مئی 15, 2021

ڈیلی سویل۔۔ زمیں زاد کی خبر

Daily Swail-Native News Narrative

ٹوٹے پھوٹے لوگوں کی فیکٹری||عامر حسینی

تامل شاعرہ سلمہ کی یہ نظم میں سکرول ان ویب سائٹ پہ پڑھ رہا تھا،جب مجھے ڈاک سے نیئر مصطفا کی دو کتابیں موصول ہوئیں۔ ایک ہے "ڈھشما" اور دوسری ہے "ٹوٹے پھوٹے لوگوں کی فیکٹری"۔

عامرحسینی 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

 

توازن

 

 

 

کسی اور دن کے واسطے آج

 

اس دکھ کی جگہ

 

ایک الگ سی اداسی کو دے ڈالو

 

اس بے وفائی کی جگہ

 

پھر کسی اور کو دے ڈالو

 

اس غم سے باہر آنے کے لیے

 

ایک اور دکھ کو بھوگو

جب مجھے ادراک ہوجاتا ہے

 

کہ میری زندگی صرف

 

توازن برقرار رکھنے کا عمل ہے

 

اس ادراک کی شرمندگی

 

مجھے اندر سے کھانے لگتی ہے

 

ہر دن

 

دوسرے دن پر

 

رینگتا ہوا

 

ایک کیڑے کی طرح

 

کوئی نشان چھوڑ کر نہیں جاتا ہے

 

شیر کے بچے اکٹھے ہوں

 

غیرمستقر ماضی کے اوپر

 

ایک دن پہلے زرا دیر کے لیے

 

ہوسکتا موجودہ دن غروب ہوجائے

 

چھینکوں کے خوف ناک عمل کے درمیان

تامل شاعرہ سلمہ کی یہ نظم میں سکرول ان ویب سائٹ پہ پڑھ رہا تھا،جب مجھے ڈاک سے نیئر مصطفا کی دو کتابیں موصول ہوئیں۔ ایک ہے "ڈھشما” اور دوسری ہے "ٹوٹے پھوٹے لوگوں کی فیکٹری”۔ ڈھشما مجھے ابھی پڑھنا ہے جبکہ دوسری کتاب چاچا ممدو ورس از گاما تیلی تک میں نے پڑھ ڈالی ہے۔ زندگی میں عام آدمی بس بیلنسنگ ایکٹ دوہراتے دوہراتے ہی اپنی زندی ختم کربیٹھتا ہے اور ایسے کردار بہت کم ہوتے ہیں جو بیلنسنگ ایکٹ کو تیاگ کر بغاوت کو منتخب کرتے ہیں اور اپنی راہ آپ بناتے ہیں۔

 

 

 

میں ایک بات تو شروع ہی میں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ میں ادب کا "نقاد” نہیں ہوں لیکن قاری ضرور ہوں اور میں ان نقادوں کی رائے کو مقدم رکھتا ہوں جو فکشن کا شوقیہ مطالعہ کرتے ہیں اور اپنے شعری ذوق کو اس میں زبردستی داخل نہیں کرتے۔ وارث علوی کہا کرتے تھے کہ عسکری،ممتاز شیریں ،م‍ظفر علی سید ،محمد عمر میمن یا باقر مہدی ایسے نقاد تھے جو فکشن کو ذوق اورشوق سے پڑھا کرتے تھے اور وہ انے اندر رہے قاری کو مرنے نہیں دیتے تھے۔ وہ فکشن پہ بات کرتے ہوئے کوئی ایسا بیان نہیں دیتے تھے جو ایک طرز،ایک اسلوب یا ایک طریق کار کو فکشن کا عمدہ ترین طریقہ گردانے۔ نیئر مصطفا کی کہانیوں میں ،میں فکشن کی ایک نئی رنگا رنگی سے واقف ہوا ہوں اور یہ مختصر کہانیاں کیسی ہیں؟ مجھے اپنے پاس سے تو اس کے اظہار کے لیے الفاظ دستیاب نہ ہوئے تو میں نے وارث علوی سے مستعار لے لیے۔ "افسانہ نگار اور قاری” کے عنوان سے لکھے مضمون میں انھوں نے ایک جگہ پہ کہا تھا کہ وہ بالزاک اور ڈکنز کا نام لیکر رعب گانٹھنا نہیں چاہتے البتہ اگر اسے مباہات نہ سمجھا جائے تو وہ وہ عرض کریں کہ وہ ادب کے شب زندہ دار ہیں، بڑی نمازیں بھی پڑھتے ہیں ، لیکن ساتھ ہی مخۃصر افسانوں پر شکرانے کے نفل بھی ادا کرتے ہیں۔ تو نئیر مصطفا کے مختصر افسانوں پہ میں بھی شکرانے کے نفل ادا کررہا ہوں۔اور اسے وارث علوی کی طرح فضیلت سمجھتا ہوں۔ چھوٹی نمازوں کا بھی اپنا ہی ایک روحانی کیف ہوتا(علوی) تو یہ مختصر افسانے بھی ایسے ہی ہیں۔ ایک سچا قاری وہ ہوتا ہے جو "اپنے ذوق تجسس، آرزوئے نشاط اور جذبہ حیرانی کو مرنے نہیں دیتا اورآرٹ کی تخیئلی دنیا میں یہ آرزئے نشاط اسے حیران و سرگرداں لیے پھرتی ہے- قاری کے اعضاب زندہ ہوتے ہیں اور وہ جھوٹ نہیں بولتے”۔ یہ چیزیں قاری کو جتھہ بند، گروہ بند بننے سے بچاتی ہیں۔ "افسر حسین ولد سکینہ مائی” سے کہانیاں شروع ہوتی ہیں اور افسر حسین کا کردار جیسے آپ کے سامنے نیئر مصطفا بیان کرتے ہیں، آپ اس کردار میں کہیں نا کہیں اپنی جھلک دیکھ لیتے ہیں اور اس دوران افسر حسین کو پڑنے والی پیش افتاد میں وہ آپ کو زمانے کی نیرنگی کی داستان سناتا چلا جاتا ہے، بڑے رسان طریقے سے وہ افسر حسین کی بیوی کی زچگی کے دوران پیش آنے والے کچھ ایسے واقعات کو بیان کرتا چلا جاتا ہے جس میں پاور اور طاقت دونوں ملوث ہیں اور ایک کمزور سماجی مرتبے کا آدمی کیسے اس دو چیزوں سے مار کھاجاتا ہے اور جب کبھی افسر حسین ولد سکینہ مائی جیسے کرداروں کو اپنے آپ کی صفائیی پیش کرنے کا موقعہ آتا ہے تو کیا ہوتا ہے:

 

 

 

"افسر حسین ابھی ٹھیک سے چونک بھی نہ پایا تھا کہ ایک طویل قامت مکوڑا اس کی ناک میں گھس گیا”

 

 

 

میں اس سے آگے جب دوسری کہانی "بخاری صاحب کا ہٹلر” تک پہنچا اور اسے پڑھنے لگا تو بخاری نامی کردار اور اس کی عادات ، حرکات و سکنات کی تفصیل پڑھ کر پہلے تو میرے ذہن میں کارل مارکس کا درمیانے طبقے/ پیٹی بورژوازی کے کردار بارے کلاسیکی تبصرہ آیا کہ درمیانے طبقے کا سر آسمان پہ اور پیر کیچڑ میں ہوتے ہیں اور پھر میرے ذہن میں ولہم رائخ کی "فاشزم کی نفسیات” اور ” سن او بالشتيے/ لسن او لٹل مین” کے مندرجات آگئے۔ کمینگی اور ذات کا جھوٹا پندار درمیانے طبقے پہ ختم ہیں اور بخاری صاحب جن کو اپنے سامنے لوگ انتہائی چھوٹے نظرآتے تھے جب ایک پھل بیچنے والے کی لمپئن تشدد کا شکار ہوتے ہیں تو گھر آکر وہ اپن ہٹلر کو قتل کردیتے ہیں۔ درمیانے طبقے کے پندار ، کمینگی، پیروں کے کیچڑ میں دھنسے ہونے کوجیسے نئیر مصطفی نے "ہٹلر” سے تشبیہ دی وہ کمال کی ہے۔ ڈوبتے سورج کا لمس، بوڑھا چارلی اور ریمبراں ، بولنے والے طوطے اور ظالم بادشاہ کی کہانی ، اشرف المخلوقات ، رنگوں میں سوچنے والی لڑکی اور چاچا ممدو بمقابلہ گاما تیلی یہ سب ہی کہانیاں ایسے کرداروں پہ مشتمل ہیں ج سے آپ واقف ہوں گے  لیکن جیسے نیئر مصطفی نے ان کو بیان کیا ہے وہ ان کا اپنا اسلوب، اپنا بیانیہ ہے اور وہ آپ کو ہلنے نہیں دیتا۔ شستہ زبان ہے ، تہہ داری بھی ہے لیکن پمفلٹ بازی، نعرے بازی کہیں بھی نہیں ہے۔ ميں نیئر مصطفی سے دو سے تین مرتبہ ملا اور وہ بھی شاید ڈاکٹر خالد سعید صاحب کے ہاں- ڈاکٹر خالد سعید نے "ٹوٹے پھوٹے لوگوں کی فیکٹری” پہ جو تفصیلی مقدمہ لکھا ہے وہ میں نے اس مضمون کو یہاں تک لکھ دینے کے بعد پڑھا ،میں نہیں چاہتا تھا کہ میں اپنے اندر رہے قاری کی نظر کو ڈاکٹر خالد سعید صاحب جیس مہان استاد کی نظر اور پرکھ کے پیچھے چھپادوں اور پھر مجھے یہ کیسے اندازہ ہوپاتا کہ ڈاکٹر خالد سعید ادب کی پرکھ اور شناس میں مجھے سے کتنے درجے آگے کھڑے ہیں۔ انھوں نے گنیش دیوتا کے بے ڈھنگے پن اور ٹوٹ پھوٹ کے پیچھے کارفرما مائتھ اور نیئر مصطفا کے "ٹوٹے پھوٹے لوگوں کی فیکٹری” کے درمیان مماثلت اور فرق کو دریافت کیا وہ انی کا خاصہ ہے۔

 

 

 

"ٹوٹا پھوٹا گنیش اپنی ماتا کی آبرو کی حفاظت کی علامت بھی ہے اور ٹوٹے پھوٹے لوگوں کی آس بھی۔۔۔۔۔۔مگر نئیر مصطفی کی "۔۔۔فیکٹری” ایک امد شکن نوٹ سے ختم ہوتی ہے جب ستر برس کا بوڑھا جس کے پاس زمانہ قدیم کے انمول گیت اور بھاؤ ہیں وہ خود کشی سے پہلے ایک ایسے نوجوان کو سونپ جاتا جو گونگا ہوتا ہے۔۔۔۔۔

 

 

 

یہ بھی پڑھیے:

ایک بلوچ سیاسی و سماجی کارکن سے گفتگو ۔۔۔عامر حسینی

کیا معاہدہ تاشقند کا ڈرافٹ بھٹو نے تیار کیا تھا؟۔۔۔عامر حسینی

مظلوم مقتول انکل بدرعباس عابدی کے نام پس مرگ لکھا گیا ایک خط۔۔۔عامر حسینی

اور پھر کبھی مارکس نے مذہب کے لیے افیون کا استعارہ استعمال نہ کیا۔۔۔عامر حسینی

عامر حسینی کی مزید تحریریں پڑھیے

(عامر حسینی سینئر صحافی اور کئی کتابوں‌کے مصنف ہیں. یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے ہے ادارہ کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں)

%d bloggers like this: