انعام کبیر کی ” کبیر کتھا”۔۔۔محمد الیاس کبیر

یہ کبیر داس کی فکر کا کلیدی وظیفہ ہے کہ انھوں نے مذہب سے بالاتر ہو کر ایسی پریم نگری بسائی جس میں ہندو اور مسلمان دونوں نے بسرام کیا۔

محمد الیاس کبیر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

موکوں کہاں ڈھوڑھے بندے، میں تو تیرے پاس میں
نا میں دیول، نا میں مسجد، نا کعبے کیلاس میں
نا تو کون کریا کرم میں، نہیں یوگ بیراگ میں
کھوجی ہوئے تو تُرتَے ملیہوں پل بھر کی تالاس میں
کہیں کبیر سنو بھائی سادھو،
سب سوانسوں کی سوانس میں
” اے بندے، تو مجھے کہاں ڈھونڈتا پھر رہا ہے، میں تو تیرے پاس ہی ہوں۔ نہ میں مندر میں ہوں، نہ مسجد میں، نہ کعبے اور کیلاش میں۔ نہ کسی ظاہری عبادت میں ہوں نہ یوگ بیراگ میں۔ اگر سچے دل سے کھوجنے والا ہو تو پل بھر کی تلاش میں مل جاؤں گا۔ کبیر کہتے ہیں بھائی سادھو سنو، وہ تو ہر سانس میں موجود ہے۔”
( ترجمہ: علی سردار جعفری)
یہ کبیر داس کی فکر کا کلیدی وظیفہ ہے کہ انھوں نے مذہب سے بالاتر ہو کر ایسی پریم نگری بسائی جس میں ہندو اور مسلمان دونوں نے بسرام کیا۔ دراصل وہ ایک ایسے مذہبِ عشق کے علمبردار تھے جس نے جملہ مذاہب اور مسالک کو ایک ہی مسلک سے منسلک کر دیا۔ اس انسلاک کی وجہ سے وہ ایک آزاد فکر آزاد منش انسان کہلائے۔ وہ اُس بھگتی تحریک سے وابستہ تھے جو رواداری، اعتدال اور توازن کو فروغ دے کر روحانی رفعت حاصل کرتی تھی۔ کبیر چوں کہ عوام کے دل میں اترنا چاہتے تھے اس لیے ان کی شاعری میں خلوص، محبت اور لچک کی فراوانی ہے۔ ان کے اشعار عبادت کا جزو بنے اور لوگوں کے دلوں کو مسخر کیا۔ کبیر کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انھوں نے اسلام اور ہندو مت میں موافقت پیدا کرنے کی کوشش کی اور دونوں مذاہب کے امتزاج سے ایک مرکب مسلک بنانے کے لیے راستہ نکالا۔
کبیر کا بیشتر کلام دوہوں کی صورت میں ہے۔ دوہا چوں کہ اس وقت ہندی کی مقبول صنف تھی اس لیے اسے عوام میں کچھ ایسی مقبولیت حاصل ہوئی کہ آج بھی لوگ ان کے دوہے پند و نصحیت کے طور پر یاد رکھتے ہیں۔ کبیر کا بیشتر کلام الحاقی بھی ہے۔ اس "الحاق” کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ کبیر کے بعض دوہوں پر بھوج پوری کے اثرات کم ہیں اور زبان قدرے صاف ہے۔ مثال کے طور پر ایسے شعر دیکھ کر الحاقی کلام کے شکوک جنم لیتے ہیں:
مال جنھوں نے جمع کیا سوداگر ہارے جاتے ہیں
اونچا نیچا محل بنایا جا بیٹھے چوبارے ہیں

کبیر شناسی کے حوالے سے پنڈت منوہر لال زتشی (کبیر صاحب)، ہری اودھ، علی سردار جعفری (کبیر بانی)، ڈاکٹر رام کمار ورما( شعرِ کبیر)، ڈاکٹر پارس ناتھ تواری( کبیر۔ قومی سوانح حیات کا سلسلہ)، شکیل الرحمن (کبیر۔ کبیر کے نغموں پر گفتگو)، بلجیت سنگھ مطیر(اردو کا مکمل باغی شاعر کبیر)، ڈاکٹر عبدالحفیظ ( بھگت کبیر، حیات و تعلیمات اور منتخب کلام) ۔۔۔۔۔ جیسی کتابیں بڑی اہمیت کی حامل اور بنیادی حوالہ کا درجہ رکھتی ہیں۔
حال ہی میں کبیر شناسی میں ایک اہم اضافہ انعام کبیر کی ” کبیر کتھا” ہے۔ جو ایم اے اردو کی سندی تحقیق کے لیے لکھا گیا مقالہ ہے لیکن اس کے مندرجات کو دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مصنف نے اسے روایتی موضوع نہیں رہنے دیا۔ اس کتاب کو پڑھ کر مصنف کی محققانہ جستجو کو بخوبی ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔
انعام کبیر نے کبیر داس کے سوانحی حالات کو غیر روایتی انداز میں دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ اس کی ایک وجہ شاید یہ ہو سکتی ہے کہ کبیر کی سوانح پر تاریخ کی گرد نظر آتی ہے جسے مصنف نے ہٹانے کی کافی کوشش کی یے۔ انھوں نے بھگتی تحریک کا ذکر کرتے ہوئے سرسری وہاں سے نہیں گزرے بلکہ "ہر جا جہانِ دیگر” کی مانند غور و فکر کیا ہے اور بھگتی تحریک کے مختلف سلسلوں گیاناشری، پریم مارگی، رام بھگتی اور کرشن بھگتی کو بھی اپنے مباحث کا حصہ بنایا ہے۔
مصنف نے ہند اسلامی تہذیب کے تناظر میں کبیر داس کی شاعری کا فکری جائزہ لیا ہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے تصورِ خدا، تصورِ روح اور مایا کا تصور واضح کرکے مجموعی جائزہ لیا ہے۔
انعام کبیر نے اس کتاب میں کبیر داس کی شاعری کا فنی تجزیہ بھی کیا ہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے کبیر کی زبان میں پائے جانے والے مقامی لہجوں اور سنسکرت الفاظ کا تذکرہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ کبیر کی عروض سے آزاد شاعری، صنائع بدائع کا استعمال اور کبیر کی اصناف کو بھی بیان کیا ہے۔ اسی حصے میں انھوں نے کبیر شناسی کی روایت کا جائزہ بھی لیا ہے۔ کتاب کے آخر میں کبیر داس کا کچھ منتخب کلام بھی دیا گیا ہے جس میں ان کے دوہے اور گیت شامل ہیں۔
انعام کبیر کی یہ کتاب عکس پبلی کیشنز لاہور نے بڑی خوبصورتی سے شایع کی ہے۔ لیکن 208 صفحات کی کتاب کی قیمت 700 روپے زیادہ معلوم ہوتی ہے۔
اس "تحفگی” کے لیے انعام کبیر کا تشکر و امتنان۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: