مارچ 7, 2021

ڈیلی سویل۔۔ زمیں زاد کی خبر

Daily Swail-Native News Narrative

شبِ تاریک کی سیاہی||رسول بخش رئیس

بھارت میں متبادل سیاسی جماعتیں‘ سیاست دان اور سماجی و سیاسی تحریکیں نہ صرف اٹھتی رہی ہیں بلکہ انہوں نے مقامی ریاستی اور وفاقی طاقت پر اپنا حق بھی منوایا ہے۔

رسول بخش رئیس

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بھارت اور ہمارے سیاسی نظام کی تاریخ‘ روایات اور اداراتی تشکیل کی جڑیں استعماری ریاست سازی کے طویل عمل سے جڑی ہوئی ہیں۔ سرحد کے دونوں جانب ہماری جمہوریت پارلیمانی‘ وفاقی اور کثیر عددی سیاسی جماعتوں کے یکساں خدوخال سے عبارت ہے۔ وہاں سیکولرازم اور تقریباً نصف صدی تک ملی جلی معیشت اور کانگریس پارٹی کا غلبہ ہندوستان کی جمہوریت کی خصوصی پہچان تھے۔ گزشتہ صدی کے آخری سالوں میں وزیر اعظم نرسمہا رائو اور ان کے اس وقت کے وزیر خزانہ اور بعد میں وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ نے جواہر لعل نہرو کی نظریاتی جہت میں بنیادی تبدیلی کر کے ملک کو ترقی کی راہ پہ ڈال دیا۔ ویسے تو آنجہانی جواہر لعل نہرو نے جدید بھارت کو استوار کرنے میں جو کردار ادا کیا‘ وہ اپنی مثال آپ ہے‘ مگر آزاد ملک کی اکائیوں اور اقلیتوں کو جوڑنے کے لیے سیکولرازم کا پرچار اور اس نظریے کو ریاست کے مزاج میں سمونا کوئی آسان کام نہ تھا۔ اگرچہ وزیر اعظم نریندر مودی کا آج کا بھارت نہرو اور ہندوستان کے آئین کے بانیوں کے عین متصادم ہے‘ لیکن اثرات اب بھی قائم ہیں۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کے حلیفوں کا غلبہ کب تک قائم رہتا ہے‘ مگر یہ واضح ہے کہ وہ ہر لحاظ سے بھارت کی تشکیلِ نو کر رہے ہیں۔ ہندو راشٹریہ اور اکثریت کے نام پر فسطائیت نے بھارتی سیاست اور سماج کو خطرناک راہ پر ڈال دیا ہے۔ مسلم آبادی‘ جو لگ بھگ پاکستان کی آبادی کے برابر ہے‘ مسیحی اور دلت قوموں سے تعلق رکھنے والے نچلے طبقے کے عوام دبائو میں ہیں‘ لیکن سیاسی میدان انہوں نے چھوڑا نہیں ہے۔ جمہوری آزادیاں ویسی تو نہیں جنہیں مغرب میں تحفظ حاصل ہے‘ مگر بھارت میں پسے ہوئے عوام کے لیے راستہ نکل آتا ہے۔ اشتراک‘ اتحاد اور سیاسی گٹھ جوڑ کر کے اقلیتیں انتخابی عمل میں اکثر طاقت کا توازن اپنے حق میں کر لیتی ہیں۔
بھارت میں متبادل سیاسی جماعتیں‘ سیاست دان اور سماجی و سیاسی تحریکیں نہ صرف اٹھتی رہی ہیں بلکہ انہوں نے مقامی ریاستی اور وفاقی طاقت پر اپنا حق بھی منوایا ہے۔ مغربی بنگال میں ایک عرصہ تک کمیونسٹوں کی حکومت رہی ہے۔ ممتا بینرجی نے اپنی سیاست کا آغاز تو کانگریس پارٹی سے کیا تھا‘ لیکن پھر علیحدہ ہو کر ترنمول کانگریس تشکیل دی اور بنگال کی وزیر اعلیٰ منتخب ہوتی رہیں۔ جناب لالو پرشاد یادو پس ماندہ طبقے سے اٹھے اور بڑی سیاسی جماعتوں کو شکست دی۔ عوامی حمایت کے زور پر بہار کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔ وہ عدالتوں کی جانب سے نااہل قرار پائے تو ان کی جگہ ان کی بیگم ربڑی دیوی نے سنبھال لی۔ دو ہزار تیرہ سے دہلی میں عام آدمی پارٹی کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو شکست دے رہی ہے۔ اروند کیجری وال نے موجود وزیر اعلیٰ شیلا ڈکشٹ کو شکست دی۔ اب بھی وزیر اعلیٰ کیجری وال ہیں۔ غریبوں کی بستیوں کے سادہ مکین نے امیروں کے شہر میں طاقت کا جھنڈا گاڑا۔ بھارت کی ہر ریاست میں ہزاروں مثالیں دی جا سکتی ہیں‘ جہاں عوام کی صفوں سے سیاسی رہنما پیدا ہوئے‘ اور اب بھی ہو رہے ہیں۔ بھارت کے موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی کے فسطائی نظریات اور نفرت بھری سیاست سے لاکھ اختلاف سہی‘ مگر وہ عام گھرانے کے فرد ہیں‘ بازاروں اور کوچوں میں بچپن میں مزدوری کی‘ ایک کٹھن زندگی گزاری۔ ان کا سیاسی عروج وہاں کے جمہوری عمل کا مرہونِ منت ہے۔
کاش کہ میں پاکستان یا کسی اور مسلم ملک سے کوئی ایسی مثال پیش کر سکتا۔ ہماری سیاست پر جاگیر داروں‘ گدی نشینوں‘ سیاسی مجاوروں اور ان کے گماشتوں کا قبضہ ہے۔ قبائلیت کا رنگ ہماری سیاسی ثقافت پر گہرا ہو چکا ہے۔ آپ اپنے ارد گرد کا جائزہ لیں‘ جہاں آپ رہتے ہیں اور جو کچھ آپ پاکستان کی سیاسی تاریخ سے واقف ہیں‘ ان سب پر ذرا غور کریں‘ کیا کوئی ایسی مثال دی جا سکتی ہے کہ کسی نے عوام کی سطح سے اٹھ کر سیاست میں قدم رکھا ہو‘ اور پھر زیادہ دیر تک قدم جمائے بھی رکھا ہو‘ اقتدار تو دور کی بات ہے۔ البتہ کچھ جماعتیں ہمارے ہاں ایسی ہیں‘ جن کی مثال دی جا سکتی ہے۔ ان میں جماعتِ اسلامی سرِ فہرست ہے۔ نظریاتی سیاست کے حوالے سے اس کے اندر سے لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے عام لوگ جامعات کی تعلیم کے راستے سیاسی افق پر نمودار ہوتے رہے ہیں۔ ڈاکٹر نذیر احمد شہیدکو میں نے بہت قریب سے دیکھا۔ ان کے جمعہ کے خطبات کئی سال تک سنے اور جلسوں میں بھی جانے کا اتفاق ہوا۔ انیس سو ستر کے انتخابات میں انہوں نے علاقے کے سب سے طاقتور لغاری خاندان کے سربراہ کو ہرایا تھا۔ جماعت کے دیگر رہنما بھی عام لوگوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ کراچی کے نعمت اللہ خان مرحوم تو کمال کے آدمی تھے۔ اسی طرح بلوچ قوم پرستوں میں سے ڈاکٹر عبدالمالک کے علاوہ کئی اور رہنما ہیں جو سرداروں کے غلبے کے باوجود عوام کی حمایت سے سیاست میں اپنی جگہ بنا سکے۔
متحدہ قومی موومنٹ اگرچہ لسانیت کے زور پر اٹھی‘ لیکن یہ کوئی جاگیرداروں‘ امرا اور صنعت کاروں کی جماعت نہ تھی۔ یہ عام سیاسی کارکن تھے اور طلبہ تنظیم کا پس منظر تھا۔ اگر وہ پُرامن جمہوری اور بقائے باہمی کی سیاست کرتے تو کراچی کا وہ حال نہ ہوتا جو ہم کئی دہائیوں سے دیکھے رہے ہیں۔ نفرت‘ قتل و غارت گری‘ شخصیت پرستی اور فسطائیت غالب آ گئی‘ سیاسی و سماجی آدرش کہیں پیچھے رہ گئے۔ مخالفین کا قتلِ عام اور بھتہ خوری متحدہ کی شناخت بنی۔ باقی سب تاریخ ہے۔ ایک اور بات کہ ریاست کی سرپرستی اور لسانی توازن کی خواہش نے بھی اس تحریک میں ہوا بھری‘ اور خارجی طاقتوں کے ایما پر بھی اس کے رہنما اور کارکن اپنوں کا خون بہاتے رہے۔ اب تو سب کچھ ماضی کے المناک دھندلکوں میں ڈھل چکا ہے۔ یہ سب کچھ کہنے کے بعد‘ مثال دی جا سکتی ہے کہ بڑے شہروں کے گلی کوچوں سے آئندہ بھی تحریکیں جنم لے سکتی ہیں‘ مگر ان کا رخ مذہبی اور لسانی ہونے کے امکانات پاکستان کے سماجی نظام کی ساخت کے نتیجے میں زیادہ ہیں۔
پاکستان اور بھارت کی سیاست میں بنیادی فرق یہاں کا مضبوط زمینداری‘ قبائلی اور گدی نشینی کا نظام ہے۔ یہ سماجی نظام عوامی نمائندگی اور سیاست میں تازگی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ اگر بھارت کی طرح ہمارے سیاسی رہنما بھی یہاں زرعی اصلاحات کر کے زمین کی محدود ملکیت طے کر لیتے تو موروثی سیاست میں موجود ان کا غلبہ نسل در نسل ہمارا مقدر نہ ہوتا۔ ان میں سے بہت سے ایسے ہیں‘ جنہوں نے زمین کے سہارے سیاست کی‘ سیاست سے کئی جاگیریں بنائیں اور پھر مزید آگے بڑھ کر کئی جدید شعبوں میں سرمایہ داروں کی صنعتوں میں جگہ بنا لی۔ ترقی کے نام پر ریاستی سرپرستی نے سب سیاسی گھرانوں کو شاد و آباد رکھا۔ زمین کی اہمیت اب بھی برقرار ہے‘ مگر کسی حد تک ثانوی۔ اقتدار نے کئی اور بارآور وسائل پیدا کر دیئے ہیں۔
بے شک آپ سورج کی شعاعوں کو چھونے والی دور بینیں لگا کر دیکھ لیں پاکستان کے وسیع سیاسی میدان میں جہاں تک بھی نظر جا سکتی ہے‘ جمود‘ موروثیت اور گدی نشینی ہی نظر آتی ہے‘ یا پھر بڑے سیاسی خاندانوں کے گرجتے برستے سیاسی فنکار‘ جو اپنی اجرتیں وصول کرنے کا گُر جانتے ہیں۔ ہماری تحریکِ آزادی کی سیاسی جماعت مسلم لیگ اوائل ہی میں زمینداروں کے ہتھے چڑھ گئی تھی۔ نظریاتی کارکنوں اور رہنمائوں کو کناروں پر دھکیل کر اصلاحات کے سب دروازے بند کر دیئے گئے تھے۔ لیگ کے انیس سو چھیالیس کے منشور سے رہنمائی لی جاتی تو آج کے پاکستان کا سماجی خاکہ مختلف ہوتا‘ اور جمہوریت کبھی موروثیت کا شکار نہ ہوتی۔ جمود ضرور ٹوٹے گا‘ بہارِ نو آئے گی‘ ظالم نہ رہیں گے اور سیاہ رات کا اندھیرا بھی ختم ہو گا‘ مگر اس کے لیے بہت دیر تک آگے چلنا ہو گا‘ جمہوری عمل جاری رکھنا ہو گا۔

یہ بھی پڑھیے:

%d bloggers like this: