غضنفرعباس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
افواہیں دم توڑ گئی ہیں، آفیشل گزٹ سامنے آ گیا ہے، خیبرپختونخوا اسمبلی کا شاہانہ مراعاتی بل باقاعدہ قانون بن گیا ہے۔
گزٹ نوٹفیکیشن پڑھنے کےلئے کلک کریں
ایک طرف صوبہ شدید مالی بحران کا روونا روتا ہے، امن و امان کی صورتحال نازک ہے، اور دوسری طرف اراکینِ اسمبلی اپنے لیے 8، 8 ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنس، تاحیات آفیشل پاسپورٹ، مفت ٹول ٹیکس اور عدالتوں سے استثنیٰ کے قوانین پاس کر رہے ہیں۔ کیا پی ٹی آئی کا "وی آئی پی کلچر” اور "اشرافیہ کی مراعات” کے خلاف نعرہ صرف دوسروں کے لیے تھا؟ اپنے صوبے میں یہ شاہانہ کلچر کس تبدیلی کی علامت ہے؟
قانون سازی یا میڈیا کی زبان بندی؟ کے پی اسمبلی کے نئے ایکٹ میں صحافیوں کے لیے قید اور بھاری جرمانے مقرر
خیبرپختونخوا اسمبلی نے جہاں اپنے لیے شاہانہ مراعات کا قانونی بندوبست کیا ہے، وہیں آزادیِ صحافت پر بھی بڑا وار کرتے ہوئے میڈیا کے لیے سخت پابندیاں، قید اور بھاری جرمانے نافذ کر دیے ہیں۔ "خیبر پختونخوا پروونشل اسمبلی (پاورز، امیونٹیز اینڈ پریولیجز) ایکٹ 2026” کی سرکاری دستاویزات کے مطابق اب ایوان کی کارروائی پر رپورٹنگ پھونک پھونک کر کرنا ہوگی، ورنہ صحافی براہِ راست جیل جا سکتے ہیں۔
نئے قانون کے تحت میڈیا صرف منصفانہ، درست اور حقائق پر مبنی رپورٹنگ یا کارروائی کا درست خلاصہ شائع کرنے کا پابند ہوگا۔ اگر کسی صحافی یا ادارے نے ضوابط کی خلاف ورزی کی تو سزاؤں کا پورا مینو تیار ہے۔
صحافیوں کے لیے سزاؤں اور جرمانوں کا "پیکیج”
غلط یا مسخ شدہ رپورٹنگ: اسمبلی کارروائی کی غلط یا مسخ شدہ رپورٹنگ پر 3 ماہ قید اور تین لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
ممنوعہ کارروائی کی اشاعت: پریذائیڈنگ آفیسر (اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر) کو یہ اختیار ہوگا کہ وہ اسمبلی اجلاس کے کسی بھی حصے کی اشاعت پر پابندی لگا دیں۔ اگر کسی میڈیا ہاؤس نے اس ممنوعہ کارروائی کو شائع کیا تو 6 ماہ قید اور 10 لاکھ روپے تک جرمانہ بھگتنا ہوگا۔
اسپیکر پر جانبداری کا الزام: اگر کسی نے پریذائیڈنگ آفیسر کے کردار پر جانبداری کا الزام لگایا یا کوئی انگلی اٹھائی، تو اسے 6 ماہ قید اور 10 لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جا سکے گا۔
رکنِ اسمبلی کی توہین: کسی بھی ایم پی اے کے خلاف توہین آمیز مواد یا بدنیتی پر مبنی رپورٹنگ کرنے پر 6 ماہ قید اور 10 لاکھ روپے تک کا بھاری جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔
وقت سے پہلے خبر دینا جرم: اگر کسی صحافی نے اسمبلی کمیٹی کی کارروائی ایوان میں رپورٹ ہونے سے پہلے بریک کی، یا کوئی تحریکِ التوا اسمبلی میں پیش ہونے سے قبل شائع کر دی، تو اسے بالترتیب 3 ماہ اور 1 ماہ تک کی قید کی سزا سنائی جا سکے گی۔
ایوان سے مستقل دیس نکالا اور سرکاری میڈیا کو تحفظ نئے قانون نے پریذائیڈنگ آفیسر کو یہ مطلق اختیار دے دیا ہے کہ وہ کسی بھی صحافی یا میڈیا نمائندے کے اسمبلی داخلے پر نہ صرف عارضی پابندی لگا سکتے ہیں، بلکہ انہیں مستقل طور پر ایوان سے روکنے کا اختیار بھی رکھتے ہیں۔ دوسری طرف، سرکاری اطلاعاتی اداروں کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے، یعنی سرکاری پبلشرز اگر اسمبلی رپورٹس جاری کریں تو انہیں کسی بھی قانونی کارروائی سے مکمل استثنیٰ حاصل ہوگا۔
ایک طرف تو تحریکِ انصاف وفاق اور پنجاب میں میڈیا پر پابندیوں، ‘سنسرشپ’ اور آزادیِ اظہارِ رائے پر قدغنوں کے خلاف سب سے بلند آواز میں احتجاج کرتی ہے، تو دوسری طرف اپنے ہی صوبے میں صحافیوں کو جیل بھیجنے اور لاکھوں روپے جرمانے کرنے کا یہ کالا قانون کس "آزاد اور جمہوری” برانڈ کا حصہ ہے؟ کیا جمہوریت کا درد صرف اسلام آباد کی حد تک محدود ہے؟
قانون میں لکھا ہے کہ "بدنیتی پر مبنی رپورٹنگ” پر سزا ہوگی۔ اب یہ "بدنیتی” طے کون کرے گا؟ یقیناً وہی اراکینِ اسمبلی اور اسپیکر جن کی شاہانہ مراعات پر میڈیا سوال اٹھائے گا۔ تو کیا اس قانون کا اصل مقصد اراکینِ اسمبلی کی عیاشیوں کو میڈیا کی نظروں سے چھپانا اور پریس گیلری کو صرف "جی حضور” کہنے پر مجبور کرنا ہے؟

اے وی پڑھو
سرائیکی وسیب کی تاریخی و لسانی شناخت اور پنجاب کی مرکزیت کا سیاسی بیانیہ۔۔۔۔شہزاد عرفان
کریمݨ نقلی۔۔۔||ملک عبداللہ عرفان
دیپک راگ، ثریا ملتانیکر اور لوح اعزاز کی کہانی||رانا محبوب اختر