جون 26, 2022

ڈیلی سویل۔۔ زمیں زاد کی خبر

Daily Swail-Native News Narrative

کراچی میں بلوچ طالبات کو حراساں کرنے پر عزیز سنگھور کا اظہار تشویش

عزیز سنگھور بلوچستان کے معاملات پر تحقیقی رپورٹنگ میں ایک شناخت رکھتے اس سے قبل بھی وہ جنگ زدہ بلوچستان میں فوجی جارحیت اور دور دراز علاقوں میں ریاستی اداروں کے ہاتھوں بلوچوں کی جبری اغوا، تشدد اور نسل کشی پر اخبارات و جرائد میں کالم لکھنے کے ساتھ سلگتا بلوچستان کے نام سے کتاب لکھ چکے ہیں۔

کراچی یونیورسٹی میں بلوچ طالبات کو حراساں کرنے پر سینئرصحافی اور”سلگتا بلوچستان“کے مصنف عزیز سنگھور نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ سندھ حکومت کو اس عمل میں برابر کے شریک قراردیا۔ کہا کہ کراچی ہونیورسٹی میں پانچ سو سے زائد بلوچ طالبات زیرتعلیم ہیں۔ انہوں نے کراچی یونیورسٹی میں دھماکہ کے بعد بلوچ طالبات کو اداروں کی جانب سے حراساں کرنے کے خلاف سخت احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ حکومت اور ادارے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں۔ عزیز سنگھور کہا کہ کراچی یونیورسٹی میں بلوچ طالبات کو تلاشی کے بہانے ان کی تذلیل کی جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت کے سامنے تمام بلوچ دہشتگرد ہیں۔

عزیز سنگھور بلوچستان کے معاملات پر تحقیقی رپورٹنگ میں ایک شناخت رکھتے اس سے قبل بھی وہ جنگ زدہ بلوچستان میں فوجی جارحیت اور دور دراز علاقوں میں ریاستی اداروں کے ہاتھوں بلوچوں کی جبری اغوا، تشدد اور نسل کشی پر اخبارات و جرائد میں کالم لکھنے کے ساتھ سلگتا بلوچستان کے نام سے کتاب لکھ چکے ہیں۔

مسنگ سٹی۔۔۔عزیز سنگھور

گوادر پنجرے میں۔۔۔عزیز سنگھور

لسبیلہ میں جعلی ہاؤسنگ اسکیمز کی بھرمار||عزیز سنگھور

کرپشن اور لوٹ مار کے خلاف ماہی گیروں کا احتجاج۔۔۔عزیز سنگھور

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عزیز سنگھور کی مزید تحریریں پڑھیے

%d bloggers like this: