مارچ 2, 2021

ڈیلی سویل۔۔ زمیں زاد کی خبر

Daily Swail-Native News Narrative

"مبارک نگر”||ملک رزاق شاہد

ہم اپنی تھوڑی سی زرعی زمین پر گزر بسر کرتے ہیں اور ہمارے پاس جو آتا ہے وہ کچھ لے کر جاتا ہے.... ہمیں بس دعاؤں میں یاد کرنا اور کتاب دوستی کا بھرم رکھنا.

رزاق شاہد

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تار کول جیسا برقعہ، سڑک جیسی بوسیدہ چپل، ہاتھوں پر مشقتوں کی ضربیں… ایک عورت….

لمبی سفید ریش، سر پر موسم سے لڑتی آلودہ ٹوپی پہنے…. ایک مرد، جو جوانی سے پہلے بڑھاپے کے قبضے میں ایسے آیا جیسے اس کا وطن حریص بھیڑیوں کے گھیرے میں آیا …

دونوں ایک دوسرے سے بے زار بے ہنگم گاڑیوں کو سرسری دیکھ رہے تھے کہ…. ہم جا رکے.

سنجر پور یہی سڑک جاتی ہے کیا؟

آواز سننے والی مستور نے مرد کو دیکھا بزرگ نے حیرت اور اچھنبے سے کچھ سمجھنے کی کوشش کی کہ عورت کی موجودگی میں اجنبی کیوں بولا….

ناچار جواب دیا… جی یہی رستہ……

کہ دوسری طرف ایک شفیق آواز آئی… آگے سڑک پر پانی کے ڈیرے ہیں.

آپ اُدھر سے چلیں… قدرے ٹھیک ہے.

آپ نے کہاں جانا ہے؟

مبارک لائیبریری

محمد آباد

آپ میرے پیچھے آئیں.. پہنچا دیتا ہوں.

شفیق لہجہ رفیق بنا شکستہ راہوں کی دھول سے بچنے کی ناکام کوششیں کرتے رہے … ایک موڑ پر اس نے اپنا بائیک روکا… سامنے محمد آباد ہے یہیں پیر گوٹھ سکول میں استاد ہوں.. پیر سائیں کو اسحاق عباسی کا سلام کہنا.

شکریہ ادا کرتے آگے بڑھے…. "یارباش” منزل لکھا دیکھا تو تکان جاتی رہی. اک جوان نے دروازہ کھولا. صاف پاکیزہ سا بڑا کمرہ، ایک طرف پلنگ جبکہ دوسری طرف تصویریں کچھ کتابیں، آرٹ کے شاہکار

درمیان میں سلیقے سے رکھے صوفے ….. تھوڑی دیر میں سید انیس شاہ جیلانی جیسی سفید مونچھیں اور قلندرانہ شان…. گلے ملتے ہی بولے…..

میں ہوں ابوالحسن شاہ….

آپ تو ڈاکٹر بھی ہیں… چھوڑیں یہ ثانوی چیز ہے..

کتنا خوبصورت نام رکھا ہے آپ نے…

یار باش!!

میرے ایک بیٹے کا نام خوش باش ہے

دوسرا یار باش

جبکہ بیٹی کا نام خوش نما ہے.

ایک خوش لباس میزبان کی آمد پر ہم سارے اٹھ کھڑے ہوئے… گرم جوشی سے ہاتھ ملاتے بولے میں ہوں ابوالفضل شاہ اور پھر انیس شاہ جیلانی کے تیسرے بیٹے ابوالکلام شاہ تشریف لائے….

تو یہ تھے 1926 کے سال ریاست بہاولپور میں دریائے سندھ کے مشرقی کنارے صوبہ سندھ کی شمالی سرحد کے قریب اپنی زرعی اراضی پر مبارک اردو لائبریری قائم کرنے والے سید مبارک شاہ جیلانی کے پوتے.

جہاں ریا نہ ہو جہاں نمود مقصد نہ ٹھہرے جہاں پنہاں و عیاں کے بکھیڑے نہ ہوں تو پہلی ملاقات کے تکلفات اور حجابات دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں. قہقہے لگے لطیفے ہوئے چائے چلی بسکٹوں کے قصیدے پڑھے.

صادقین کے فن پر تبصرہ، دادا کے سفر ہند کے تزکرے، ابا کے شہرِ کراچی کے شہرے…. ایسے سنے یوں سنوائے کہ خیال نہ آیا کہ ابھی کتابوں کے سمندر سے سیپیاں چننی ہیں موتیوں کو دیکھنا ہے…

کچھ دیر بعد لائیبریری کے مرکزی کمروں کی طرف بڑھے.

تینوں بھائی بڑے ناز سے، اک ادا سے بتاتے رہے یہ ابا کا کمرہ ہے…. کتابوں کے بیچ فرش پر تخت…. اس کے اوپر گِندی اور ایک تکیہ…. یہ ابا کے سونے کا کمرہ ہے…. پورے کمرے میں کتابوں کے بیچ سونے کی تھوڑی سی جگہ….. باقی کتاب ہی کتاب …. دن رات یہیں گزراتے… پڑھتے پڑھتے تھک گئے تو سستا لیا،… کچھ دیر سو لیا پھر کتاب اٹھا لی… بس یہی ہمارے ابا کے معمولات تھے…. باہر بیٹھنا چاہا تو سامنے جال کے سائے میں برآمدے میں اس آرام کرسی پر…

سعادت مند اولاد نے ابا کے استعمال کی ہر چیز سنبھال رکھی… قلم بھی دوات بھی لباس بھی کتاب بھی.

دادا کی طرح ابا کو بھی مخطوطات جمع کرنے کا بہت شوق تھا. ہاتھ سے لکھی جو تحریر انہیں ملی اسے محفوظ کیا یہ دیکھیں سید محمد تقی کی کتاب کے مکمل مسودے کو…. اسے ہم نے جلد لگوا کر محفوظ کر لیا ہے سید ابوالکلام بتا رہے تھے.

ہمارے پاس انیس سو ساٹھ سے لیکر آج تک روزنامہ جنگ کے سارے اخبارات محفوظ ہیں.

دادا اور ابا کی جن جن اکابرین سے خط و کتابت ہوئی وہ تو اب کتابی صورت میں چھپ چکی ہے تقریباً تیرہ سو افراد کے خطوط محفوظ ہیں. جیسا کہ سلمان ندوی، ڈاکٹر ذاکر حسین، حسرت موہانی، علامہ اقبال، نیاز فتح پوری، حکیم اجمل وغیرہ.

اب تو بچے مبارک لائیبریری پر ایم فل کے مقالے لکھنے کے بعد اس پر ڈاکٹریٹ کی طرف بڑھ رہے ہیں.

رئیس امروہی کے وہ نوٹس جو وہ پھینک دیتے تھے ہمارے پاس وہ بھی محفوظ ہیں.

لیکن

ابھی تو بہت کام باقی ہے

یہ عمارت تو ناکافی ہے… تیس ہزار سے زائد کتب، رسائل اور دیگر تحاریر کو سنبھالنے کے لئے ایک بہت بڑا کمپلیکس چاہیے.

جدید سائنٹفک کیٹلاگنگ کی ضرورت ہے.

محققین کے لئے کتابوں کو سکین اور نقل کرنے کے مشینوں کی ضرورت ہے.

پھر اس کی سیکورٹی پر بھی توجہ دینا ہو گی ایک مکمل چاردیواری بھی

ابوالکلام شاہ بتانے لگے کہ زندگی میں پہلی بار لائیبریری کا اے سے چوری ہوا ہوا ہے چند روز پہلے.

دراصل اتنے بڑے اثاثے کو سنبھالنے کے لئے ایک مکمل ادارہ ہونا چاہئے.

یہ تو ہمارے دادا مرحوم کا جنوں اور ابا کا عشق تھا جسے ہم چار بھائی اپنی بساط کے مطابق سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں.

اجازت لیتے وقت پوچھا… آپ دیہات میں رہتے ہیں اور دیہی سماج میں تو سید گھرانہ پیری مریدی کو اوڑنا بچھونا بنا لیتا ہے.

کماتے مرید اور کھاتے پیر ہیں.

تینوں بھائی بیک وقت بولے… توبہ کرو یار…. ہم دینے والے سید ہیں لینے والے نہیں ہمارے بزرگوں نے تعویذ وغیرہ کا سلسلہ بڑی سختی منع کر رکھا تھا اور یہ استحصال اور ظلم ہے..

ہم اپنی تھوڑی سی زرعی زمین پر گزر بسر کرتے ہیں اور ہمارے پاس جو آتا ہے وہ کچھ لے کر جاتا ہے…. ہمیں بس دعاؤں میں یاد کرنا اور کتاب دوستی کا بھرم رکھنا.

یہ بھی پڑھیے:

مولانا بھاشانی کی سیاست۔۔۔ رزاق شاہد

گلاب چاچا تُو اکیلا کبھی نہیں آیا،ملک رزاق شاہد

پیارے بلاول!! تم نے تاریخ تو پڑھی ہو گی۔۔۔ رزاق شاہد

 

%d bloggers like this: