جون 13, 2021

ڈیلی سویل۔۔ زمیں زاد کی خبر

Daily Swail-Native News Narrative

پی پی ضلع لیہ کے تنظیمی اختلافات|| ارشاد رائے

جب ہم لیہ واپس آگۓ تو سب ورکروں کا خیال یہ تھا کہ فرید خان یا ڈاکٹر جاوید کنجال میں سے کوئی ایک صدر نامزد ہوگا مگر رمضان بھلر انتہائی مطمئن تھا اور کہتا تھا کہ دیکھ لینا صدر میں ہی نامزد ہوں گا

ارشادرائے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میرے حصے میں کتنی زندگی لکھی ہے یہ تو میں نہیں جانتا مگر ایک بات خوب جانتا ہوں کہ اس میں سے زندگی کی چوالیس بہاروں کو خزاں کرچکا ہوں اور جب سے ہوش سنبھالا ہے میں پرانی سبزی منڈی لیہ میں دیکھ رہا ہوں کہ ایک دفتر روزانہ شام کو کھل جاتا ہے کرسیاں لگ جاتی ہیں شہر کے سیاستدان اور سیاست سے دلچسپی رکھنے والے اور پیپلز پارٹی کے جیالے ورکر وہاں آجاتے ہیں اور گرما گرم چاۓ کے ساتھ ساتھ گرما گرم سیاس اشوز ملکی وغیرملکی حالات پر بحث اور گفتگو ہوتی ہے دفتر تو پیپلز پارٹی کا ہے مگر وہاں بلاتفریق کسی بھی پارٹی کے پولٹیکل رہنما و ورکر آکر اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں اور انھیں کوئی ممانعت نہیں ہوتی
سردی ہو گرمی ہو آندھی طوفان یا بارش ہو موسم جتنا بھی خراب یا شدید ہو کوئی آۓ نہ آۓ مگر رانا امتیاز اور ملک عاشق کھوکھر جو کئی سالوں سے پیپلز پارٹی کے جیالے عہدیدار اور ہارڈ ورکر ہیں دفتر کھول کر وہاں موجود ہوتے ہیں ملک عاشق کھوکھر پچاس سال سے پاکستان پیپلز پارٹی سے منسلک ہے اور رانا امتیاز عرف کاکا کو بھی میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے پاکستان پیپلز پارٹی میں ہی پایا ہے وہاں پارلیمانی کلاس کے کئی رہنما آۓ اور کئی پارٹیاں تبدیل کر کے چلے گئے مگر ملک عاشق اور رانا امتیاز آج بھی پارٹی کے جھنڈے تلے اپنے مصمم ارادے کے ساتھ پارٹی کیلۓ پراُمید بیٹھے ہیں وہ کہتے ہیں ہم جھنڈے والے ہیں بندے والے نہیں کیونکہ بندے تو آتے ہیں پارٹیاں تبدیل کر کے چلے جاتے ہیں مگر جھنڈا تبدیل نہیں ہوتا جو بھی اس جھنڈے کو تھام کر آتا ہے وہ اسے ویلکم کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ہوتے ہیں ان دو جیالوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ پیپلز پارٹی کی وفاداری اور محبت میں گذارا ہے
اب میں اپنے اصل موضوع کی طرف آتا ہوں ! جنوبی پنجاب جو پاکستان پیپلز پارٹی کا گڑھ سمجھا جاتا تھا آج وہاں پارٹی زوال پزیر ہے اس زوال کی ویسے تو بیسیوں وجوہات ہو سکتی ہیں جن کو میں قلم کی زبان دینے بیٹھوں تو کئی صفحے درکار ہوں گے مگر آج میں یہاں جنوبی پنجاب کے خوبصورت ترین اور پرامن ترین ضلع لیہ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی زبوں حالی تنظیم کے زوال اور آپس میں اختلافات پر قلم کشائی کر نا چاہوں گا قارئین حضرات یہاں میں ایک بات واضح کرتا چلوں کہ میری کسی کے ساتھ کوئی ذاتی بغض و عناد ہرگز نہیں اور نہ ہی مجھے عہدوں کی لالچ ہے عہدے میرے لیے ثانوی حیثیت رکھتے ہیں میرے لیے یہ اعزاز کافی ہے کہ میں شہیدوں کی جماعت کا بہی خواہ اور نظریاتی ورکر ہوں تو بات ہو رہی تھی پارٹی کے زوال اور لیہ میں تنظیمی اختلافات کی تو میں سمجھتا ہوں کہ کسی بھی پارٹی کے زوال کی پہلی وجہ یہ ہوتی ہے کہ جب آپ نظریاتی ورکروں کو اگنور کرکے کھڈے لائن لگا دیتے ہیں اور ان کی جگہ پارٹی عہدے مفاد پرست پارلیمانی کلاس میں تقسیم کر دیتے ہیں اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ پارلیمانی کلاس جب آتی ہے تو حواریوں کی ٹیم ساتھ لاتی ہےاور چھوٹے عہدوں کی بندر بانٹ اپنے حواریوں اور خوشامدیوں میں کر دیتے ہیں جس سے نظریاتی لوگ مایوس ہو کر کھڈے لائن لگ جاتے ہیں یا جان بوجھ کر لگا دیے جاتے ہیں ہے یہاں ایک بات میں واضح کرتا چلوں کہ میں یہ ہرگز نہیں چاہتا کہ پارلیمانی کلاس کو عہدے نہ دیے جائیں دیے جائیں مگر ڈویژنل عہدے دیے جائیں اور ضلعی عہدے پارٹی کے نظریاتی ورکروں کا حق ہیں صرف اور صرف انھیں دیےجائیں ایک مرتبہ بی بی نے بھی ایسا ہی کیا تھا جس کا رزلٹ بھیانک نکلا اور پھر بی بی کو ریویو کرنا پڑا یہ لمبی کہانی ہے کالم کے دامن میں اتنی گنجائش نہیں کہ پوری کہانی ڈسکس کی جاۓ تو بات چل رہی تھی کہ نظریاتی ورکروں کو کھڈے لائن لگا دیا جاتا ہے اور ان کی جگہ مفاد پرست پارلیمانی ٹولہ لے لیتا ہے اور پھر جب کبھی پارٹی پر تھوڑا سا برا وقت آتا ہے اور پارلیمانی کلاس کو کسی اور پارٹی میں مفاد نظر آرہا ہوتا ہے تو وہ عہدے چھوڑ کر پاڑتی کو خیرباد کہہ کراپنے خوشامدیوں اور حواریوں کے ساتھ دوسری پارٹی میں جگہ بنا لیتے ہیں پھر پارٹی کو وہی نظریاتی ورکر آکر سہارا دیتے ہیں اور اپوزیشن میں مشکلات پرچے تھانے کچہری اور کئی قسم کی تکلیفیں صعوبتیں برداشت کرتے ہیں اور پارٹی کو زندہ رکھتے ہیں مگر بدنصیبی یہ ہے کہ میرا ضلع لیہ جو دوسرا لاڑکانہ کہلاتا تھا پچھلے چند سالوں سے یہاں بھی کچھ ایسا ہی چل رہا ہے جو میں اوپر بیان کر چکا ہوں
یہ17-2016 کی بات ہے جب بلاول ہاؤس لاہور میں ضلعی صدر جنرل سیکریٹری اور انفارمیشن سیکریٹری اور دوسرے عہدوں کیلۓ انٹر ویو ہو رہے تھے انٹرویو پینل میں چئرمین بلاول بھٹو سمیت سابق پی ایم یوسف رضا گیلانی سابق گورنر پنجاب مخدوم احمد محمود نتاشا دولتانہ خواجہ رضوان قادر شاہین اور دیگر شامل تھے سب سے پہلے سابق ایم این اے فرید خان میرانی کو بلایا گیا انھوں نے چیئرمین بلاول بھٹو کو اپنا تعارف کروایا اور اپنی سی وی بتائی کہ میں ایم این اے رہا ضلعی چیئرمین رہا الیکشن 2013میں ایم پی اے کا ٹکٹ ہولڈر ہوں اور تئیس ہزار ووٹ لیکر رنراپ رہا ہوں وغیرہ وغیرہ اس کے بعدجناب ڈاکٹر جاوید کنجال صاحب کو بلایا گیا ڈاکٹر صاحب نے اپنا تعارف کرایا اور زبانی اپنی سی وی بتائی کہ میں 1978 میں جب لیہ مظفر گڑھ کی تحصیل تھی پی ایس ایف ضلع مظفر گڑھ کا صدر رہا ہوں پھر قائد اعظم میڈیکل کالج بہاولپور کا 84- تا1986تک پی ایس ایف کا صدر رہا ہوں 1990 سے 2002 تک مدَر پارٹی کا جنرل سیکریٹری رہا ہوں 2002 سے 2008تک سینئروائز پریزیڈنٹ رہا ہوں2013سے 2015تک تحصیل لیہ کا صدر رہا ہوں وغیرہ وغیرہ اس کے بعد ایک نووارد شخص کسی اور کونے سے ظہور ہوا وہ میری طرح مُنی پرائمری پاس تھا پہلے یہاں لیہ میں اینٹوں کےبھٹے پر ٹریکٹر چلاتا تھا پھر ٹرالر کی ڈرائیونگ سیکھ لی او سعودیہ چلا گیا کام کرنے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ محنت میں عظمت ہے اب سعودیہ میں کیا کام کرتا ہے معلوم نہیں مگر واہ واہ لکشمی کمائی اور دعا ہے کہ تخلیق کائنات اس کی لکشمی میں مزید اضافہ فرماۓ اور دن دگنی رات اٹھگنی ترقی کرے مگر ایک بات طے ہے جو بھی دولت مند بنا کسی نہ کسی کی گردن کو سیڑھی بنا کر بنا بر حال کونے سے آنے والے شخص نے کہا مجھے رمضان بھلر جٹ کہتے ہیں اور خاموش ہوگیا چئیرمین بلاول بھٹو نے پوچھا آپ پارٹی میں کب آۓ اس نے جواب دیا یہی کوئی دو ماہ ہوۓ ہیں چئرمین نے پھر سوال کیا کہ کبھی کسی یو سی سے الیکشن لڑے ہو یا پارٹی تنظیم میں حصہ لیا اس نے کہا کبھی نہیں تو چیئرمین بلاول بھٹو نے دھیمی سی مسکراہٹ دیتے ہوۓ کہا دو ماہ ہوۓ ہیں پارٹی میں آۓ ہوۓ اور امیدوار ضلعی صدارت کے ہو؟
اس کے بعد چھوٹے عہدوں کے انٹرویو ہونے لگے جب ہم لیہ واپس آگۓ تو سب ورکروں کا خیال یہ تھا کہ فرید خان یا ڈاکٹر جاوید کنجال میں سے کوئی ایک صدر نامزد ہوگا مگر رمضان بھلر انتہائی مطمئن تھا اور کہتا تھا کہ دیکھ لینا صدر میں ہی نامزد ہوں گا انٹر وویوز تو محض فارمیلٹی ہیں ہم پوچھا کرتے بھائی آپ کس طرح کس قابلیت اور کس بی ہاف پر صدر نامزد ہونگے آپ کی سی وی تو ان دو کے مقابلے میں بہت کمزور ہے بلکہ نہ ہونے کے مترادف ہے تو وہ ہنس کر فرماتے سی وی کمزور ہے تو کیا ہے لکشمی تو مضبوط ہے اور پھر چشم فلک نے دیکھا مضبوط سی وی والے ہار گۓ اور مضبوط لکشمی والا صدر نامزد ہو گیا میں آج بھی یہ بات پختہ یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اس سے اگر پوچھا جاۓ کہ بھٹو کے بیٹےکتنے تھے اور بیٹیاں کتنی تھیں اور ان کہ نام کیا تھے کون کس نمبر پر ہے تو یقیناً وہ نہیں بتا پاۓ گا اور صرف یہی نہیں اسے پارٹی کا اردو میں منشور دے دیا جاۓ تو وہ ہرگز نہیں پڑھ پاۓ گا اور نہ اسے یہ معلوم ہوگا کہ پارٹی کی اساس کب اور کہاں رکھی گئی اور اس میں کون کون سے لوگ شامل تھے مگر ستم ظریفی دیکھئے کہ اسے صرف اور صرف لکشمی کے چمتکار کیوجہ سے نظریاتی جیالوں پر ترجیح دی گئی اور پارٹی تنظیم کا کریا کرم کر دیا گیا اور میں یقین سے کہ سکتا ہوں کہ اس بات کا چئرمین بلاول کو علم بھی نہ ہوگا صرف یہی ظلم نہیں الیکشن 2018 میں پارٹی کی تمام ٹکٹیں اس کی تجویز پر دی گئیں جس کا خمیازہ پیلزپارٹی کو یہ بگھتناپڑا کہ منی لاڑکانہ سمجھا جانے والا ضلع لیہ اچھے امیدوار ہونے کے باوجود اپنی ذاتی پسند و ناپسند اور جھوٹی انا کی وجہ سے سات سیٹوں میں سے پانچ سیٹوں پر ضمانتیں ضبط کروا بیٹھا ان غلطیوں سے سبق سیکھنے کی بجاۓ آج بھی اسی نااہل شخص کی تجویز اور تجوریز کی طاقت پر عہدوں کی بندر بانٹ ہو رہی ہے اور ایک بار پھر نااہل صدر اور ناہل جنرل سیکریٹری جیالوں اور پیپلز پارٹی کے بہی خواہوں پر مسلط کر دے گئے ہیں ایک بار پھر پیپلز پارٹی کے جھنڈے والے نظریاتی ورکروں کے مڈ مقابل اے ٹی ایمز کو فوقیت اور ترجیح دی گئی ہے ہم سوشل میڈیا کے توسط سے پرنٹ میڈیا کے توسط سے چئیرمین بلاول بھٹو سمیت تمام اعلی قیادت کو آگاہ کرتے ہیں اور دست بدست التجا اور اپیل کرتے ہیں کہ اپنے فیصلوں پر ریویو کریں یہاں آکر گراونڈ رئیلٹی کا ادراک کریں اور ضلعی عہدوں پر نظریاتی جیالوں اور ورکروں کی سی ویز کی اچھی طرح جانچ پڑتال کرکے میرٹ پر تنظیم تشکیل دیں

یہ بھی پڑھیے:

منجھلے بھائی جان کی صحافت۔۔۔ وجاہت مسعود

ایک اور برس بڑھ گیا زیاں کے دفتر میں۔۔۔وجاہت مسعود

وبا کے دنوں میں بحران کی پیش گفتہ افواہ۔۔۔وجاہت مسعود

اِس لاحاصل عہد میں عمریں یونہی ڈھلتی ہیں۔۔۔وجاہت مسعود

وجاہت مسعود کی مزید تحریریں پڑھیں

%d bloggers like this: