جون 13, 2021

ڈیلی سویل۔۔ زمیں زاد کی خبر

Daily Swail-Native News Narrative

کیا سگریٹ پر ٹیکس لگا کر اس سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے؟||وقار حیدر

عالمی ادارہ صحت کے مطابق سگریٹ نوشی کے باعث ہونے والے معاشی اور جانی نقصانات کو کم کرنے کا موثر ترین طریقہ سگریٹ کی قیمتوں میں اضافہ کرنا ہے۔

وقار حیدر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان میں تقریباً 3 کروڑ افراد سگریٹ نوشی کرتے ہیں جن میں سالانہ 1 لاکھ 60 ہزار افراد انتقال کر جاتے ہیں جبکہ دیگر افراد مختلف بیماریوں کا شکار رہتے ہیں۔ پاکستان سستے ترین سگریٹس فروخت کرنے والے ممالک میں سرفہرست ہے۔ یہاں ایک سگریٹ 2 روپے سے لے کر 10 روپے تک فروخت ہو رہا ہے اور ان سستے سگریٹس کی بڑی وجہ حکومت کی جانب سے ٹوبیکو کمپنیوں کا ٹیکس نہ لگانا ہے، حد تو یہ ہے کہ ملک کو سالانہ سگریٹ نوشی کی وجہ سے 615 ارب روپے صحت کے حوالے سے نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے لیکن حکومت ہر سگریٹ کے پیکٹ پر 10 روپے کا ہیلتھ لیوی تک لگانے میں تاحال کامیاب نہ ہو سکی ہے

پاکستان میں دو قسم کی کمپنیاں سگریٹ بناتی ہیں۔ ایک برٹش ٹوبیکو کمپنی اور فلپ مورس جیسی ملٹی نیشنل کمپنیاں جن کا مارکیٹ شیئر 95 فیصد ہے اور دوسرا لوکل کمپنیاں جن کا مارکیٹ میں حصہ پانچ فیصد ہے۔ اس وقت سب سے بڑی مہم چلائی جا رہی ہے کہ پاکستان میں غیر قانونی سگریٹ کی تجارت جاری ہے اور اس مہم کے مطابق پاکستان کو سالانہ 77 ارب روپے ٹیکس چوری کا سامنا ہے۔ اندازہ کیجئے اگر 77 ارب روپے کی ٹیکس چوری ہو رہی ہے تو ان کمپنیوں کا منافع بھی اربوں میں ہی ہوگا لیکن یہاں عجیب و غریب منطق پیش کی جاتی ہے کہ ٹیکس چوری وہ کمپنیاں کر رہی ہیں جن کا مارکیٹ شیئر صرف 5 فیصد ہے۔

پاکستان میں لوکل کمپنیوں کے سگریٹ زیادہ تر قانونی طریقے سے فروخت کیے جاتے ہیں، ڈاکٹر ضیا الدین اپنی تحقیق میں لکھتے ہیں کہ ملک میں 11 سگریٹ برانڈ قانونی طریقے سے سگریٹ فروخت کر رہے ہیں جن میں گولڈ لیف، مارون، ریڈ اینڈ وائٹ اور گولڈ فلیک کے علاوہ دیگر شامل ہیں جبکہ 26 برانڈز غیرقانونی سگریٹ کی فروخت میں ملوث ہیں جن میں پائن، میلانو، مالبرو انٹرنیشنل، بزنس کلب اور دیگر شامل ہیں۔ پاکستان میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کا مارکیٹ شیئر 95 فیصد ہے سو اگر سگریٹ کی غیر قانونی تجارت ہوتی ہے تو سب سے زیادہ فائدہ بھی یہی کمپنیاں اٹھاتی ہیں۔

پاکستان میں سگریٹ کمپنیوں کے لئے بھی الگ الگ نظام ٹیکس موجود ہیں۔ سال 2019 تک تین قسم کے ٹیکس نظام لاگو تھے۔ فرسٹ ٹیئر میں سستے سگریٹ جن پر کم ٹیکس رکھا گیا۔ سیکنڈ ٹیئر میں مہنگے سگریٹ، جن پر ٹیکس زیادہ تھا۔ پھر لایا گیا خصوصی تھرڈ ٹیئر جس میں سگریٹ کے وہ برانڈ رکھے گئے جو مارکیٹ میں سب سے زیادہ فروخت ہوتے تھے ان پر ٹیکس درمیانہ لگایا اس کا نقصان یہ ہوا کہ سگریٹ سستے ہو گئے اور کم آمدن والے گھرانوں کے افراد میں سگریٹ نوشی 27 فیصد بڑھ گئی۔ پاکستان میں دنیا بھر کے مقابلے میں سستے سگریٹ دستیاب ہیں۔ اوسط سگریٹ کے پیکٹ کی قیمت صرف 38 روپے ہے اور سگریٹ پر ٹیکس 43 فیصد ہے، جبکہ عالمی ادارہ صحت کی تجویز ہے کہ سگریٹ کے پیکٹ کی قیمت کا 70 فیصد ٹیکس لاگو ہونا چاہیے۔

پائیڈ کی تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اگر سگریٹ کی قیمت 50 فیصد بڑھا دی جائے تو سگریٹ نوشی کو 50 فیصد کم کیا جا سکتا ہے۔ پائیڈ نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ پاکستان اگر انٹرنیشنل سگریٹ برانڈز کی قیمت بڑھائے تو خاص طور پر نوعمر اور نوجوان سستے برانڈز کی جانب راغب نہیں ہوں گے بلکہ سگریٹ نوشی یا تو کم کر دیں گے یا پھر ترک ہی کر دیں گے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق سگریٹ نوشی کے باعث ہونے والے معاشی اور جانی نقصانات کو کم کرنے کا موثر ترین طریقہ سگریٹ کی قیمتوں میں اضافہ کرنا ہے۔

سگریٹ کی غیر قانونی تجارت کو کیسے کنٹرول کیا جائے؟ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس غیر قانونی عمل کی روک تھام کا سب سے موثر حل ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کا نفاذ ہے۔ اس نظام سے پتہ چل سکے گا کہ کس فیکٹری نے کتنی سگریٹس بنائی اور پھر کہاں پر فروخت کی گئیں۔ اس سسٹم میں آنے کے لئے پاکستان نے بھی اس معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ منظم جرائم اور بدعنوانی کی تنظیم ( او سی سی آر پی) کے مطابق ملٹی نیشنل سگریٹ کمپنیاں نہ صرف سگریٹ کی غیر قانونی تجارت میں ملوث ہیں بلکہ پاکستان میں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بھی ہیں۔ 2007 سے حکومتی سطح پر ایک ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم لاگو کرنے کی کوشش جاری ہے جس کا اب تک نفاذ نہ ہو سکا۔

اگست 2019 میں ایف بی آر نے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے لئے ایک ٹینڈر جاری کیا جس کی ڈیڈ لائن کو بار ہا بڑھایا جاتا رہا اور تقریباً 1 سال بعد ایف بی آر نے این آر ٹی سی کمپنی کو ٹھیکہ دیدیا۔ این آر ٹی سی نے جس کمپنی سے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم بنوایا اس کے تعلقات فلپ مورس سے ثابت ہوئے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے مئی 2020 میں ٹھیکہ منسوخ کر دیا اور نئے ٹھیکہ کی ہدایت کر دی

عالمی ادارہ صحت کے مطابق سگریٹ نوشی کے باعث ہونے والے معاشی اور جانی نقصانات کو کم کرنے کا موثر ترین طریقہ سگریٹ کی قیمتوں میں اضافہ کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

مرد، ٹھرک، صنف نازک اور معاشرہ ۔۔۔وقار حیدر

ٹک ٹاک ۔۔۔ لیکڈ ویڈیوز کا نیا پلیٹ فارم ۔۔۔وقار حیدر

دیکھ کر ڈیلیٹ کر دینا اب کوئی نہیں کہتا۔۔۔وقار حیدر

وقار حیدر کی مزید تحریریں پڑھیے

%d bloggers like this: