ستمبر 27, 2021

ڈیلی سویل۔۔ زمیں زاد کی خبر

Daily Swail-Native News Narrative

افغان طالبان کا ابھار، تکثریت مخالف عسکری اسٹبلشمنٹ اور ترقی پسند ||عامر حسینی

پاکستان میں اس وقت برسراقتدار پاکستان تحریک انصاف کی حکومت افغان طالبان کا ہر طرح سے خیرمقدم کررہی ہے۔ وہ پاکستان میں اسلام کی عسکریت پسند اور جہادی تعبیر کے حامی حلقوں کو یہ تاثر دینے کی کوشش میں ہے کہ وہ بھی پاکستان کو حقیقی اسلام پسند ریاست بنانے کے لیے کوشاں ہے۔

عامرحسینی 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

پاکستان افغانستان میں افغان طالبان کے برسراقتدار آنے کے بعد سے علاقائی اور بین الاقوامی طاقتوں کا مرکز نگاہ بنا ہوا ہے۔ ستمبر کے دوسرے ہفتے میں پاکستان میں افغانستان کے چھے ہمسایہ ملکوں کا بننے والے ورکنگ گروپ کا نمائندہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اس ورکنگ گروپ میں چین، ایران، پاکستان، ازبکستان، تاجکستان اور ترکمنستان شامل ہیں۔

 

اس اجلاس سے اگلے روز 11 اور 12سمبر کو آئی ایس آئی کی میزبانی میں جنوبی ایشیا کے آٹھ ممالک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا اجلاس ہوا جن میں چین، روس، پاکستان، ایران، تاجکستان، ازبکستان، ترکمانستان اور قازستان  کی انٹیلی جنس ایجنسیاں شامل تھیں۔

 

ستمبر کے مہینے میں ہی آئی ایس آئی کے سربراہ سے امریکی انٹیلی جنس ایجنسی کے چیف کی اسلام آباد میں دوسری بار ملاقات ہوئی ۔

 

ان اجلاسوں میں کیا بات ہوئی ؟ پاکستان سمیت کسی بھی ملک کی طرف سے اس حوالے سے سرکاری طور پر کوئی پریس ریلیز جاری نہیں ہوئی ۔ یہ بات اپنی جگہ پر تجزیہ نگاروں کے لیے حیرانی کا سبب بنی ہوئی ہے۔

 

ایران کا پاکستان کے بنائے ورکنگ گروپ میں شمولیت اور علاقائی انٹیلی جنس اجلاسوں میں شرکت نے اس تاثر کو کم کیا جو ایران کی اقدس سربراہ کی پارلیمنٹ کو دی گئی ان کیمرہ بریفینگ اور ایرانی وزرات خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ کی پنج شیر کے اشو پر بریفینگ میں پاکستان بارے بیان سے پیدا ہوا تھا ۔

 

افغانستان کے مسئلے پر اس وقت پاکستان اور بھارت کے درمیان لفظوں کی جنگ جاری ہے۔ ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ جاری ہے۔ ہندوستان کے مین سٹریم میڈیا جس میں لبرل اور دائیں بازو دونوں طرف کے تجزیہ نگاروں  میں پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی اور افغان طالبان کا عالمی جہادی(دہشت گرد) نیٹ ورک سے تعلق بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا مقابلہ جاری ہے۔

 

پاکستان میں دائیں بازو کی ترجمانی کرنے والا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پاکستان کی افغان طالبان کی حمایت کو اپنے ہی فریم ورک میں رکھ کر پیش کررہا ہے ۔ وہ اسے عالمی جہاد ازم ، جہاد افغانستان اور جہاد کشمیر کے تحت بنائے جانے والے تصورات کے تحت پیش کررہا ہے۔

 

پاکستان میں مین سٹریم اور سوشل میڈیا میں لبرل اسٹبلشمنٹ سے تعلق رکھنے والے اکثر تجزیہ نگار بھارتی لبرل و دائیں بازو کے درمیان اشتراک سے بننے والے بیانیہ کے بہت قریب نظر آتے ہیں ۔ وہ افغان طالبان کو محض پاکستان کی پراکسی کے طور پر دیکھ رہے ہیں ۔ اور بدلتے تناظر میں افغان طالبان کے علاقائی اور بین الاقوامی طاقتوں سے تعلقات اور افغان طالبان کے علاقائی اور بین الاقوامی جہادی تنظیموں سے تعلقات کے درمیان پائے جانے والے مرکب تعلقات کو نظر انداز کیے ہوئے ہیں۔

 

کیا پاکستان کی سیکورٹی اسٹبلشمنٹ اور پاکستانی دائیں بازو کا ترجمان پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا ایک پیج پر ہیں؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو بہت سی پیچیدگیوں کا حامل ہے ۔ اس کا یک خطی جواب دیا جانا مشکل ہے۔

 

افغان طالبان علاقائی ممالک میں اس وقت چین، روس، پاکستان، ایران، وسط ایشیائی ریاستوں (جن میں چار سے اس کی سرحد ملتی ہے)، مشرق وسطی میں قطر ، ترکی ، فلسطین کی اسلامی  جہادی تنظیم حماس سے اعلانیہ برادرانہ تعلقات کے حامل ہیں ۔

 

سعودی عرب کے بلاک میں شامل متحدہ عرب امارات سے افغان طالبان کے تعلقات کافی بہتر ہیں ۔ یو اے ای ترکی کے ساتھ مل کر کابل ائرپورٹ کو فکشنل کرنے کے عمل میں افغان طالبان کا شریک ہے۔ سعودی عرب سے اس کے تعلقات کس نہج پر ہیں؟ یہ معاملہ اب تک واضح نہیں ہوسکا ہے۔ لیکن سعودی عرب  امریکہ- افغان طالبان کے درمیان دوحہ معاہدے کی حمایت کرچکا ہے۔

 

پاکستان کی اب تک کی کوششوں سے نظر یہ آرہا ہے کہ پاکستان چاہتا ہے کہ افغان طالبان تحریک طالبان پاکستان کا بیس کیمپ پاکستان سے ملنے والی سرحد کے پاس واقع افغان صوبوں میں نہ بننے دے۔ افغان طالبان نے ابھی تک تحریک طالبان پاکستان جس کے سربراہ نور ولی محسود نے افغان امارت اسلامیہ کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ کے ہاتھ پر بیعت کی تجدید کی ہے سے اپنی لا تعلقی کا کوئی سرکاری اعلان جاری نہیں کیا۔

 

پاکستان افغان طالبان سے اپنی مغربی سرحدوں سے جہادی تنظیموں کی پاکستان میں مداخلت روکنے کے لیے سرحد کے دونوں اطراف خاطر خواہ اقدامات اور انٹیلی جنس شئیرنگ چاہتا ہے۔ وہ سی پیک روٹ کا تحفظ بھی چاہتا ہے۔ وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ افغان طالبان بلوچ علیحدگی پسند مسلح تنظیموں کے بیس کیمپ بھی اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں نہ بننے دے۔

 

چین کی سب سے بڑی دلچسپی جہاں سی پیک کو وسعت دے کر افغانستان تک لیجانے میں ہے وہیں یہ چاہتا کہ افغان طالبان ایغور چینی جہادی نیٹ ورک کی افغانستان میں کوئی پناہ گا ہ موجود نہ ہو۔

 

روس اور وسط ایشیائی ریاستیں افغانستان کے اپنے ساتھ کراسنگ باڈرز سے چاہتی ہیں کہ ایسے جہادی گروپ داخل نہ ہوں جو مبینہ طور پر امریکی مفادات کے تحت ان ممالک میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے کام کررہے ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ چاہتے ہیں کہ افغان طالبان افغانستان سے القاعدہ و داعش جیسی تنظیموں کو ان ممالک میں داخل ہونے سے روکیں۔

 

امریکہ میں جو بائيڈن کی قیادت میں موجود امریکی انتظامیہ افغان طالبان سے عملیت پسندانہ تعاون برقرار رکھنے کی خواہش مند ہے۔ وہ سابقہ افغان حکومت میں شامل اپنے حامی دھڑوں کو مستقبل کے مستقل افغان حکومتی سیٹ اپ میں شامل رکھنے پہ زور دے رہی ہے۔

 

لیکن امریکی انتظامیہ عملیت پسندی کے نام پر سابق رجیم کے دھڑوں کو ان کے حال پر چھوڑ کر افغان طالبان سے ورکںگ ریلشن شپ بنانے سے دریغ نہیں کرے گی اگر افغان طالبان نے ان کے مفادات کا خیال رکھا۔

 

افغان طالبان کا سب سے بڑا امتحان افغانستان کو اپنے ہمسایہ ملکوں اور امریکہ جیسی عالمی قوت  کے خلاف کسی مسلح دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے بچانے کا ہے۔ اور ان ممالک کے درمیان جو باہمی کشاکش ہے اس میں اپنے آپ کو غیر جانبدار رکھنے کا بھی ہے۔

 

افغان طالبان کے سامنے اندرونی اور خارجی سطح پر دوسرا بڑا چیلنج علاقائی اور عالمی سطح پر کام کرنے والی سرگرم اسلامی تحریکوں اور ان کی جہادی تنظیموں کے سامنے ایک اسلامی تحریک کے طور پر اپنا تاثر برقرار رکھنا اور جہاد اسلامی کی آئیڈیا لوجی پر عمل پیرا رہنے والی تنظیم کا ہے۔

 

کیا افغان طالبان اخوان المسلمون ، جماعت اسلامی ، حزب اللہ ، حماس کے پیٹرن پر اپنے آپ کو ماڈریٹ اسلامی تحریک کے طور پر ایک ملک پر حکومت کرنے والی اسلامی قدامت پرست مگر کسی حد تک ماڈریٹ تنظیم و تحریک کے طور پر پیش کریں گے جیسا کہ وہ اپنے آپ کو ایسا ہی پیش کررہے ہیں ؟ اگر وہ پرانی اسلامی تحریکوں کے قدرے ماڈریٹ پیٹرن پر چلے تو دوسرا سوال یہ ہوگا کہ پھر وہ القاعدہ جیسی تنظیموں کے ردعمل سے خود کو کیسے بچائیں گے؟

افغان طالبان کی قیادت اب تک اپنے دائرہ کار کو افغانستان تک محدود کرنے کی سوچ پر عمل پیرا ہیں – وہ 1996ء کے ماڈل پر افغانستان کے اندر اپنے زیرکنٹرول علاقوں میں جہاں شیعہ اقلیتوں کو محدود پیمانے پر مذہبی آزادی دینے کی بات کررہے ہیں وہیں پہ وہ اس مرتبہ افغانستان کے کسی علاقے میں  اپنے ہمسایہ ملک کی کسی اینٹی شیعہ یا اینٹی صوفی سنّی دہشت گرد تنظیموں کو کاروائی کی اجازت دینے پہ تیار نظر نہیں آتے ہیں ۔ حال ہی میں افغان طالبان کے بدری گروپ نے داعش اور القاعدہ برصغیر کے کئی ایک لڑاکوں کو گرفتار بھی کیا ہے۔

 

القاعدہ میں ایمن الظواہری کے دست راست امین الحق کے بارے میں یہ کہا جارہا ہے کہ وہ کابل پر افغان طالبان کے کنٹرول کے بعد افغان طالبان کے امیر ہبت اللہ خان اور حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی سے ملاقات کرنے قندھار پہنچے ہیں۔  القاعدہ نے افغان طالبان کے کابل پر دوبارہ کنٹرول کا خیرمقدم کیا ہے۔ افغان طالبان نے بھی اب تک سرکاری طور پر القاعدہ کو دہشت گرد تنظیم قرار نہیں دیا ہے اور نہ ہی اپنی تنظیم کے القاعدہ سے تعلقات ختم ہونے کا اعلان کیا ہے۔ افغان طالبان نے اس ابہام کو برقرار رکھا ہے تاہم وہ بار بار اس بات کا اعادہ کررہے ہیں کہ وہ افغانستان کی سرزمین کو کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ لیکن کیا افغان طالبان اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں القاعدہ کے لوگوں کو کہیں اور جانے کا کہیں گے؟ اس سوال کا سردست جواب دیا جانا ممکن نہیں ہے۔

 

پاکستان میں اس وقت برسراقتدار پاکستان تحریک انصاف کی حکومت افغان طالبان کا ہر طرح سے خیرمقدم کررہی ہے۔ وہ پاکستان میں اسلام کی عسکریت پسند اور جہادی تعبیر کے حامی حلقوں کو یہ تاثر دینے کی کوشش میں ہے کہ وہ بھی پاکستان کو حقیقی اسلام پسند ریاست بنانے کے لیے کوشاں ہے۔

 

یکساں نضاب تعلیم کو رائج کرنے کا ایک مقصد تعلیمی اداروں میں حقیقی اسلام کی تعلیمات کا آئینہ دار نصاب تشکیل دینا بتایا جارہا ہے جس کی سندھ حکومت نے مخالفت کی ہے۔ جبکہ وفاقی تعلیمی اداروں میں مرد اور خواتین اساتذہ کے لیے جینز کی پینٹ اور ہاف سیلوز شرٹ پہننے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ جبکہ خواتین اساتذہ اور خواتین طلبا کو حجاب پہننا لازمی قرار دیا ہے۔

 

پنجاب حکومت کی جانب سے صوبائی اسمبلی میں ایک بل پاس کیا گیا ہے جسے بظاہر اسلام کی مقدس شخصیات کے احترام کو ممکن بنانے کی کوشش قرار دیا گیا ہے لیکن اس بل پر صوفی سنّی اور شیعہ مسلمانوں برادریوں کی طرف سے تنقید کا سامنا ہے۔ جبکہ پنجاب اور کے پی کے نصاب تعلیم میں اسلامیات کی کتاب سے یوم عاشور و عید میلاد النبی  اور اہل بیت کی شخصیات پر مضامین کو شامل نہ کیے جانے  پر بھی صوفی سنّی اور شیعہ مسلمان برادریوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

 

پاکستان میں حکومت کی افغان طالبان کی حمایت اور تعلیمی اداروں میں مخصوص ڈریس کوڈ اور نصاب تعلیم میں مذہبی اعتبار سے کی جانے والی تبدیلیوں پر جہاں صوفی اسلام اور شیعہ اسلام کے ماننے والوں کی طرف سے تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے وہیں لبرل، جمہوری ، سیکولر ، بایاں بازو سے تعلق رکھنے والے اسے پاکستانی طالبنائزیشن کو بڑھاوا دینے کی کوشش قرار دیا جارہا ہے۔

 

افغان طالبان کے ابھار کے بعد سے پاکستان میں اینٹی بلاسفیمی قوانین کے تحت شیعہ، مسیحیوں، ہندؤں ، قادیانیوں کے خلاف مقدمات کے اندراج میں اضافے، ان برادریوں کے مذہبی مقامات پر حملوں ، ان کے مذہبی تیوہاروں کی تقریبات پر ہونے والے حملوں میں اضافے کو بھی تشویش کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے۔

 

افغان طالبان کے افغانستان میں ابھار کے بعد خواتین پر تشدد کے واقعات میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ملک کے ترقی پسند حلقے تحریک انصاف کی حکومت پر اینٹی ویمن  ہونے اور قدامت پرست حلقوں کی عذرخواہی کو جواز فراہم کرنے کا الزام بھی عائد کررہے ہیں ۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دور میں پنجاب، اسلام آباد، بلوچستان اور کے پی کے میں عورت مارچ کے آرگنائرز پر بھی مقدمات کا اندراج ہوا ہے۔

وزیراعظم پاکستان عمران خان عورتوں اور چھوٹی عمر کی بچیوں کے ریپ کے واقعات کے تناظر میں جن خیالات کا آظہار کرتے پائے گئے اسے بھی شدید تنقید کا سامنا ہے۔ عمران خان اور ان کی کابینہ کے کئی ایک وزراء نے عورتوں سے ریپ اور ڈریس کوڈ کے درمیان جو تعلق پیدا کرنے کی کوشش کی اس کو بھی انسانی حقوق کی تنظیموں نے ریپ کا جواز پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

 

افغان طالبان کے ابھار سے پاکستان میں مسلمانوں کی مختلف برادریوں اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والی برادریوں کی تکثیری ثقافتی شناخت کو درپیش خطرے کی بحث ایک بار پھر شدت سے ابھر کر سامنے آرہی ہے۔ کیا پاکستان کی عسکری اسٹبلشمنٹ اور موجودہ حکومت کی طالبان نواز پالیسی کیا اس خطرے میں اضافے کا سبب بن رہی ہے؟ اس سوال کا جواب عسکری اسٹبلشمنٹ اور موجودہ حکومت نفی میں دیتی ہے۔ کیا پاکستان میں زوال پذیر فنون لطیفہ اور پاکستان کی عسکری اسٹبلشمنٹ کا جہاد ازم کو بطور پراکسی نظریہ کے استعمال کے درمیان کوئی راست تناسب کا رشتہ بنتا ہے؟ اس سوال کا جواب بھی نفی میں دیا جارہا ہے۔

 

پاکستان میں 80 کی دہائی کے بعد سے دیوبندی اسلام کی ریڈیکل تعبیر کے ترقی کرنے اور تکفیری ذہنیت پہ مبنی تکفیری ثقافت کے پاکستان کے شہری مراکز سے مضافاتی شہروں اور دیہاتوں تک پھیلاؤ نے تکثیریت پسندانہ ثفافت کو جس طرح سے دفاعی پوزیشن سے کمتر بنائے جانے کی سطح پر لاکھڑا کیا ہے اس پر پاکستان کی عسکری اسٹبلشمنٹ میں بظاہر کسی بڑی تشویش کے پائے جانے کے آثار نظر نہں آتے۔

 

کیا پاکستان میں ترقی پسند مین سٹریم سیاسی جماعتیں اور بچا کچھا  ترقی پسند سول سوسائٹی (  ترقی پسند وکلا، صحافی ، انسانی حقوق کے رضا کار، شاعر، ادیب اور سیاسی کارکن ) پاکستانی عسکری اسٹبلشمنٹ کے زیر سایہ بڑھتی ہوئی قدامت پرستی اور ریڈیکل دیوبندی ازم/ موودودی ازم/ غامدی ازم/ تکفیریت کے خلاف کسی سماجی – سیاسی تحریک کے ابھار میں کامیاب ہوں گی؟ اس سوال کا جواب بھی دو ٹوک الفاظ میں سردست دیا جانا ممکن نظر نہیں آتا۔

یہ بھی پڑھیے:

ایک بلوچ سیاسی و سماجی کارکن سے گفتگو ۔۔۔عامر حسینی

کیا معاہدہ تاشقند کا ڈرافٹ بھٹو نے تیار کیا تھا؟۔۔۔عامر حسینی

مظلوم مقتول انکل بدرعباس عابدی کے نام پس مرگ لکھا گیا ایک خط۔۔۔عامر حسینی

اور پھر کبھی مارکس نے مذہب کے لیے افیون کا استعارہ استعمال نہ کیا۔۔۔عامر حسینی

عامر حسینی کی مزید تحریریں پڑھیے

(عامر حسینی سینئر صحافی اور کئی کتابوں‌کے مصنف ہیں. یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے ہے ادارہ کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں)

%d bloggers like this: