جون 22, 2024

ڈیلی سویل۔۔ زمیں زاد کی خبر

Daily Swail-Native News Narrative

*قصہ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ھم……..!!||آفتاب مستوئی

اور ہاں حرف آخر یہ کہ .اپنے شہر میں پیدا ہوکر پھلنے پھولنے اور کھیلنے کودنے والی اپنی نئی نسل کو ایک خوبصورت ماحول دینے کیلئے چھوڑ دیجئیے " کسی خان وڈیرے کی قربت کے حصول کی خاطر" شہر کو نظر انداز کرنے کی عادت کو ' چھوڑ دیجیئے اب جھوٹی اناوں اور نفرتوں کو ' اس ماہ مقدس کے طفیل نفرتوں اور کدورتوں کا قلع قمع کر کے محبتوں کے پھول بکھیرتے چلے جائیے ۔ سنوار لیجئے اپنے اس گھر کو ...!

آفتاب نواز مستوئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

.انڈس ھائی وے ( المعروف قاتل روڈ ) جب 1995.96..میں اس کا سروے ھو رھا تھا اور نشانات لگائے جا رھے تھے تو ڈیزائن یا نقشہ میں 110.فٹ کی دو رویہ روڈ تھا ..درمیان میں گرین بیلٹ ،دونوں اطراف سروس روڈ اور فٹ پاتھ دونوں اطراف مین سیور لائین ،120.فٹ کی گولائی میں خوبصورت ٹریفک چوک بمعہ فوارہ قدیمی بوھڑ کا درخت بچا کر …چار فٹ برج برائے پیدل افراد کراسنگ ،1.کچہری روڈ عرفان آباد کالونی. 2..ٹریفک چوک ..3.بھٹی چوک ..4..چوٹی چوک …… سردار فاروق احمد خان لغاری صدر مملکت تھے سردار منصور احمد خان لغاری ایم این اے اور سردار محمد جعفر خان لغاری ایم پی اے تھے …ماضی کے دریچے وا کیجئیے اور ٹھنڈے دل ودماغ سے غور فرمائیے لغاری سرداروں کا بھر پور اقتدار … جام پور میں ان کےچند ،،خاص مصاحبین ،، جن کی ملکیتی یا مقبوضہ جائیدادیں اس روڈ کی توسیع میں آتی تھیں حواس باختہ ھوگئے دوکانداروں سے چندے اکٹھے کیے گئے بینرز آویزاں ھوئے ایوان صدر تک وفود پہنچے بد حواسی کا اک عالم تھا کہ گنتی کے ،،9.10..،، جبری معززین ،(،اور جنہیں میں اس شہر کی خوبصورتی سمیت سینکڑوں خوبصورت زندگیوں کا قاتل شمار کرتا ھوں ) ،کاش میرے بس میں ھوتا جس طرح اس شہر بے نوا میں ماوں کی آنکھوں کے نور. بہنوں کے لال ،سہاگنوں کے سہاگ حادثات کی بھینٹ چڑھتے رھے یا چڑھ رھے ہیں تو ان ،،خود ساختہ خداوں ،،کے خلاف قتل کے مقدمے درج کرواتا ان کو پھانسی لگواتا ۔۔۔
ویسے بھی انت آھستہ آھستہ قبرستان ٹھاکریوالہ کی زینت بننتے جا رھے ہیں یہ جائیدادیں ساتھ تو لے نہیں جانا انہوں نے ! مگر آپکے تاریخی علمی ادبی دینی سماجی شہر کا ستیا ناس کروا کے رکھ دیا ..معاف کیجیے گا ذرا جزبات کی رو میں بہہ گیا تھا کہانی آگے سنیئے ۔!
صدر مملکت سردار فاروق احمد خان لغاری نے ( اپنے مصاحبین یعنی ناجائز جبری معززین ) کی جانب روز روز کی ،،آہ و فغاں ،،سے تنگ آکر نہ چاہتے ہوئے بھی چئیرمین نیشنل ھائی وے اتھارٹی کو حکم دیا کہ وہ اپنی اعلی ا سطحی ٹیم کے ھمراہ جام پور جائیں اور صورتحال کا جائزہ لیں ،،
،،ھمیں یاد ھے سب ذرا ذرا ،،،مسلم ھوٹل جام پور میں تقریب منعقد ھوئی NHAکے چئیرمین کے ھمراہ سردار جعفر خان لغاری اور سردار محمد جمال خان لغاری بھی تشریف لاے گلہ پھاڑ پھاڑ کر دھواں دار تقاریر کی گئیں ایسی منظر کشی کی گئی کہ جیسے خدانخواستہ یہ روڈ منظور شدہ نقشہ کے مطابق بنا تو قیامت آجاے گی بات کچھ بنتی نظر نہ آئی فوری طور پر ،،ریڈی میڈ ،،علما کرام گاڑیوں میں لائے گئے جنہوں نے فرمایا کہ قبرستان ،،ٹھاکریوالہ ،،کی قبریں مسمار ھونگی اس پر بھی ماھرین نے جواب دیا کہ ٹریفک چوک پر جس طرح بوھڑ کا درخت بچایا جا رھا ھے اسی طرح قبروں کو بھی بچایا جاے گا ویسے بھی بر لب روڈ سب سے زیادہ سرکاری رقبہ پر قبضہ ھے مگر ایک نہ سنی گئی لغاری سردار محمد پور میں اپنی مصروفیات کا بتا کر تقریب سے چلے گئے NHA کے چیرمین نے بلاشبہ کم وبیش ایک گھنٹہ تک ھر طریقے سے مطمئن کرنے کی کوششش کی مگر جب کسی نے ان کی نہ سنی تو انہوں نے بتایاکہ ” ہمارے پاس روزانہ مختلف علاقوں سے منتخب ایم این ایز ‘ ایم پی ایز اپنے حلقے کے روڈز کشادہ اور خوبصورت بنانے کے منصوبے لیکر آتے ہیں اور جب تک ان کا دیا گیا منصوبہ منظور نہ ہو وہ ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتے لیکن میری ملازمت کا پہلا حیرت انگیز موقع ہے کہ آپ شہری اور آپکے نمائندے روڈ کو کشادہ کرنے کے حق مءں نہیں ہو ۔”
اور چئیرمین NHA نے افسردہ لہجے میں ایک جملہ کہا جو مجھے کبھی نہیں بھولے گا وہ یہ کہ "،جام پور کے لوگو یاد رکھنا آج آپ لوگ جو مطالبہ منوانے کی کوشش کر رھے ھم بھی مان لیں گے جس کا ( NH A ) کو یا ہمیں کوئی فرق نہیں پڑیگا لیکن تم لوگ 20 سال بعد پچھتاو گے مگر اس وقت تمہاری کوئی نہیں سنے گا ” اور قارئین محترم آج سب مناظر آپکے سامنے ہیں .
اب دوسرا دُکھڑا ملاحظہ فرمائیں چوٹی چوک سے جنرل بس اسٹینڈ تک مین سیور لائن بچھائی جا رھی تھی مگر ایک باوقار شعبہ سے منسلک ” ،دو شخصیات ” ،نے سٹے آرڈر لے لیا ..ایک حصہ مغربی طرف گرلز ھائی سکول نمبر 1..کمیٹی. سے جنرل بس اسٹیڈ تک سیور لائن موجود ،،دوسرا حصہ چوٹی چوک سے مذکورہ جگہ سے گزرتا ھوا،پہلے حصہ کے ساتھ ملایا جانا تھا جوکہ بھٹی چوک تک بن چکا تھا مگر.حکم امتناعی یعنی سٹے آرڈر کی وجہ سے یہ منصوبہ بھی ٹھپ ہوگیا اور آج تک داجل روڈ عوامی کالونی کھوسہ کالونی پیپلز کالونی وغیرہ سیوریج کے گندے پانی کے مراکز بنے ہوئے ہیں ۔۔
قصہ مختصر یہ ھیں وہ چند تلخ و اصل حقائق. جن کا مقامی انتظامیہ / ایڈمنسٹریٹر/ چئیرمین یا سینیٹری سٹاف بلدیہ سے واسطہ نہ ھے. اس وقت جو نوجوان ابھی پیدا ھی نہیں ھوئے تھے آج جواں ھوکر کچھ جانے بغیر سوشل میڈیا کے ذریعے بلدیہ ملازمین یا انتظامیہ پر. خوب تیر اندازی کرتے ہیں ان کی خدمت میں عرض ھے کہ اپنے شہر کی خوبصورتی کے "،اصل قاتلوں ” کا محاسبہ کریں اور بجائے بے بنیاد تنقید کرنے کے ایک اجتماعی متفقہ مہم چلائیں اس مسلہ سمیت جام پور کے تمام ایشوز…مثال کے طور پر جام پور ضلع کا قیام ‘ ،جام پور سوئی گیس کی فراہمی ‘ جام پور یونیورسٹی کا قیام ‘ رکھ عظمت والا میں عرصہ دراز سے منظور شدہ دانش سکول کا قیام ‘ اور ٹوبیکو ریسرچ سینٹر کا قیام ‘ گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی سکول اور گورنمنٹ گرلز ہائی سکول نمبر 1 کو ہائیر سیکنڈری سکولز کا درجہ دینے کی منظوری ‘ ملاں والا کے سرکاری رقبہ پر خواجہ فرید پارک و سپورٹس گراونڈ ( صرف ہاکی فٹ بال والی بال کیونکہ کرکٹ کے دو بڑے اسٹیڈیم موجود ہیں ) میونسپل پارک جام پور کی تزئین وآرائش اور دیواروں کی مرمتی ” اپنی مدد آپکے تحت بنائے جانے والے مولانا عبید اللہ سندھی پارک کی چار دیواری کی تعمیر سمیت تمام سہولتوں کی فراہمی اور اسکے بالمقابل چلڈرن پارک کی تعمیر ‘ شیرو اڈا سے براستہ گرلز کالج سپورٹس اسٹیڈیم سابقہ نالہ سون پر دریشک ہاوس تک منظور شدہ ذیزائن کے مطابق ڈبل روڈ ( بمعہ گرین بیلٹ و لائیٹنگ ) کی تعمیر تمام سہولتوں سے آراستہ جنرل بس اسٹینڈ / جدید ٹرمینل کی تعمیر ‘ کشادہ خوبصورت اور تمام تر جدید سہولتوں سے آراستہ سبزی منڈی ‘ غلہ منڈی کی تعمیر ‘ شہر کے تمام واٹر فلیٹریشن پلانٹس کی مرمتی اور انہیں باقاعدگی سے چلائے جانے کی بھر پور کوشش جام پور ماڈل سٹی پراجیکٹ کی تکمیل اور فنڈز کی بحالی ۔کوٹلہ چونگی پر کلمہ چوک کی تعمیر وغیرہ
ان کے علاوہ بھی شہر کی خوبصورتی اور بہتری کیلئے جو تجاویز ہوں اس تحریر میں کومنٹس کی صورت شامل کی جا سکتی ہیں جس دوست کو اتفاق ہو وہ شہر کی اجتماعی ترقی کیلئیے بات کو ارباب اختیار تک پہنچانے کیلئے شئیر کرے کاپی کرے یا اپنے انداز میں مزید شاندار اور اچھے الفاظ میں خود لکھے لائیک یا واہ واہ کا کوئی فائدہ نہیں ہمیں اپنی شہرت خودنمائی یا تعریف کی قطعی ضرورت نہیں مگر ایک تمنا ایک آرزو ضرور ہے کہ ٹوٹے پھوٹے بے ترتیب سے الفاظ پر مبنی جام پور کا یہ نوحہ ” اس علاقے کے زمینی خداوں ” کے حصار سے نکل کر اصل بااختیار حلقوں تک پہنچے اور کوئی مثبت حل نکلے شکریہ ۔!
اور ہاں حرف آخر یہ کہ .اپنے شہر میں پیدا ہوکر پھلنے پھولنے اور کھیلنے کودنے والی اپنی نئی نسل کو ایک خوبصورت ماحول دینے کیلئے چھوڑ دیجئیے ” کسی خان وڈیرے کی قربت کے حصول کی خاطر” شہر کو نظر انداز کرنے کی عادت کو ‘ چھوڑ دیجیئے اب جھوٹی اناوں اور نفرتوں کو ‘ اس ماہ مقدس کے طفیل نفرتوں اور کدورتوں کا قلع قمع کر کے محبتوں کے پھول بکھیرتے چلے جائیے ۔ سنوار لیجئے اپنے اس گھر کو …!
اگر خدانخواستہ اب بھی نہیں تو پھر کبھی نہیں !
..یعنی یہی کچھ ھوگا آپکی آئیندہ نسل آپکے نقش قدم پر چلتے ھوئے صرف اُس وقت کے چئیرمین کا رگڑا نکالے گی . کسی ایم این اے ایم پی اے کے سامنے نہیں بول کے گی
..بس اپن مبارک و مقدس ساعتوں میں عہد کیجئیے شہر کی بہتری کیلئیے بھلائی کیلئیے اجتماعی ترقی وخوشحالی کیلئیے ایک بھر پور منظم جدوجہد کرنے کا ..فیس بک کی دنیا کے ساتھ ساتھ عملی دنیا میں بھی اپنے جوھر دکھائیے ایمانداری اور نیک نیتی کے ساتھ
.. اللہ ھم سب کا حامی وناصر ھوـــــــــ آمین ثم آمین
…محتاج دعا آفتاب نواز مستوئی آواز حقوق ضلع جام پور ـ
.(.نوٹ .قطعی غیر سیاسی پوسٹ .ہے )..اس تحریر پر کسی بھی قسم کی تنقید کرنے سے پہلے بار بار غور سے ضرور پڑھ لیجئے جسے اتفاق ھو وہ ایمانداری سے آگے شئیر کر دے …یا کاپی کرے ،،
.لائیک یا واہ واہ جیسے کسی بھی تعریفی کومنٹ کی میرے نزدیک کوئی اھمیت نہیں۔

آفتاب نواز مستوئی کی مزید تحریریں پڑھیں

%d bloggers like this: