مارچ 4, 2024

ڈیلی سویل۔۔ زمیں زاد کی خبر

Daily Swail-Native News Narrative

کردار مگر اب ہیں کہانی کے حوالے!۔۔۔||عاصمہ شیرازی

سوال یہ ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن ہو یا جمعیت علمائے اسلام، عوامی نیشنل پارٹی ہو یا دیگر جماعتیں عوامی رابطے سے احتراز کیوں برت رہے ہیں۔ عوام کو اعتماد میں نہ کل لیا گیا اور نہ ہی آج اس پر زور ہے، جبکہ نالائق طالبعلموں کی طرح کمرہ امتحان میں امتحان ملتوی ہونے کی دعائیں اور دوائیں کی جا رہی ہیں۔

عاصمہ شیرازی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کوئل کو کوے کی اور بکری کو شیر کی آواز نکالنے کو کہا جائے تو کیا ہو گا؟ ہاتھی کو بندر اور لومڑ کو گھوڑا بنا دینے سے کردار کہاں بدلتا ہے؟ یہ جو ہو رہا ہے یہ نوشتہ دیوار تھا اور جو ہونے کو ہے اُس کی شُنید دی جا چکی ہے۔

ہم ایک ایسی دلدل میں ہیں جہاں سے نکلنے کا ہر راستہ غیر آئینی ہے۔ یہ سب کس نے کیا؟ ذمہ دار کون ہے؟ سوال اپنی جگہ مگر کہانی کے سب کردار ایک جیسے ہیں، کسی ایک کو مائنس کرنے سے اصل ذمہ دار چھپائے نہیں جا سکتے۔

بھنور در بھنور پھنسی ریاست اب اس نہج پر ہے کہ آئین سے ماورا کسی بھی حل کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

بقول شکیل جاذب:

اب تک تو کہانی کو چلاتے رہے کردار

کردار مگر اب ہیں کہانی کے حوالے

’باجوہ ڈاکٹرائن‘ نے ہائبرڈ رجیم تشکیل دی تو کرداروں نے ضروری سمجھا کہ بس ایک ہی صفحہ تشکیل دیا جائے جس پر ایک ہی طرح کی تحریر ہو، ایک ہی جیسے کردار ہوں، ایک ہی آواز ہو اور یوں ایک ایسا ماحول ہو جہاں مکالمہ، تنقید، اختلاف جیسے تمام الفاظ بے معنی ہوں۔ یہ سب بے مقصد نہ تھا، اختلاف کو گالم گلوچ، تنقید کو کردار کُشی اور اعتراض کو دشمنی میں بدلا گیا۔

سیاسی معاشرہ رجمنٹ بن سکتا ہے اور نہ ہی قومی اسمبلی بریگیڈ، مگر دراصل یہ کوشش ملک میں جمہوریت کو ختم کرنے اور فسطائیت کی راہ ہموار کرنے کے لیے تھی۔ آزاد تعمیری صحافت اور آزاد عدلیہ اس کا پہلا نشانہ بنے اور یوں دھیرے دھیرے ایک جیسی آوازیں سُنائی دینے لگیں۔

عدلیہ سیاسی جماعت کا روپ دھارنے لگی، فیصلے آئین اور قانون سے ماورا ہونے لگے اور پارلیمنٹ جس کی اکثریت کسی سیاسی سوچ کے ساتھ نہیں بلکہ شخصیت پرستی کی حامی تھی اُس کا چہرہ مسخ ہونے لگا۔

یہ نوحہ صرف ایک ڈاکٹرائن کا نہیں وطن عزیز اس طرح کی کئی ڈاکٹرائنز کا شکار رہا ہے۔ ستم ظریفی یہ کہ اس ڈاکٹرائن کا سیاسی کردار سلاخوں کے پیچھے جبکہ عسکری کردار جنرل ریٹائرڈ باجوہ اور جنرل ریٹائرڈ فیض آج بھی احتساب سے بالاتر ہیں۔

نتیجہ یہ نکلا ہے کہ سیاسی جماعتیں جو تواتر سے ہائبرڈ رجیم کی مخالفت میں رہیں جمہوریت بچاتے بچاتے مصلحت اور مفادات کا شکار ہوئیں۔ سیاست دان علاج کے لیے اُسی در پر رہے جو بیماری کا سبب تھا۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

،تصویر کا کیپشن’کل جو صورتحال نواز لیگ کے لیے تھی آج تحریک انصاف کے لیے ہے مگر اصل سوال نظام کا ہے۔ کیا نظام اب آئین کی بجائے ڈاکٹرائن پر چلیں گے؟‘

سیاسی جماعتوں نے عوام کا اعتماد حاصل کرنے کی بجائے مقتدرہ کا دل جیتنے کی کوشش کی، جمہور کے لیے قربانی دینے کی بجائے سیاسی روایات کی قربانی کو جائز سمجھا۔ بیانیے بدلے، نظریے تبدیل کیے اور نتیجتاً عوامی اور سیاسی خلا پیدا کیا۔ اور اب بند کمروں کی سیاست میں اصل کردار یعنی عوام کہیں دور کھڑے ہیں اور اقتدار کا پتلی تماشہ دیکھتے ہوئے منتظر ہیں کہ ’تماشا کب ختم‘ ہو۔

معاشی ضروریات اور اعشاریے اب ’آئین کی عملداری‘ پر حاوی ہو چکے ہیں، حالات وہاں پہنچ گئے ہیں جہاں یہ سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا نظام کسی سیاسی مشق یعنی انتخابات کا متحمل ہو سکتا ہے؟ خیبر پختونخوا کے جید رہنما مولانا فضل الرحمن بھی انتخابات کے لیے امن و امان کو خطرہ قرار دے رہے ہیں جبکہ عوام میں اب تک نا نکلنے والے دیگر سیاست دان دہشت گردی کو جواز بنانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

سوال یہ ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن ہو یا جمعیت علمائے اسلام، عوامی نیشنل پارٹی ہو یا دیگر جماعتیں عوامی رابطے سے احتراز کیوں برت رہے ہیں۔ عوام کو اعتماد میں نہ کل لیا گیا اور نہ ہی آج اس پر زور ہے، جبکہ نالائق طالبعلموں کی طرح کمرہ امتحان میں امتحان ملتوی ہونے کی دعائیں اور دوائیں کی جا رہی ہیں۔

کیا انتخابات فروری سے آگے لے جانے کے امکانات بنائے جا رہے ہیں؟ کیا انتخابات کے لیے موسم سازگار نہیں، یا نواز شریف صاحب کی اپیلیں فیصلہ کُن ہونے میں وقت ہے؟ سیاسی اور صحافتی حلقوں میں ایک مرتبہ پھر انتخابات میں التوا کی خبریں سوالات کو جنم دے رہی ہیں۔ انتخابات ملتوی ہوئے تو آئندہ انتخابات کب ہوں گے اس کی ضمانت کس کے پاس ہو گی؟ عدالت، ریاست اور نظام کا ایک اور امتحان شروع ہونے کو ہے؟

سیاسی جماعتیں انتخابات سے دور ہیں اور انتخابی ماحول ناپید۔ عمران خان کی انتخابات سے عدم موجودگی نوشتہ دیوار دکھائی دے رہی ہے تاہم تحریک انصاف کی بطور جماعت عدم شمولیت انتخابات کی شفافیت پر سوالات اٹھا سکتی ہے۔

انتخابات سے قبل عمران خان کی بطور پارٹی چئیرمین موجودگی بھی خطرے سے خالی نہیں تاہم تحریک انصاف بطور سیاسی جماعت اپنی شناخت کیسے برقرار رکھ پائے گی یہ خود جماعت کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔

کل جو صورتحال نواز لیگ کے لیے تھی آج تحریک انصاف کے لیے ہے مگر اصل سوال نظام کا ہے۔ کیا نظام اب آئین کی بجائے ڈاکٹرائن پر چلیں گے؟

 بشکریہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام

%d bloggers like this: