادی شد بد بھی نہیں تھی لیکن کچھ غزلوں کی گائیگی مجھے بڑی طرح سے اپنے سحر میں جکڑ لیا کرتی تھیں- مجھ پر متضاد جذبات لیے جمالیات غالب آجاتی تھی- ان دنوں اپنے اوپر طاری جذبات کی تفہیم اور تشریح میں ایسے کبھی نہ کرپاتا جیسے آج کر پا رہا ہوں۔ پھر مجھ پر یہ راز دھیرے دھیے کھلا کہ اکثر جن غزلوں کی گائیگی مجھے جکڑ لیتی اور متضاد جذبات کی جمالیات سے میں لطف اٹھتا وہ بنیادی طور پر تین راگ میں گائی جانے والی غزلیں تھیں۔ ان میں سب سے زیادہ جو غزلیں میں سنا کرتا ان میں زیادہ تر ‘راگ پہاڑی’ استعمال ہوا تھا اور پھر دوسرا راگ ‘پیلو’ تھا اور یہ دونوں راگ شام کو گائے جانے والے راگ تھے اور بعد میں ان دونوں راگوں میں، اختر بائی فیض آبادی، استاد بڑے غلام علی خاں، مہدی حسن، غلام علی و دیگر کی گائی ٹھمریاں بھی سنیں-
لڑکپن میں، میں بار بار مہدی حسن کی گائی غزل ‘ جو تھکے تھکے سے تھے حوصلے’ سنا کرتا اور ایسے ہی ‘بات کرنی مجھے مشکل ایسی تو نہ تھی’ سنا کرتا- اور نصرت فتح علی خان کی گائی غزل ‘ ہم سے فراقؔ اکثر چھُپ چھُپ کر پہروں پہروں روؤ ہو’ بعد میں کہیں جاکر پتا چلا کہ مہدی حسن کی گائی دونوں غزلیں پہاڑی راگ میں اور نصرت کی گائی غزل ‘پیلو راگ’ میں تھیں۔
ایک بار میرا ایک دوست جس نے مجھے موسیقی کی فنّی نزاکتوں میں سے کچھ سے آشنا کیا کہنے لگا کہ ‘پہاڑی اور پیلو راگ ‘ اس عاشق کی طرح ہیں جو قرب و فراق دونوں حالتوں میں اپنے محبوب کے حوالے سے گہرے سکون میں رہتا ہے۔ اسے ابدی وصل پر یقین ہوتا ہے تب ہی وقتی جدائی و فراق کو تقدیر مان لیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

ایک بلوچ سیاسی و سماجی کارکن سے گفتگو ۔۔۔عامر حسینی

کیا معاہدہ تاشقند کا ڈرافٹ بھٹو نے تیار کیا تھا؟۔۔۔عامر حسینی

مظلوم مقتول انکل بدرعباس عابدی کے نام پس مرگ لکھا گیا ایک خط۔۔۔عامر حسینی

اور پھر کبھی مارکس نے مذہب کے لیے افیون کا استعارہ استعمال نہ کیا۔۔۔عامر حسینی

عامر حسینی کی مزید تحریریں پڑھیے

(عامر حسینی سینئر صحافی اور کئی کتابوں‌کے مصنف ہیں. یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے ہے ادارہ کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں)

%d bloggers like this: