جولائی 7, 2026

ڈیلی سویل۔۔ زمیں زاد کی خبر

Daily Swail-Native News Narrative

افواہیں دم توڑ گئیں، آفیشل گزٹ سامنے آ گیا:خیبرپختونخوا اسمبلی کا شاہانہ مراعاتی بل باقاعدہ قانون ہے

سیاحوں کی حفاظت اور رہنمائی ٹوارزم پولیس کی ذمہ داری

غضنفرعباس

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

افواہیں دم توڑ گئی ہیں، آفیشل گزٹ سامنے آ گیا ہے، خیبرپختونخوا اسمبلی کا شاہانہ مراعاتی بل باقاعدہ قانون بن گیا ہے۔

خیبرپختونخوا اسمبلی کے اراکین کے لیے غیر معمولی مراعات اور "شاہانہ پیکیج” کے حوالے سے پھیلنے والی خبریں محض افواہیں نہیں تھیں، بلکہ ایک قانونی حقیقت بن کر سامنے آ گئی ہیں۔ ترجمانوں کے تردیدی بیانات اور وفاق کے دعوؤں کے برعکس، خیبرپختونخوا کا آفیشل گزٹ جاری ہو چکا ہے، جس کے مطابق گورنر خیبرپختونخوا نے 6 مئی 2026 کو اس بل کی منظوری دی اور 7 مئی 2026 کو اسے باقاعدہ ایکٹ کے طور پر نافذ کر دیا گیا ہے۔
اس نئے قانون کو "خیبر پختونخوا پروونشل اسمبلی (پاورز، امیونٹیز اینڈ پریولیجز) ایکٹ 2026” کا نام دیا گیا ہے، جس نے صوبے کے اراکینِ اسمبلی کو ایسی مراعات سے نوازا ہے جن پر عوامی اور سیاسی حلقوں میں انگلیاں اٹھنا لازمی تھیں۔
قانون کی چند "اہم اور شاہانہ” خصوصیات:
تاحیات بلیو پاسپورٹ کی سہولت: ایکٹ کی دفعہ 13 (i) کے تحت ہر رکنِ اسمبلی اور ان کے شریکِ حیات (اہلیہ/شوہر) کو تاحیات آفیشل پاسپورٹ کی سہولت دی گئی ہے۔ حالانکہ اس شق کے ساتھ یہ بھی لکھا گیا ہے کہ یہ "وفاقی قانون کے تابع” ہوگی، لیکن صوبائی سطح پر اس کی باقاعدہ منظوری دے دی گئی ہے۔
8 اسلحہ لائسنس کا تحفہ: صوبے کے اراکینِ اسمبلی اپنے اور اپنے خاندان کے دفاع کے لیے 8 ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنس حاصل کر سکیں گے۔ ان میں سے 4 لائسنس تو تاحیات "مفت” (Gratis basis) دیے جائیں گے جبکہ 4 مقررہ فیس کی ادائیگی پر ملیں گے۔
ٹول ٹیکس سے مکمل استثنیٰ: عوام سڑکوں پر خوار ہو کر ٹیکس بھریں، لیکن معزز اراکینِ اسمبلی دفعہ 13 (c) کے تحت ملک بھر کے تمام ٹول پلازوں پر ٹیکس کی ادائیگی سے مستثنیٰ ہوں گے۔
سرکاری گیسٹ ہاؤسز میں مفت قیام: قانون کے تحت اراکینِ اسمبلی کو کسی بھی سرکٹ ہاؤس، ریسٹ ہاؤس یا سرکاری گیسٹ ہاؤس میں تین دن تک بالکل مفت اور
شاہانہ رہائش کا حق حاصل ہوگا۔

گزٹ نوٹفیکیشن پڑھنے کےلئے کلک کریں

عدالتوں سے استثنیٰ اور گرفتاری سے پہلے تحفظ: دفعہ 4 کے تحت اسمبلی یا کمیٹی کے اجلاس کے دوران کوئی بھی رکن عدالت میں حاضری سے مستثنیٰ ہوگا۔ یہی نہیں، دفعہ 11 کے تحت کسی بھی رکن کی گرفتاری یا حراست سے پہلے مجسٹریٹ یا انتظامیہ کے لیے اسپیکر کی پیشگی اجازت لازمی قرار دی گئی ہے۔ اسپیکر کو یہ اختیار بھی ہوگا کہ وہ چالان عدالت میں پیش ہونے سے پہلے خود اس معاملے کی انکوائری کروا سکیں۔
ملک گیر سیکیورٹی: ہر ایم پی اے کو ‘کیٹیگری بی’ کی سیکیورٹی دی جائے گی، جسے خطرات کی صورت میں ‘کیٹیگری اے’ تک بڑھایا جا سکے گا۔ یہ سیکیورٹی صرف خیبر پختونخوا تک محدود نہیں ہوگی، بلکہ معزز اراکین اسے اپنے ساتھ گلگت بلتستان، آزاد کشمیر سمیت پورے پاکستان میں لے جا سکیں گے۔
اور اگر کسی نے اعتراض کیا تو۔۔۔؟قانون سازوں نے اپنے تحفظ کا ایسا انتظام کیا ہے کہ اگر کوئی ان کے خلاف آواز اٹھائے تو اس کے لیے سزا کا پورا مینو تیار ہے۔ پہلی انوکھی بات یہ ہے کہ اس ایکٹ کے تحت ایک "جوڈیشل کمیٹی” بنے گی جس کے پاس اراکین کی توہین یا استحقاق کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خود ہی سزا دینے اور قید سنانے کے خصوصی اختیارات ہوں گے۔ اگر میڈیا نے اسمبلی کی کارروائی پر کوئی ایسی رپورٹنگ کی جسے "مالیاتی، جھوٹی یا ہتک آمیز” سمجھا گیا، تو شیڈول 1 کے تحت 3 سے 6 ماہ تک کی قید یا 3 سے 10 لاکھ روپے تک کا جرمانہ کیا جا سکے گا۔
آفیشل گزٹ کے سامنے آنے کے بعد وہ تمام حکومتی اور وفاقی بیانات زمین بوس ہو گئے ہیں جن میں اس بل کو "جھوٹا اور من گھڑت” کہا جا رہا تھا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ:
جو وزراء اور ترجمان پریس کانفرنسز میں بیٹھ کر عوام کو یہ یقین دلا رہے تھے کہ اراکین نے کوئی اضافی مراعات نہیں لیں، کیا انہوں نے خود اپنی ہی حکومت کا گزٹ نوٹیفکیشن نہیں پڑھا تھا؟ یا پھر یہ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی ایک دانستہ کوشش تھی؟

ایک طرف صوبہ شدید مالی بحران کا روونا روتا ہے، امن و امان کی صورتحال نازک ہے، اور دوسری طرف اراکینِ اسمبلی اپنے لیے 8، 8 ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنس، تاحیات آفیشل پاسپورٹ، مفت ٹول ٹیکس اور عدالتوں سے استثنیٰ کے قوانین پاس کر رہے ہیں۔ کیا پی ٹی آئی کا "وی آئی پی کلچر” اور "اشرافیہ کی مراعات” کے خلاف نعرہ صرف دوسروں کے لیے تھا؟ اپنے صوبے میں یہ شاہانہ کلچر کس تبدیلی کی علامت ہے؟

قانون سازی یا میڈیا کی زبان بندی؟ کے پی اسمبلی کے نئے ایکٹ میں صحافیوں کے لیے قید اور بھاری جرمانے مقرر

 خیبرپختونخوا اسمبلی نے جہاں اپنے لیے شاہانہ مراعات کا قانونی بندوبست کیا ہے، وہیں آزادیِ صحافت پر بھی بڑا وار کرتے ہوئے میڈیا کے لیے سخت پابندیاں، قید اور بھاری جرمانے نافذ کر دیے ہیں۔ "خیبر پختونخوا پروونشل اسمبلی (پاورز، امیونٹیز اینڈ پریولیجز) ایکٹ 2026” کی سرکاری دستاویزات کے مطابق اب ایوان کی کارروائی پر رپورٹنگ پھونک پھونک کر کرنا ہوگی، ورنہ صحافی براہِ راست جیل جا سکتے ہیں۔

نئے قانون کے تحت میڈیا صرف منصفانہ، درست اور حقائق پر مبنی رپورٹنگ یا کارروائی کا درست خلاصہ شائع کرنے کا پابند ہوگا۔ اگر کسی صحافی یا ادارے نے ضوابط کی خلاف ورزی کی تو سزاؤں کا پورا مینو تیار ہے۔

صحافیوں کے لیے سزاؤں اور جرمانوں کا "پیکیج”

غلط یا مسخ شدہ رپورٹنگ: اسمبلی کارروائی کی غلط یا مسخ شدہ رپورٹنگ پر 3 ماہ قید اور تین لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

ممنوعہ کارروائی کی اشاعت: پریذائیڈنگ آفیسر (اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر) کو یہ اختیار ہوگا کہ وہ اسمبلی اجلاس کے کسی بھی حصے کی اشاعت پر پابندی لگا دیں۔ اگر کسی میڈیا ہاؤس نے اس ممنوعہ کارروائی کو شائع کیا تو 6 ماہ قید اور 10 لاکھ روپے تک جرمانہ بھگتنا ہوگا۔

 

اسپیکر پر جانبداری کا الزام: اگر کسی نے پریذائیڈنگ آفیسر کے کردار پر جانبداری کا الزام لگایا یا کوئی انگلی اٹھائی، تو اسے 6 ماہ قید اور 10 لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جا سکے گا۔

رکنِ اسمبلی کی توہین: کسی بھی ایم پی اے کے خلاف توہین آمیز مواد یا بدنیتی پر مبنی رپورٹنگ کرنے پر 6 ماہ قید اور 10 لاکھ روپے تک کا بھاری جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔

وقت سے پہلے خبر دینا جرم: اگر کسی صحافی نے اسمبلی کمیٹی کی کارروائی ایوان میں رپورٹ ہونے سے پہلے بریک کی، یا کوئی تحریکِ التوا اسمبلی میں پیش ہونے سے قبل شائع کر دی، تو اسے بالترتیب 3 ماہ اور 1 ماہ تک کی قید کی سزا سنائی جا سکے گی۔


ایوان سے مستقل دیس نکالا اور سرکاری میڈیا کو تحفظ نئے قانون نے پریذائیڈنگ آفیسر کو یہ مطلق اختیار دے دیا ہے کہ وہ کسی بھی صحافی یا میڈیا نمائندے کے اسمبلی داخلے پر نہ صرف عارضی پابندی لگا سکتے ہیں، بلکہ انہیں مستقل طور پر ایوان سے روکنے کا اختیار بھی رکھتے ہیں۔ دوسری طرف، سرکاری اطلاعاتی اداروں کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے، یعنی سرکاری پبلشرز اگر اسمبلی رپورٹس جاری کریں تو انہیں کسی بھی قانونی کارروائی سے مکمل استثنیٰ حاصل ہوگا۔

 ایک طرف تو تحریکِ انصاف وفاق اور پنجاب میں میڈیا پر پابندیوں، ‘سنسرشپ’ اور آزادیِ اظہارِ رائے پر قدغنوں کے خلاف سب سے بلند آواز میں احتجاج کرتی ہے، تو دوسری طرف اپنے ہی صوبے میں صحافیوں کو جیل بھیجنے اور لاکھوں روپے جرمانے کرنے کا یہ کالا قانون کس "آزاد اور جمہوری” برانڈ کا حصہ ہے؟ کیا جمہوریت کا درد صرف اسلام آباد کی حد تک محدود ہے؟

قانون میں لکھا ہے کہ "بدنیتی پر مبنی رپورٹنگ” پر سزا ہوگی۔ اب یہ "بدنیتی” طے کون کرے گا؟ یقیناً وہی اراکینِ اسمبلی اور اسپیکر جن کی شاہانہ مراعات پر میڈیا سوال اٹھائے گا۔ تو کیا اس قانون کا اصل مقصد اراکینِ اسمبلی کی عیاشیوں کو میڈیا کی نظروں سے چھپانا اور پریس گیلری کو صرف "جی حضور” کہنے پر مجبور کرنا ہے؟

 

About The Author