اپریل 23, 2021

ڈیلی سویل۔۔ زمیں زاد کی خبر

Daily Swail-Native News Narrative

عمران سلطان ،”فنِ خطاطی کو نئی جہت دان کرنے والا آرٹسٹ

شادی ایک سماجی معاہدہ ہے جسے فریقین اپنی مرضی سے یا والدین اور رشتے داروں کی منشا سے طے کرتے ہیں پھر اس معاہدے کو پورا کرنے میں عمریں گزار دیتے ہیں۔

تحریر : مختار بھٹہ

"فنِ خطاطی کو نئی جہت دان کرنے والا آرٹسٹ بھی وقت سے پہلے رخصت ہوا*
فنکار کسی بھی معاشرے کی اجتماعی سوچ، فکر اور سمت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ ایک فنکار اپنے فن پاروں کی اپنے لہو سے آبیاری کرتا ہے اور پھر آخرکار فنکار کی یہی متاع اسے رہتی دنیا تک امر کر دیتی ہے۔


لاہور سے تعلق رکھنے والے عمران سلطان کو فنِ خطاطی اپنے والد استاد سلطان سے وراثت میں ملی جس کی آبیاری وہ آخری سانسوں تک کرنے میں ہمیشہ مگن رہے اور فنِ خطاطی کو نئی اور جدید جہت سے روشناس کروانے کی جستجو میں بیقرار رہے۔

آپ نے اپنی لگن اور انتھک محنت سے فنِ خطاطی کو کئی نئے رموز عطا کئے جن سے آنے والی نسلیں فیض یاب ہونگی۔ اس درویش صفت آرٹسٹ نے پوری دنیا میں اپنے فن کا لوہا منوایا۔

ان کے فن کی بے شمار نمائشں ملک سطح کے علاوہ کم و بیش دنیا کے آٹھ ممالک میں کامیابی سے منعقد ہوئیں۔ انھوں نے کئی ملکی اور بین الاقوامی اعزازات اپنے نام کئے۔


غمِ روزگار کے درپیش مسائل میں الجھے رہنے کے باوجود کسی سرکاری اور ریاستی سرپرستی کے بغیر ساری زندگی اپنے والد کی قائم کردہ "پاکستان کیلی گرافی آرٹ گلڈ” کے پلیٹ فارم کو آباد رکھا،

بغیر معاوضے کی فنِ خطاطی سے وابستہ طالب علموں میں علم کی روشنی بانٹتے رہنے کے ساتھ ساتھ کیلی گرافی آرٹسٹوں کے حقوق اور معزز مقام دلانے کی جدوجہد میں مصروف رہے۔


یہ عظیم آرٹسٹ کچھ عرصہ قبل کورونا وائرس کو شکست دے کر آیا تو دل کے عارضی میں مبتلا ہوا اور 29 مارچ 2021 کو اپنے لاکھوں شاگردوں اور مداحوں کو اداس چھوڑ کر خاموشی سے ابدی نیند سو گیا۔


بے حِسی کی انتہا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر ملک کا نام روشن کرنے والے صوفی مزاج اس عغیم فنکار کے بروقت علاج کیلئے کسی سرکاری ادارے کو توفیق نہ ہوئی نہ ہی ان کی موت کی خبر کسی مین سٹریم میڈیا نے نشر کی اور نہ ان کے فن پر کوئی تبصرہ کرنا گوارہ کیا کیونکہ اس ریاست کی ترجیحات میں فن اور فنکار کی سرپرستی شامل ہی نہیں مگر ہمیں یقین ہے کہ ان کا فن ہمیشہ انھیں زندہ رکھے گا۔
بقول سرائیکی شاعر احمد خان طارق
"ہوسوں اساں ہوسوں پئے
نا ہوسوں وی ہوسوں پئے”

ان کے فن پاروں کے کچھ نمونے پیشِ خدمت ہیں

 

یہ بھی پڑھیے:

شمائلہ حسین کی مزید تحریریں پڑھیے

%d bloggers like this: