مئی 15, 2021

ڈیلی سویل۔۔ زمیں زاد کی خبر

Daily Swail-Native News Narrative

تاریخی ورثے کا مذہب نہیں ہوتا||وجاہت علی عمرانی

اس شہر کی مٹی میں جہاں محبتوں کی خوشبو رچی بسی ہے۔ وہیں چند کاروباری ذہنیت کے لوگوں میں قدیم عمارتوں کو ملیا میٹ کرنے کا جنون بھی عرصہ دراز سے اپنے پورے جوبن پر نظر آتا ہے۔

وجاہت علی عمرانی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہر معاشرہ اپنی مخصوص روایات، تہذیب وتمدن اور ثقافت رکھتا ہے اور کسی بھی معاشرے، خطے، قوم یا ملک کی تہذیب و ثقافت نہ صرف اس کی تاریخ کی ترجمان ہوتی ہے بلکہ یہ اس کے تاریخی طرز تعمیر اور معاشرے کی بودوباش کی بھی عکاس ہوتی ہے۔ یقیناً کوئی بھی معاشرہ اپنی تہذیب و ثقافت کے تحفظ کے بغیر اپنی تاریخ سے منسلک نہیں رہ سکتا۔ دوسرے تاریخی شہروں کی طرح ڈیرہ اسماعیل خان بھی ہمیشہ علم و ادب، فن و ثقافت، سماجی و سیاسی سرگرمیوں اور تعمیر و ترقی کا گہوارہ رہا ہے۔

اس شہر کی مٹی میں جہاں محبتوں کی خوشبو رچی بسی ہے۔ وہیں چند کاروباری ذہنیت کے لوگوں میں قدیم عمارتوں کو ملیا میٹ کرنے کا جنون بھی عرصہ دراز سے اپنے پورے جوبن پر نظر آتا ہے۔ لیکن ایسے حالات میں بھی ہر دور میں ڈیرہ اسماعیل خان کے جہاندیدہ، صاحبان علم و فن اور تاریخ کے قدردان شخصیات فن تعمیرات کے حامل شان دار عمارتوں کو محفوظ رکھنے کا جذبہ بھی رکھتی آ رہی ہیں۔

حکومت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ ساتھ لوگوں کو یہ سمجھنا ہو گا کہ یہ قدیم عمارتیں اور آثار قدیمہ ہماری تہذیب و روایات اور تمدن کی عکاسی کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ اگر ہم ملکوں کی تاریخ کو دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ کسی بھی قوم کے لیے وہاں کی قدیم عمارتیں، محل، حویلیاں اور آثار قدیمہ اس کا قیمتی سرمایہ اور قومی ورثہ ہوتے ہیں جو نہ صرف اپنے اندر اس قوم کی تہذیب و ثقافت کی پوری تاریخ سموئے ہوتے ہیں بلکہ اپنے اندر بڑی کشش بھی رکھتے ہیں۔

اس لیے ہمیں اپنی تہدیب و روایات اور تاریخی عمارتوں کی حفاظت کے لئے کوئی نہ کوئی اقدام کرنا چاہیے تاکہ انہیں باقی رکھا جا سکے، نہ کہ ان شاندار ورثوں کو گرا کر وہاں پلازے بنائے جائیں۔ لیکن افسوس کے ساتھ دیکھا یہ گیا ہے کہ شہری ترقی کے نام پر بے ہنگم منصوبہ بندی اس شہر بے وارثاں ڈیرہ اسماعیل خان کے تاریخی اثاثوں کو برباد کر رہی ہے۔ اس طرح ہم خود ہی اپنے تاریخی ورثے اور تاریخی مقامات کو نقصان پہنچانے کے ذمہ دار ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میں ان تاریخی ورثوں اور تاریخی مقامات کے قریب کوئی ایسی عمارتیں تعمیر نہیں کی جاتیں جن سے ان مقامات کو نقصان پہنچے مگر افسوس ہمارے یہاں کسی کو فکر نہیں ان قدیم عمارتوں کے ساتھ تو کجا سرے سے ان عمارتوں کو ہی گرا رہے ہیں جو کہ ہماری تہذیب و روایات کا حصہ ہیں۔

یاد رکھیں برصغیر کی فن تعمیر کو عالمی ثقافتی ورثہ میں جو چیز شامل کرتی ہے وہ ہے مغلوں کا فن تعمیر۔ بابر، اکبر، جہانگیر اور شاہجہاں جیسے ناقابل فراموش مسلم سلاطین ہندوستان میں فن تعمیر کے علمبردار تھے جنہوں نے صدیوں پرانی ہندوستانی ویدک روایات سے ہم آہنگ اور ایران اور وسطی ایشیا کی عمارتی ساخت اور آرائش و زیبائش کے ساتھ اسلامی فن تعمیر کو غیر معمولی فروغ دیا۔ یہ اسلامی فن تعمیر صرف مسلمانوں کے لیے مختص نہیں تھی بلکہ اس فن تعمیر کو مسلمانوں، ہندوؤں، سکھوں، عیسائیوں، پارسیوں، بدھ مت اور برصغیر میں موجود دیگر مذاہب کے لوگوں نے بڑھ چڑھ کر استعمال کیا۔

چاہے کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کی میناروں سے سجی ذاتی حویلیاں، گنبدوں سے مذین آشرم، دیوان، قلعے یا پھر باغ ہوں، وہ سب برصغیر میں تہذیب کی خوصورت عکاسی کرتے تھے۔ تعمیر کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ ورثہ کسی ایک مسلک کا نہیں ہوتا۔ یہ کہنا کم علمی اور کم عقلی کا نتیجہ ہے کہ فلاں محل ہندو نے بنوایا تھا، توڑ دو۔ فلاں مندر ہندو چھوڑ گئے تھے، گرا دو۔ حالانکہ یہی ہندو حویلیاں و آشرم اسلامی فن تعمیر کا شاہکار نمونہ ہیں۔

ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کے مصر میں اکثریت راسخ العقیدہ مسلمانوں کی ہے لیکن وہ آج بھی اپنا رشتہ فرعونوں سے جوڑتے ہیں۔ حالانکہ فراعین مصر سورج کے پجاری تھے۔ مصری بڑے فخر سے دنیا کے سامنے فرعون اور ان کی یادگاروں کو پیش کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں یادگاروں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا بلکہ وہ ورثہ ہوتی ہیں۔ ہر قوم و معاشرہ بلا مذہبی تفریق اپنے تہذیبی اثاثوں کی قدر کرتی ہیں اور اس کی حفاظت قومی فریضہ کے طور پر کی جاتی ہے۔

ہمارے وطن عزیز خاص کر ڈیرہ اسماعیل خان میں میں معاملہ ذرا برعکس ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم آثار قدیمہ کی اہمیت و افادیت سے بالکل غافل ہیں ، گویا ہمیں اپنی ثقافتوں کی فکر ہے نہ اپنی وارثت کی کوئی پروا، نہ اپنی تاریخی نشانیوں کا احساس، بس یہی سوچ پروان چڑھ رہی ہے بلکہ ذہنوں میں زہر کی طرح انڈیلی جا رہی ہے کہ چھوڑو یار! یہ محل، یہ حویلی، یہ آشرم، یہ عمارت کسی بگائی سیٹھ نامی ہندو نے سو سال پہلے بنائی تھی۔

یہ عمارت ہندو ہے گرا دو۔ یہ نہیں جانتے کہ یہ بگائی تھا کون؟ بگائی ایک سچا اور سچا ڈیرے وال تھا۔ ڈیرے والوں کا خدمت گزار تھا۔ جس نے شہر ڈیرہ میں سماجی بہبود اور عوام الناس کی فلاح و بہبود کے لئے گراں قدر خدمات انجام دیں اور اس شہر کے باسیوں کو بلا تفریق و امتیاز ہسپتال، اسکول اور کالجز دیے، تعلیم، سماجی، رفاہی کاموں کے درجنوں کارنامے بگائی سیٹھ کے مرہون منت ہیں جس سے آج تک ڈیرہ سے تعلق رکھنے والا ہر فرد فائدہ اٹھا رہا ہے۔

مانتے ہیں وہ ہندو تھا، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ وہ پکا ڈیرے وال تھا۔ ان کی خدمات ہندوؤں کے لیے نہیں بلکہ ڈیرے والوں کے لیے تھیں۔ بحیثیت ڈیرہ وال! کیا ہم نے بگائی سیٹھ کی خدمات کا قرض ادا کیا؟ کیا ان کو وہ مقام دیا جس کے وہ اہل تھے؟

آج یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ ہم نے اپنے ڈیرہ اسماعیل خان میں تاریخی طور پر کیا چھوڑا۔ گلی محلوں سے لے کر سڑکوں اور عمارات تک کے نام بدل دیے۔ تاریخی نشانیوں کو مسمار کر دیا یا انہیں اکھاڑ کر کباڑ خانوں کی زینت بنا دیا۔ سیانے کہتے ہیں! جو قوم اپنی تاریخ بھلا دیتی ہے، اس قوم کا جغرافیہ خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ حکومت اور متعلقہ اداروں کی طرف سے اگر ہنگامی اقدامات اور بروقت ان کی حفاظت نہ کی گئی تو جلد یہ بچی کچھی تاریخی نشانیاں بھی مٹی ہو جائیں گی اور ہم بے نام۔

یہ بھی پڑھیے:

%d bloggers like this: