بلوچ طلبہ کونسل کا لانگ مارچ میاں چنوں پہنچ گیا

طلبا کے مطابق ہم حکومت پنجاب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کےقبائلی علاقوں کےلیے سیٹیں مختص کریں اور سکالرشپ کا اجرا کریں

میاں چنوں : چار روز قبل ملتان سے شروع ہونے والا بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل ملتان کے طلبہ کا لانگ مارچ خانیوال سے ہوتا ہوا تحصیل میاں چنوں پہنچ گیا ہے۔

لانگ مارچ میں موجود بلوچ طلبہ کا کہنا ہے کہ 2012 میں پنجاب حکومت اور بلوچستان حکومت کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا جس کا مقصد بلوچ قوم کے ہونہار اسٹوڈنٹس کو پنجاب کی یونیورسٹیوں میں سکالر شپ کے ذریعے اعلیٰ تعلیم فراہم کرنا تھا تاکہ بلوچ قوم کی محرومیاں ختم ہوسکیں مگر 2020 میں بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کی انتظامیہ نے بلوچ قوم کے طلبہ وطالبات کی سکالرشپ ختم کردی ہے جس سے بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی میں زیر تعلیم 180 اسٹوڈنٹس کا مسقبل اس لیے تاریک ہو گیا ہے ۔

طلبہ نے کہا کہ  ان کے پاس تعلیم کے حصول کےلیے اخراجات نہیں ہیں۔ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل ملتان کے چیئرمین وقار بلوچ نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ لانگ مارچ براستہ لاہور سے ہوتا ہوا اسلام آباد قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا کی شکل اختیار کرجائے گا اور اُس وقت تک ہم اپنا دھرنا جاری رکھیں گے جب تک ہمارے مطالبات پورے نہیں ہوتے

 

یہ بھی پڑھیے: بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کی بلوچ طلبہ کونسل کا احتجاجی کیمپ ختم ، لانگ مارچ شروع

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: