جون 26, 2022

ڈیلی سویل۔۔ زمیں زاد کی خبر

Daily Swail-Native News Narrative

کیا پڑھیں؟ کس کو پڑھیں||احمد علی کورار

ہم یہ کہہ کر جان چھڑا لیتے ہیں کہ ٹیکنالوجی نے کتابوں سے ہمیں دور کر دیا ہے اور یہ بھی کہتے نہیں تھکتے کہ اس جدید دور میں اتنی ضخیم کتابیں کون پڑھے جبکہ سب کچھ انٹرنیٹ پر موجود ہے ہمیں سب کا حل دستیاب ہے۔ کیونکر ہم کتابوں سے وابستگی رکھیں۔

جتنے بھی ارباب قلم جنھیں ہم مضمون نگار کالم نویس تجزیہ نگار یا سادہ زبان میں انھیں لکھاری کہہ لیں جو مختلف موضوعات کو مضمون یا کالم کی صورت میں بیان کرتے ہیں وہ کوئی ایک آدھ کتاب پڑھ کر یا رات بھر خواب خرگوش کے مزے لے کر صبح کو صفحہ قرطاس کو سیاہ نہیں کرتے۔ کوئی راتوں رات لکھاری نہیں بنتا اس میں جہد مسلسل کار فرما ہوتی ہے۔

یاد رکھیں لکھنے کے لیے پڑھنا شرط اول ہے ایسا ممکن ہی نہیں کہہ آپ پڑھے بغیر کچھ لکھ سکیں۔

اور اس سے بھی مفر ممکن نہیں کہ پڑھنے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے جو بد قسمتی سے ہمارے پاس نہیں۔ پڑھنے کے لیے لیت و لعل سے کام نہیں لیا جا سکتا۔

ہم یہ کہہ کر جان چھڑا لیتے ہیں کہ ٹیکنالوجی نے کتابوں سے ہمیں دور کر دیا ہے اور یہ بھی کہتے نہیں تھکتے کہ اس جدید دور میں اتنی ضخیم کتابیں کون پڑھے جبکہ سب کچھ انٹرنیٹ پر موجود ہے ہمیں سب کا حل دستیاب ہے۔ کیونکر ہم کتابوں سے وابستگی رکھیں۔

لیکن ہمہ وقت ایک بات ذہن میں کھٹکتی رہتی کہ اگر ایسی بات ہے تو پھر یورپ تو ہم سے جدید ٹیکنالوجی میں کافی آگے ہے وہاں جو چیز تیار ہو کے استعمال ہوتی ہے ہمارے ہاں تو اس کا تصور بھی نہیں، دور دور تک نام و نشاں تک نہیں ہوتا۔

لیکن اس کے باوجود وہاں دھڑا دھڑ کتابیں شائع ہو رہی ہیں۔ ایک آکسفورڈ پریس کی مثال لے لیتے ہیں اب تو آکسفورڈ اردو کی کتابیں بھی شائع کر رہا ہے۔ جب ہمارے ہاں پڑھنے کا رجحان ہی نہ ہونے کے برابر ہے تو کتابیں کیونکر چھپیں گی۔

ہم اس ماحول میں جی رہے ہیں جہاں اکثر یہ بھی پوچھا جاتا ہے کون سی کتابیں پڑھیں ظاہر سی بات جب پڑھنے سے ربط ہی نہ ہو گا تو ایسا سوال تو بنتا ہے۔

تاریخ فلسفہ تو اپنی جگہ، اب تو اہل علم یہ کہنے پر مجبور ہیں کوئی بھی کتاب پڑھیں، پڑھنے کی عادت ڈالیں۔ چاہے اردو ڈائجسٹ ہی پڑھ لیں۔

ہمارے ہاں ایک اور مسئلہ بھی ہے کہ نوجوانوں کی اکثریت ضخیم کتابیں پڑھنے سے کتراتی ہے انھیں تو اتنی موٹی کتابیں دیکھ کر بخار ہو جاتا ہے وہ ہمیشہ ایسی کتاب کو زیادہ پسند کرتے ہیں جو کم صفحات پر لکھی گئی ہو اور اختصار سے لکھی گئی ہو۔

اس چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے میں یہاں مایہ ناز مصنف ول ڈیورنٹ کی دو کتابوں کے نام بتاتا ہوں جو بڑے اختصار سے لکھی ہیں پلیژر آف فلاسفی بڑی حیرت انگیز کتاب ہے بڑے اختصار سے مغربی فلاسفی کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے اسے پڑھنے کے بعد فلسفے کا جو کانسیپٹ ہے واضح ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد اس کی ایک دوسری کتاب ہے
The greatest minds and ideas of all time
بڑے اختصار سے لکھی گئی خوبصورت کتاب ہے جو سو یا سوا سو صفحات پر لکھی گئی ہے۔ یہ واقعی میں ایک زندگی بدلنے والی کتاب ہے نوجوان لکھاریوں کو اسے ضرور پڑھنا چاہیے۔

ول ڈیورنٹ کے علاوہ اسٹیفن ہاکنگ کی ایک حیرت انگیز کتاب ہے جو بڑے اختصار سے لکھی گئی ہے ایک چھوٹی سی کتاب ہے اس کی خاصیت یہ ہے یہ دنیا کے مشکل مسائل کو ایڈریس کرتی ہے۔ جو پڑھنے کے قابل ہے۔

یوول نوا ہراری کی ایک شاندار کتاب ہے
Sapiٰens The history of humankind
بڑی مربوط انداز سے لکھی گئی ہے۔ اب تو یہ اردو میں بھی دستیاب ہے۔ جس میں انسانی ارتقا پر بات کی گئی ہے۔

تاریخ کے حوالے سے اگر ہمیں کتب پڑھنی ہوں تو ڈاکٹر مبارک علی پڑھیں، جامع مگر اختصار سے لکھی گئی ہیں۔

اسکے علاوہ اگر ہم اردو کتابوں کا انتخاب کریں تو یوسفی صاحب کی آب گم بہترین کتاب ہے۔ اردو ادب کی ایک شہکار ہے آپ اس میں مزاح ڈھونڈ لیں اردو کی چاشنی ہو یا کردار نگاری ہو جاندار تحریر ہے

اس کے علاوہ اردو میں مرزا اطہر بیگ کے ناول غلام باغ اور صفر سے ایک تک بڑا شاندار انتخاب ہے اسے جتنی بار پڑھا جائے اتنا ہی مزہ دوبالا ہوتا ہے۔

یہ فہرست طویل ہے لیکن درج بالا کتابوں کو پڑھنے کے بعد آپ میں پڑھنے کی جستجو پیدا ہوگی۔ جب پڑھنا آپ کی سرشت کا حصہ بن جائے گا پھر پڑھنے اور لکھنے سے آپ کو کوئی نہیں روک سکتا۔ تاسف یہ نہیں کہ ہم لکھتے نہیں، دکھ یہ ہے کہ ہم پڑھتے نہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

کار سرکار(1) ۔۔۔ احمد علی کورار

کار سرکار(2) ۔۔۔ احمد علی کورار

گریڈز کی تعلیم ۔۔۔ احمد علی کورار

ماہ ِ اکتوبر اور آبِ گم ۔۔۔ احمد علی کورار

”سب رنگ کا دور واپس لوٹ آیا ہے“۔۔۔احمد علی کورار

مارٹن لوتھر کا ادھورا خواب اور آج کی تاریخ۔۔۔احمد علی کورار

احمد علی کورار کی مزید تحریریں پڑھیں

%d bloggers like this: