جون 6, 2023

ڈیلی سویل۔۔ زمیں زاد کی خبر

Daily Swail-Native News Narrative

‎بچوں کی انا کو قتل ہونے سے بچائیں۔۔۔|| شمائلہ حسین

کیا کوئی استاد اپنے ہی ادارے میں پڑھنے پر طلبہ کو طعنہ دے سکتا ہے؟ ایسا میرے ساتھ ہوا اور مجھے ایک دم 15 سال پیچھے لے گیا۔

شمائلہ حسین 

ایک استاد اپنے ہی ادارے میں پڑھنے پر کسی طالب علم کو طعنہ دے سکتا ہے؟ ایسا میرے ساتھ ہوا اور مجھے ایک دم 15 سال پیچھے واپس لے گیا۔

ہوا کیا، پہلے واقعہ پڑھ لیجیے!

ہمارے ادارے کی چند طالبات پریشان ہوکر میرے پاس آئیں کہ میڈم فلاں ٹیچر ہمیں سرکاری کالج میں داخلے کے طعنے دیتی ہیں۔

میرے لیے یہ بات حیران کن تھی کہ کوئی ٹیچر کیسے کسی طالب علم کو اسی ادارے میں داخلے کا طعنہ دے سکتی ہے جس میں خود ملازم ہے؟

طعنے کی نوعیت بھی میرے لیے پریشان کن تھی کہ اگر کوئی استاد کسی طالب علم کو کم نمبر حاصل کرنے پر یا کم میرٹ کے باعث سرکاری کالج میں داخلے پر کوئی طنز کرے تو اس میں میرے جیسے مثبت پہلو تلاشنے والے لوگ اصلاح کا کوئی عنصر نکال ہی لائیں شاید۔

یہاں معاملہ الٹ تھا طنز ان کی غربت پر تھا اور یقیناً طلبہ کا اس بات پربرا محسوس کرنا بھی بنتا تھا۔

میرے سامنے جب یہ بات لائی گئی تو میں شرمندگی کے گڑھے میں گڑ گئی۔ ایک بار تو ایسے لگا کہ میں اپنے کالج کے زمانے میں پہنچ گئی ہوں اور یہ بے عزتی میری ہوئی ہے۔

 نہ چاہتے ہوئے بھی میں آب دیدہ ہوگئی اور ان بچوں سے معذرت کرنے لگی کہ ایک استاد کی وجہ سے ان کی دل شکنی ہوئی لیکن ایک یہ واقعہ مجھے میرے اساتذہ اور بہت سے ان ساتھیوں کی یاد دلا گیا جو غربت کی چکی میں پستے طلبا و طالبات کی مالی و اخلاقی مدد میں پیش پیش رہتے تھے اور ابھی بھی اس روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

وہ اساتذہ جو میرے جیسے طالب علموں کی فیس ادا کرتے تھے اور پلٹ کر یہ تک نہیں جتاتے تھے کہ تم جو اس قدر ہواوں میں ہو احسان تو ہمارا ہے کہ اس ادارے میں موجود ہو۔

وہ ٹیچرز بھی میں جانتی ہوں جو ایکسٹرا کوچنگ کلاسز بغیر کسی فیس کے پڑھایا کرتے تھے اور بدلےمیں صرف اچھے رزلٹ کی خواہش رکھتے تھے۔

 ایسے اساتذہ بھی میرے آس پاس موجود ہیں جو اپنے بچوں کے علاوہ کسی پرائے بچے کی فیسیں اور دیگر اخراجات ادا کرتے ہیں اور کسی کو خبر تک نہیں ہونے دیتے۔

صاحب حیثیت لوگ بھی بسا اوقات فوٹو سیشن کے بغیر بہت سے لوگوں کی مدد کرتے ہیں لیکن اپنے نام کے بینر نہیں لگواتے۔ اور نہ ہی دوسروں کی فیسیں دینے والے کسی کو یہ جتاتے ہیں کہ تم کم فیس والے ادارے میں اس لیے زیر تعلیم ہو کہ یونیورسٹیوں کے خرچے تمہارے ماں باپ نہیں اٹھا پاتے۔

تھوڑی دیر کو سوچیے! آپ ان سٹوڈنٹس کی جگہ ہوں اور کوئی آپ سے ایسی بات کہہ دے تو کیا آپ اپنی خود اعتمادی اور سر اٹھا کر چلنے کا مان ٹوٹتا ہوا محسوس نہیں کریں گے؟

خدا نے آپ کو جس درجے پر فائز کیا ہے وہاں آپ ان کی اخلاقی تربیت کیسے کر سکتے ہیں جب کہ آپ خود اس طرح کی احساس برتری کا شکار ہوں۔

ہمارا واسطہ تو ایسے اساتذہ سے رہا ہے جو ہماری فیسیں ادا کرتے تھے اور ہم شرمندہ ہو کر پوچھتے کہ ہم آپ کے کس کام آسکتے ہیں تو ان کا جواب ہوتا ۔ میرے کام آئیں یا نہ آئیں بس زندگی جب کسی قابل ہو جاو تو اپنے جیسے طالب علموں کا راستہ آسان کرنا۔

اگر وہ ہمیں جھڑک کر گھر بھیج دیتے تو ہم کیا سیکھتے اور آج کیا ہوتے ۔ نفرت سے نفرت ہی جنم لیتی ہے ، خود غرضی سے خودغرض نسلیں تیار ہوتی ہیں اور احساس کم تری میں مبتلا یہ قوم مزید کیسی نسل تیار کرنا چاہتی ہے۔

جو ایسے طنزوں اور جملوں سے ہرٹ ہوں اپنے دل میں نفرت اور بغض کی فصلیں اگایئں تعلیم کی راہ سے باغی ہو کر وہ بھی ہجوم کا حصہ بن کر کسی کی جان لینے کے در پے ہوں۔

آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اپنے سے چھوٹوں کو اگر کوئی بات آپ سکھانا چاہتے ہیں تو زبان سے قول اور فعل میں سے فعل کو فضیلت حاصل رہتی ہے ۔
آپ کسی کو گالی دے کر گالی سے منع کریں گے تو وہ کبھی نہیں رکے گا۔

آپ چیخ کر کسی کو بلند آواز میں بات کرنے سے روکیں گے تو وہ چیخ کر ہی جواب دے گا۔

ایسے ہی آپ دوسروں کی مدد، اخوت ، بھائی چارے ، رواداری اور تحمل و برداشت کا سبق صرف نصابی متن میں پڑھاتے رہیں تو کسی کو کچھ فرق نہیں پڑنے والا۔

یہ ساری خوبیاں عملی مظاہرے کا تقاضہ کرتی ہیں۔

آپ، استاد ہیں، والدین ہیں، بڑے بہن بھائی ہیں، رشتے دار، کلاس فیلوز یا پڑوسی اگر آپ کا اخلاق آپ کی تعلیم و تربیت کے مطابق نہیں تو بھول جایئں کہ آپ سے چھوٹے اور آپ کےدوست احباب آپ کی عزت کریں گے۔

زمانہ بدل چکا ہے آپ کو سخت رویوں اور لفظوں کی عادت ہے تو اپنی تربیت پر پہلے دھیان دیں ورنہ آپ اپنے سے بھی زیادہ صبر اور اخلاقی اقدار سے عاری نسل پروان چڑھانے جا رہے ہیں۔

پھر آپ ہی اپنی سنگتوں میں کہتے پائے جائیں گے کہ ‘ ہمارے زمانے میں تو ایسا نہیں ہوتا تھا ۔

لیکن خبر آپ کو بھی نہیں ہوئی کہ آپ نے کب اپنے حوصلے کو قتل ہوتے ہوئے دیکھا اور کب آپ بھی ایسے ہی قاتل بن گئے۔

جی آپ سمجھیں تو یہ بھی قتل ہی ہے۔

بشکریہ : انڈیپینڈنٹ اردو ڈاٹ کام

%d bloggers like this: