
نذیر ڈھوکی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے اس بات پر مکمل یقین ہے کہ لیڈر ہمیشہ جنم لیتے ہیں جبکہ گملوں میں اگائے ہوئے سیاستدان نقال تو ہو سکتے ہیں لیڈر نہیں بن سکتے ۔ یہ ملک کا المیہ ہے یا سیاست کی بدحالی کہ گزشتہ سات سال سے ’’ تبدیلی ‘‘ کے نشے میں مست ہیں یار لوگ پتہ نہیں اس بیماری نما شوق سے بیزار ہوئے ہیں یا نہیں مگر اس تبدیلی نے عام انسانوں کا عرق نکال کر رکھ دیا ہے ۔
کہا گیا کہ خیبر پختون خوا میں لوگ پانی کیلیئے کوئان کھودتے ہیں تو گیس نکل آتی ہے اورلوگ پائپ سے گیس گھر لے جاتے ہیں اور روٹی پکاتے ہیں، کسی عقلمند نے انہیں نہیں ٹوکا بلکہ ان کی بیوقوفی پر تالیاں بجاتے رہے ، سائنسی امور پر عبور رکھنے والے خاموش رہے کیونکہ ملامت کا خوف تھا ، انہوں نے سال میں بارہ موسموں کی بات کی تو شعور رکھنے والوں نے خاموشی اختیار کردی انہیں ڈر تھا کہ کہیں اٹھا نہ لیئے جائیں ۔ پھر کہا گیا نے بیرون ملک بسنے والوں کہ حوالہ ہنڈی کے ذریعے رقم کی منتقلی کی بات کی تو قانون موم بن گیا کیونکہ وہ لاڈلا جو تھا ۔
انہوں نے کہا جس دن اقتدر میں آئے دو سو ارب ڈالر قومی خزانے میں آجائیں گے ایک سو ارب ڈالر آئی ایم ایف کے منہ پر ماریں گے اور ایک سو ارب ڈالر یار لوگوں کے قدموں میں ڈالیں گے ، انہوں نے کہا خود کشی کرینگے مگر آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے ، انہوں نے کہا تھا بے گھر لوگوں کو پچاس لاکھ گھر مفت اور ایک کروڑ نوجوانوں کو ملازمتیں دینگے ۔
۔
یہ بھی پڑھیں:
لیڈر جنم لیتے ہیں ۔۔۔ نذیر ڈھوکی
شاعر اور انقلابی کا جنم۔۔۔ نذیر ڈھوکی
نیب یا اغوا برائے تاوان کا گینگ ۔۔۔ نذیر ڈھوکی
ڈر گئے، ہل گئے، رُل گئے، جعلی کپتان ۔۔۔نذیر ڈھوکی

اے وی پڑھو
سرائیکی وسیب کی تاریخی و لسانی شناخت اور پنجاب کی مرکزیت کا سیاسی بیانیہ۔۔۔۔شہزاد عرفان
کریمݨ نقلی۔۔۔||ملک عبداللہ عرفان
دیپک راگ، ثریا ملتانیکر اور لوح اعزاز کی کہانی||رانا محبوب اختر