اپریل 16, 2024

ڈیلی سویل۔۔ زمیں زاد کی خبر

Daily Swail-Native News Narrative

خان صاحب کی تین غلطیاں ۔۔۔||حیدر جاوید سید

حیدر جاوید سید سرائیکی وسیب سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے نامور صحافی اور تجزیہ کار ہیں، وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان کےمختلف قومی اخبارات میں مختلف موضوعات پر تواتر سے کالم لکھ رہے ہیں، انکی تحریریں انہی کی اجازت سے ڈیلی سویل کے قارئین کی نذر کی جارہی ہیں،

حیدر جاوید سید

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پچھلے ایک برس سے بالخصوص اور عشرہ بھر سے بالعموم عمران خان صاحب کی خدمت میں یہی عرض کرتا آرہا ہوں کہ سیاسی عمل میں نفرتوں کی سوداگری منفی رویوں کو پروان چڑھاتی ہے۔ سیاسی عمل میں آگے بڑھنے کی دو بنیادی شرائط ہیں اولاً سیاسی مخالفین کے وجود کی حقیقت کو برداشت کرنا اور ان سے مختلف امور پر بات چیت کرتے رہنا۔

بدقسمتی سے صاحب خان کا خیال یہی تھا اور اب بھی ہے کہ میرے سوا کسی کا وجود ہی نہیں۔ یہ تو سب چور ڈاکو لٹیرے ہیں۔

بطور وزیراعظم انہوں نے قومی سلامتی کمیٹی کے متعدد اجلاسوں میں اپنی عدم شرکت کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا ’’میں وہاں جاتا تو مجھے ان چوروں سے ہاتھ ملانا پڑتا یہ میری 32سالہ جدوجہد کی توہین ہوتی‘‘۔

حالانکہ خان صاحب جنہیں چور ڈاکو لٹیرے دھرتی پر بوجھ قرار دیتے آئے ہیں ان کی کرپشن کے حوالے سے خود اعتراف کرچکے کہ مجھے تو یہ ثبوت ایجنسیوں نے دیکھائے تھے۔ جب انہی ایجنسیوں میں سے ایک کے سربراہ نے انہیں ان کی اہلیہ، اہلیہ کی سہیلی اور چند دیگر رفقا کی کرپشن کے دستاویزاتی ثبوت بمعہ چند ویڈیوز پیش کئے تو وہ ہتھے سے اکھڑ گئے۔

پھر کیا ہوا یہی کہ انہوں نے اس ایجنسی چیف کو اس کے منصب سے ہٹادیا وہ بھی 8ماہ بعد جبکہ تقرریوں کے ضابطے کے حساب سے یہ تقرری تین سال کے لئے ہوتی ہے۔

پچھلے برس اقتدار سے نکالے جانے کے بعد سے انہوں نے سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا ان کا خیال تھا کہ مقبولیت کے ہمالیہ پر کھڑے ہیں کوئی بھی ان کے دبائو کی تاب نہیں لاسکے گا۔ اسی عرصے میں تواتر کے ساتھ ان سطور میں عرض کیا، سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کے بغیر انہیں حاصل وصول کچھ نہیں ہونا لیکن وہ اور ان کے حامی ہوا کے گھوڑے پر سوار تھے۔ ہر مخالف کا نفرت و حقارت سے ذکر کرتے تمسخر اڑاتے ہوئے فرمایا کرتے تھے ان کی کوئی حیثیت نہیں۔

اصولی طور پر انہیں 2018ء کی الیکشن مینجمنٹ کے جھرلو کے باوجود مخالفین کو پڑنے والے ووٹروں کو مدنظر رکھنا چاہیے تھا۔ یہ ووٹر واہگہ کے اُس پار سے ہرگز نہیں آئے تھے اسی ملک میں بستے ہیں ۔

جس کرپشن اور اقربا پروری کے خلاف وہ 22سال جدوجہد کرتے رہے وہ ان کے دور میں بھی ختم نہ ہوپائی ایک سے بڑھ کر ایک سکینڈل موجود ہے دو سکینڈلوں میں تو وہ خود ملوث ہیں۔ 190پائونڈ کا معاملہ اور توشہ خانہ سکینڈل ۔

داغ اور بھی ہیں یہاں تک کہ ان کے خاندان کی خواتین تک پر سنگین الزامات ہیں۔ اب اگر یہ الزامات بقول ان کے جھوٹے اور من گھڑت ہیں تو وہ کیسے "ایمان مفصل” قرار پائیں گے جو بقول ان کے انہیں ایجنسیوں نے بتائے سمجھائے تھے۔

اقتدار میں آنے اور رخصت ہونے کے درمیانی عرصہ اور پچھلے ایک برس کے دوران کی ان کی سیاست مخالفین کا تکبرونفرت کے ساتھ ذکر کرنے اور دھمکاتے رہنے سے عبارت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ آج سیاسی تنہائی سے دوچار ہیں۔ یہ سیاسی تنہائی جس تجزیہ کی متقاضی ہے اس کی استطاعت سے وہ محروم ہیں۔

اپنے لانے والوں سے الجھتے بلکہ ان کا گریبان پھاڑتے وقت وہ یہ نہیں سمجھ پائے کہ الیکشن مینجمنٹ کی قوت سے جو انہیں لائے وہ کیا نہیں کرسکتے۔

سال بھر کی تقاریر بیانات اور انٹرویوز سے انہوں نے اپنے حامیوں کی جو ذہن سازی کی اس کی بدولت ان کے حامی براہ راست ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے جابھڑے۔ 9 اور 10 مئی کو بھڑ جانے کے اس جہاد پر دادوتحسین پیش کرکے مصائب پڑھنے والے مجال ہے کہ کسی زیرعتاب آنے والے شخص کے خاندان کی مدد کرسکیں۔

میرے خیال میں عمران خان سے تین غلطیاں ہوئیں۔

پہلی یہ کہ انہوں نے خود کو ناگزیر سمجھ لیا اور ہر شخص کو حقارت سے دیکھا۔ دوسری یہ کہ انہوں نے نہ صرف خود سیاسی بلوغت کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ اپنے حامیوں کی بھی سیاسی تربیت نہیں کی۔ تیسری یہ کہ انہیں اندازہ ہی نہیں ہوا کہ سکیورٹی سٹیٹ میں موجود رہ کر جیسے تیسے سیاسی عمل میں اپنے کردار کوقائم کیسے رکھا جاتا ہے۔

ان تین غلطیوں کے نتائج ان کے سامنے ہیں۔ امید تو نہیں وہ وہ ان نتائج سے سبق سیکھ پائیں گے کیونکہ سیکھنے سمجھنے کو وہ اپنی توہین سمجھتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ’’میں سب جانتا ہوں‘‘ کے زعم کا شکار ہیں۔ جب تک وہ اس سے نجات نہیں حاصل کرلیتے معاملات کو سمجھنے سیاسی سلیقے سے انہیں آگے نہیں بڑھاپائیں گے

لمحہ موجود میں وہ جہاں کھڑے ہیں یہ قابل فخر مقام نہیں حالت یہ ہے کہ جو شخص اب بھی یہ کہہ رہا ہو کہ ’’میں اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنا چاہتا ہوں لیکن وہ میری بات سننے کو تیار نہیں‘‘ اسے کون سمجھاسکتا ہے کہ لاریب اسٹیبلشمنٹ ایک حقیقت ہے لیکن بات چیت سیاسی حریفوں سے کی جاتی ہے۔ سیاسی حریف وہ کسی کو تسلیم نہیں کرتے۔

یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ وہ اپنے خیالات زعم اور دستیاب طاقت سمیت خود کو بند گلی میں لے آئے ہیں۔ اس بند گلی سے نکلنے کے لئے دیواروں کو ٹکریں مارنی ہیں یا ایک قدم پیچھے ہٹ کر دو قدم آگے بڑھنا ہے یہ بنیادی بات سمجھنے سے وہ عاری ہیں جبکہ انہیں سمجھنا چاہئے کہ اگر زمین پر موجود سارے کرداروں کو دشمن بنالیں گے تو بچائو کا راستہ نہیں ملے گا۔

اس لئے مناسب یہی ہوگا کہ خان صاحب تدبروتحمل کے ساتھ اپنی غلطیوں کا تجزیہ کریں۔ بجا کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ سب غلط ہیں بس میں ٹھیک ہوں۔ معاف کیجئے گا یہ سوچ درست نہیں اچھائیاں اور خامیاں سب میں ہوتی ہیں۔

فی الوقت ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ پہلے اپنی اصلاح کریں انا اور تکبر کے ہمالیہ سے نیچے آکر زمین پر کھڑے ہوں۔ دوسرا کام انہیں یہ کرنا ہے کہ اپنی جماعت کو سیاسی خطوط پر منظم کریں اپنے ساتھیوں کی سیاسی تربیت کریں صاف سیدھے لفظوں میں یہ کہ برداشت کریں تاکہ برداشت کئے جائیں۔

تیسرا کام انہیں یہ کرنا ہوگا کہ ایک طرف وہ اپنے سیاسی مخالفین سے مذاکرات کا آغاز کریں اور اس کے ساتھ ہی اپنی اور ساتھیوں کی توانائی کو سیاسی عمل میں بروئے کار لائیں۔ سکیورٹی سٹیٹ سے براہ راست لڑا نہیں جاسکتا۔ مربوط حکمت عملی کے ساتھ اس سے اپنا وجود منوایا جاتا ہے۔

مربوط حکمت عملی سیاسی شعور سے عبارت ہوتی ہے نفرت گالی اور چڑھ دوڑنے سے ہرگز نہیں۔ اسی طرح انہیں کچھ وقت نکال کر پچھلے ایک برس کی اپنی قلابازیوں (یوٹرنز) کا بغور جائزہ لینا ہوگا۔

جو بات سب سے پہلے سوچنا ہوگی وہ یہ ہے کہ آخر کیوں وہ حریف سیاسی جماعتوں کی بجائے صرف فوجی قیادت سے بات کرنا چاہتے ہیں؟ کیا وہ پھر سے اس کی چھتر چھایہ میں کردار حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں؟

ایسا ہے تو پھر وہ تجزیہ کریں کہ کیا وہ اپنے پونے چار برسوں کے اقتدار میں سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی توقعات پر پورا اتر پائے؟ اگر وہ صرف اس ایک نکتہ پر غور کرنے کے بعد ملنے والے جواب سے مستقبل کے لئے حکمت عملی وضع کریں تو ان کی سیاسی تنہائی ختم ہوسکتی ہے۔

ثانیاً یہ کہ وہ دل و دماغ کی کھڑکیاں کھولیں اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ نفرتوں کا سودا ایک خاص موسم میں تو ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوتا ہے لیکن محبت، احترام ، مکالمہ، مفاہمت، برداشت ہمیشہ کی ضرورتیں ہیں یقیناً وہ براہ راست 9 اور 10 مئی کے واقعات کے ذمہ دار نہیں ہوں گے مگر پچھلے ایک برس کے دوران ان کے دہن سے جو آگ برستی رہی وہ ان واقعات کی ذمہ دار ہے۔

انہوں نے گزشتہ روز کہا ’’پاکستان میں زبردستی کی شادیوں بارے تو سن رکھا تھا مگر تحریک انصاف کیلئے جبری طلاقوں کا نیا رجحان متعارف کرادیا گیا ہے‘‘۔

ذرا سینے پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کیا یہ جبری طلاقیں ان زبردستی کی شادیوں کا انجام نہیں جو اکتوبر 2011ء کے بعد اسٹیبلشمنٹ دھوم دھڑکے سے کرواتی رہی؟

بہت احترام کے ساتھ ان کی خدمت میں عرض کرنا پڑے گا کہ خان صاحب یہاں بھی آپ ڈنڈی مار گئے ورنہ آپ کو تو پتہ ہے کون سی شادی ویڈیو کی دھونس پر ہوئی کون سی بشارت کی بدولت، کونسی ٹیلیفون پر دی گئی دھمکی سے اور کون سی اغوا برائے تاوان کی طرز پر یا پھر جہانگیر ترین کے جہازوں میں ڈی پی او اور ڈپٹی کمشنروں کے تعاون سے ہوئیں۔

اس لئے باردیگر مشورہ یہی ہے کہ زمینی حقائق کے ساتھ اپنی غلطیوں کو سمجھنے کی کوشش کیجئے تاکہ اس سیاسی تنہائی کی مدت کم سے کم ہوسکے۔

یہ بھی پڑھیں:

%d bloggers like this: