اکتوبر 28, 2021

ڈیلی سویل۔۔ زمیں زاد کی خبر

Daily Swail-Native News Narrative

ہمارا قلم برائے فروخت نہیں ہے ||عامر حسینی

ان دنوں جیو میں آرکائیو سپروائزر، ریسرچ ایسوی ایٹس وغیرہ کی نوکریاں آئیں تو ہم نے اپلائی کیا اور کال لیٹر موصول ہوا، انٹرویو پینل میں موجود ہمارے ایک پرانے بزرگ دوست نے ہی ہمارے نام کے اخراج پر اپنی ساری توانائی لگاکر انہوں نے اپنا رانجھا راضی کرلیا-

عامرحسینی 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زندگی اتنی غنمیت بھی نہیں جس کے لیے
عہد کم ظرف کی ہر بات گوارا کرلیں
"آزادی” کی ایک قیمت ہوتی ہے جو چُکانا پڑتی ہے – اور آزادی اظہار /جرآت اظہار کی بنیادی شرط یہ ہے کہ "سچ اپنے وقت پہ بولا جائے” اگر وقت پہ سچ نہ بولا جائے اور جب اُس سچ سے پیدا ممکنہ خطرات ٹَل جائیں تب بولا جائے تو اُس کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوتی
کی میرے قتل کے بعد اُس نے جفا سے توبہ
ہائے اُس زودِ پشیماں کا پشیماں ہونا
میں نے پاکستانی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی لبرل اور قدامت پرست اسٹبلشمنٹ کی منافقت اور اُن کی طرف سے اپنے سیٹھوں اور پاکستانی حکمران طبقات میں سے کسی نی کسی طبقے کی گماشتگی پر بہت کھلے انداز میں لکھنا شروع کیا تو آغاز کار میں مجھے اندازہ ہی نہیں ہوسکا کہ میں کن طاقتوں سے الجھ بیٹھا ہوں –
ایک دور تھا جب میری سفارش پہ مین سٹریم پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں ہائر اینڈ فائر پوزیشن پہ بیٹھے اور میڈیا گروپوں کی منجیمنٹ میں بیٹھے میرے جاننے والے جو ظاہر ہے سب ترقی پسندانہ پس منظر رکھتے تھے، اس فیلڈ کے نئے اور پرانے کھلاڑیوں کو رکھ لیا کرتے تھے اور شاز و نادر ہوتا ہے کہ "نہ” ہوتی –
مجھے خود کو بھی اس دوران انٹرنیشنل اور نیشنل اداروں سے اپنی روزی روٹی کمانے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی تھی –
پھر ایسا ہوا کہ پاکستان میں مذھبی اور نسلی بنیادوں پر نسل کُشی شروع ہوئی – اس سے جڑے کئی اور مسائل پر بات ہونا شروع ہوئی جن میں امریکی سامراج کی مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور جنوبی ایشیا میں جہادیوں کا بطور پراکسی استعمال اور رجیم چینج پالیسی بھی ایک مسئلہ تھا –
میں نے ان مسائل میں پاکستانی لبرل اور قدامت پرست انگریزی و اردو پریس کے ڈسکورس اور بیانیوں کی ردتشکیل کی اور اُن کو میں نے ان ایشوز پہ
State of denial
Approach of Justification
Tendency of obfuscation
Inclined to false binaries
Policy of balancing
کا شکار پایا – میری تنقید میں لبرل صحافت کے بڑے بڑے ناموں کو پایا اور بنا کسی ہچکچاہٹ کے اُن پہ سوشل میڈیا پہ کھل کر اظہار خیال ہونے لگا –
اسی دوران "شام”، "یمن”، "لیبیا” میں امریکی سامراج اور اس کے اتحادیوں کی مداخلتوں میں جہادی و تکفیری مسلح جتھوں کا استعمال اور بہار عرب پہ لبرل ڈسکورس کے تحت آنے والے بیانیوں کی رد تشکیل کا فریضہ بھی مجھے سرانجام دینا پڑا –
ابھی ان معاملات میں، میں پاکستانی لبرل اسٹبلشمنٹ کے برے بڑے ناموں کے ڈسکورس اور بیانیوں کو بے نقاب کرنے میں مصروف تھا کہ
پاکستان میں یہی لبرل اسٹبلشمنٹ میاں محمد نوازشریف کو لبرل اینٹی اسٹبلشمنٹ آئیکون بنانے کے پروجیکٹ میں مصروف ہوگیا اور لا محالہ مجھے اس جعلی پروجیکشن کرنے والوں کو بھی بے نقاب کرنا پڑا-
پہلی مرتبہ مجھے اپنے طور پہ معاملات کی سنگینی کا اُس وقت اندازہ ہوا جب سوشل میڈیا میں آج کے تین سے چار بڑے گروپوں نے اپنا ویب چینل، ویب سائٹ شروع کی اور ان گروپوں نے اپنے ہاں سوشل میڈیا سے وابستہ لوگوں ملازم رکھنا شروع کردیا – مجھے ان اداروں میں اپلائی کرنے کا مشورہ دیا گیا- مشورہ دینے والوں نے ایچ آر ڈیپارٹمنٹ کے ریفرنس بھی دیے اور مجھے یقین دلایا کہ میری ان میں جگہ بن جائے گی – جو ریفرینسز تھے وہ اتنے معروف نام تھے جن سے میں اور مجھ سے وہ بھی اچھے سے واقف تھے – مجھے ریفرنس دینے والے اور میں خود بہت پُرامید تھا-
لیکن اُن اداروں میں میری جگہ نہ بن پائی – مگر چند دوسرے اداروں میں میری فری لانسنگ اتنا سامان رزق پیدا کرتی رہی کہ میں نے سوچا ہی نہ اور نہ ہی کھوج لگائی کہ وہاں مجھے ملازمت نہ ملنے کا سبب یا اسباب کیا تھے –
چند سال گزرے تو پاکستانی اخبارات کے ادارتی صفحات پہ "جرآت اظہار” کے دروازے اُن لوگوں پہ بند ہونا شروع ہوگئے جو سیٹھوں اور حکمران طبقات کے درمیان پائی جانے والی کسی تقسیم کا حصہ نہ تھے-
میں روزنامہ خبریں ملتان میں عافیت اور جس قدر ممکن تھا آزادی سے "کالم نویسی” کررہا تھا- ابلاغ بڑے وسیع پیمانے پہ ہورہا تھا-
ان دنوں میں لاہور اور اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے میرے کچھ ایسے دوست صحافیوں نے اپنی خدمات اچانک سے مسلم لیگ نواز کے میڈیا سیل کے سپرد کردیں کیونکہ وہ جن تین بڑے میڈیا گروپوں میں کام کررہے تھے اُن کا پرنٹ اور الیکٹرانک سیکشن اُن کے مالکان کے نواز شریف کے ساتھ گٹھ جوڑ کے سبب دن رات مسلم لیگ نواز کی پنجاب میں حکومت اور وفاق میں اپوزیشن کی خدمت کررہے تھے – بعد ازاں 2013ء سے 2018ء تک یہ تین بڑے میڈیا گروپ وفاق اور پنجاب میں نواز لیگ کی حکومت کے سبب بے پناہ نوازشات سے مستفید ہورہے تھے اور اُن میں مسلم لیگ نواز کے بے دام غلام بن جانے والے ایسے صحافی، تجزیہ نگار، اینکر، رپورٹرز، ایڈیٹرز بھی شامل تھے جنھوں نے ماضی بعید میں اپنی جدوجہد اور قربانیوں سے اپنا اینٹی اسٹبلشمنٹ امیج ڈویلپ کیا تھا اور ہم جیسے لوگ انھیں اپنا گرو مانتے تھے – یہ وہ نام تھے جنھوں نے ماضی میں پی پی سمیت لیفٹ کی جماعتوں اور گروہوں کے بیانیہ کی خاطر بہت کچھ سہن کیا تھا لیکن اب یہ اپنی ذہانت، اپنے لکھنے کا موثر اسلوب اور اپنی تقریر کے لبھالینے کے انداز کو ایک خاندان کی شان و شوکت برقرار رکھنے کے لیے "کمرشلائز” کرچُکے تھے –
میں اپنے ان دوستوں کی کایا کلپ پہ حیران اور صدمے کی کیفیت میں تھا-
یہ ہمارے وہ دوست تھے جو ہمیں لبرل سیکشن کی کمرشلائزڈ رجھانات کی نشاندہی کرتے اور بتاتے کیسے نجم سیٹھی، حسین حقانی، طلعت حسین، ملیحہ لودھی، اعجاز حیدر، رضا رومی، حامدمیر، ظفر عباس، اشعر الرحمان، امتیاز عالم، سیرل المیڈا، ناصر عباس سمیت کئی ایک ایسے لاہور بیسڈ یا اسلام آباد بیسڈ لبرل یا نیم لبرل صحافتی اشراف کے نوے کی دہائی میں پی پی پی کے میڈیا ٹرائل کا اسکرپٹ لکھنے والوں میں شمار ہوئے اور اب بھی اُن کی نوکری کرتے ہیں –
لیکن جب ہمارے یہ دوست انہی کمرشل لبرل ٹولے کے زریعے نواز شریف کے ہاتھ پر بیعت کرچکے تو مجھے مجبوراً اُن کا محاسبہ بھی کرنا پڑا –
انہوں نے پی پی پی، آصف زرداری کے باب میں پروپیگنڈے کو اپنے تجزیوں میں بنا کسی شرم و حیا کے استعمال میں لارہے تھے –
یہ جنرل کیانی کو دانشور چیف آف ارمی اسٹاف، افتخار چویدری کو انصاف کا دیوتا بناکر پیش کررہے تھے جیسے یہ آج کل قاضی فائز عیسی کو پیش کرتے ہیں –
میں حیران تھا کہ ایک طرف تو اینٹی پی پی پی اردوپریس کے مالکان جیسے مجید نظامی و عارف نظامی مرحومین تھے وہ تو آصف علی زرداری کو خراج تحسین پیش کررہے تھے اور بھٹو کی برسی پہ لاڑکانہ گڑھی خدا بخش میں اپنے گناہوں کا کفارہ پیش کررہے تھے تو دوسری طرف ماضی میں گڑھی خدا بخش کو اپنے سیاسی شعور کی پرداخت بتانے والے تھے وہ نواز شریف میں بھٹو اور بعد میں مریم نواز میں بے نظیر بھٹو کو تلاش کرنے میں لگے ہوئے تھے –
کیا ستم ظریفی تھی کہ ایک ترقی پسند لبرل ادیب صحافی کالم نویس، ایڈیٹر نے اپنے ادبی و تاریخی شعور کو اس قدر نیچے گرایا کہ اُسے نواز شریف کا "بہ دام و دینار” عطاء الحق قاسمی میں پابلونیرودا اور خود نواز شریف میں "سقراط عصر” نظر آنے لگا – نصرت جاوید نے بھی اپنے آپ کو گروی رکھ دیا –
مجھ جیسے چند قلم کے مزدور جو بچے تھے اُن کو بھی پیشکش ہوئی کہ اپنا اسلوب بیان ہم بھی نواز شریف کے میڈیا سیل کے پاس گروی رکھ دیں اور تین بڑے میڈیا گروپوں میں سے کسی ایک گروپ کے اخبار کو بطور کالم نویس جوائن کرلیں –
انھیں ہم جیسوں پہ ترس آرہا تھا اُس وقت تک جب تک ہم نے ہم جیسوں نے انھیں بھی نجم سیٹھی و حقانی کی صف میں شامل نہیں کرلیا-
2016ء میں روزنامہ خبریں ملتان میں مجھ جیسے کالم نگاروں کو ٹکے رہنے کی گنجائش نکالنے والے ایک ایڈیٹر نے ہمیں بتایا کہ اب اشاروں اور کنایوں سے بھی پاکستان میں "عسکری ناخداؤں” پر تنقیدی اظہار خیال کی گنجائش ختم ہے تو ہمارے پاس پرنٹ میڈیا کے آپشن ختم ہوگئے –
ہم نے سوچا کہ چلو اپنی جرآت اظہار کو سوشل میڈیا کے زریعے آگے بڑھاتے ہیں اور پرنٹ یا الیکٹرانک میڈیا میں کوئی "بے ضرر” پوسٹ پہ آکر روزی روٹی کا سلسلہ قائم کرلیتے ہیں –
ان دنوں جیو میں آرکائیو سپروائزر، ریسرچ ایسوی ایٹس وغیرہ کی نوکریاں آئیں تو ہم نے اپلائی کیا اور کال لیٹر موصول ہوا، انٹرویو پینل میں موجود ہمارے ایک پرانے بزرگ دوست نے ہی ہمارے نام کے اخراج پر اپنی ساری توانائی لگاکر انہوں نے اپنا رانجھا راضی کرلیا-
منتھلی ہیرالڈ کو بلوچستان، وزیرستان سمیت فوجی آپریشنوں کی زد میں آئے علاقوں کے لیے انہی دنوں "بہادر” انوسٹی گیٹو رپورٹرز کی ضرورت تھی – منیجمنٹ میں عارفہ نور سمیت تین سے چار ناموں نے یہ انتخاب کرنا تھا- میں نے بدر علم تک اپنا ایک ریفرنس پہنچایا بھی لیکن وہاں ہمارا راستا مسدود کردیا گیا وجہ فیکا کارٹونسٹ کے لیے ڈان کے سی ای او اور ایڈیٹر کے گھناؤنے کردار سے پردہ اٹھانا تھا – ایک ریفرنس کو ڈان کے شیعہ نسل کُشی ابہام اور بیلنسنگ ڈسکورس پہ میری لکھی تحریریں بھجوائی گئیں اور مجھ سمیت چند اور ناموں کو بلیک لسٹ بتایا گیا-
ہمارے ایک سینئر بزرگ نیوز ایڈیٹر جو دا نیشن، دنیانیوز، 24 نیوز کے پائنیر میں سے ہیں نے دنیا نیوز میں آئی آسامیوں پہ اپلائی کرنے کا مشورہ دیا- انہوں میاں عامر محمود سے اپنے تعلقات کو استعمال کیا اور تو اور نذیر ناجی کو بھی رام کرلیا جن کی وجہ سے میرا نام شارٹ لسٹ میں شامل ہوا اور انٹرویو کے لیے کال آئی اور کہا گیا کہ انٹرویو کال محض رسمی ہے آپ سلیکٹ ہوگئے ہیں – لیکن انٹرویو پینل میں میاں عامر محمود کے منہ چڑھے ایک نے شارٹ لسٹ میں میرا نام دیکھتے ہی کہا "یہ کتے کا بچہ کہاں سے شارٹ لسٹ میں شامل کرکیا گیا ہے” اور. فائل گھماکر فرش پہ پٹک دی-اس پہ نذیر ناجی بول اٹھے، "نہیں رکھنا نہ رکھیں، گالی تو مت دیں” اس پر موصوف اور بھڑکے اتنا زور سے مغلظات بکنے لگے باہر ویٹنگ ہال میں بیٹھے لوگوں تک آوازیں پہنچیں – اُن کو کچھ پتا نہ تھا، میں وہاں سے اٹھا، سامنے لفٹ میں سوار ہوکر گراؤنڈ فلور پہ اترکر عمارت سے باہر نکلا اور میڈیا گروپ کی بلند و بالا عمارت پہ ایک نظر ڈالی اور زور سے "مسٹر کُپی” کو ایک ایسی گالی دی جس سے اُس کی ماں بھین، بیوی، بیٹیاں ہی نہیں اُس کا دادا اور باپ، بھائی بھی محفوظ رہے –
اُس کے بعد 24 نیوز، ہم نیوز سمیت پانچ چھے اور اداروں میں قسمت آزمائی سینیر دوستوں کے کہنے پہ کی لیکن سب جگہ سے جواب ہوگیا –
اسی دوران برطانیہ کے ایک معروف انگریزی اخبار نے اپنے اردو، فارسی اور عربی کے ڈیجیٹل ایڈیشن کے حقوق سعودی عرب کے ایک سرمایہ دار گروپ کو فروخت کردیے –
ہمارے ایک نہایت ہی عزیز دوست کا مجھے فون آیا – انہوں نے کہا کہ بی بی سی سے اُس کا ایک شاگرد اُس اخبار کے اردو ڈیجیٹل ایڈیشن کے فلاں عہدے پر وہاں آگیا ہے اور میں نے اُس کو کہہ دیا ہے آپ اپنا سی وی اُن کو بھیج دیں – اور انہوں نے ساتھ ہی مجھے کہا کہ میں اپنا نام صرف "محمد عامر” سی وی پہ لکھ کر بھیجوں اور ساتھ سی وی کے اپنے ایسے مضامین نہ بھیجوں جن میں مشرق وسطی (یمن، شام) ڈسکس نہ ہوا ہو – میں نے بادل نخواستہ ان کے حکم کی تعمیل کی – اُن کے شاگرد نے اُس ادارے کی منیجمنٹ کو میری بھرتی کی بھرپور سفارش کی اور نتیجے میں وہ بیچارا شاگرد خود بھی وہاں سے نکال دیا گیا، ابھی دو ماہ پہلے وہ رشیا کی ایک نیوز ایجنسی میں ملازمت حاصل کرپایا ہے –
اُس کے بعد فری لانس فیچر نگاری کا اسکوپ بھی کم سے کم ہوتا چلا گیا – اور اب یہ شعبہ مشکل سے 30 سے چالیس ہزار روپے دو ماہ میں دے پاتا ہے –
سوشل میڈیا پہ پی پی پی کی طرف ہمارے جیسے کئی ایک سرگرم ایکٹوسٹوں کے جھکاؤ سے لوگوں کو یہ لگتا تھا اور اب بھی چند ایک کو لگتا ہے کہ شاید ہمیں پی پی پی اس کا کوئی معاوضہ دیتی ہے – لیکن قبر کا حال مردہ ہی جانتا ہے – نہ ہی پی پی پی کی طرف سے ہمیں اُن کے آفیشل میڈیا یا سوشل میڈیا ٹیم میں شامل ہونے کی آفر ہوئی اور نہ ہم نے اُن سے کبھی ایسی خواہش کی-
ہم نہایت ایمانداری سے سمجھتے ہیں کہ اس وقت دستیاب سیاسی جماعتوں میں پی پی پی کا موقف زیادہ ترقی پسندانہ اور سوشل ڈیموکریسی کے قریب تر ہے – اور ہم پی پی پی میں کسی کو نہ تو زبردستی قائدِ انقلاب بناکر پیش کرتے ہیں اور نہ ہم پی پی پی کی آفیشل میڈیا ٹیم میں شامل کسی شخصیت کو پابلونیرودا بناکر دکھاتے ہیں کہ اس طرح سے ہم بھی اُس ٹیم میں اپنی جگہ بنالیں –
زندگی میں نشیب و فراز آتے جاتے رہتے ہیں – لیکن ہمارا عقیدہ ہے کہ ہمارا قلم برائے فروخت نہیں ہے #

یہ بھی پڑھیے:

ایک بلوچ سیاسی و سماجی کارکن سے گفتگو ۔۔۔عامر حسینی

کیا معاہدہ تاشقند کا ڈرافٹ بھٹو نے تیار کیا تھا؟۔۔۔عامر حسینی

مظلوم مقتول انکل بدرعباس عابدی کے نام پس مرگ لکھا گیا ایک خط۔۔۔عامر حسینی

اور پھر کبھی مارکس نے مذہب کے لیے افیون کا استعارہ استعمال نہ کیا۔۔۔عامر حسینی

عامر حسینی کی مزید تحریریں پڑھیے

(عامر حسینی سینئر صحافی اور کئی کتابوں‌کے مصنف ہیں. یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے ہے ادارہ کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں)

%d bloggers like this: