
آفتاب نواز مستوئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پنجاب کے آخری کنارے آباد جام پور کی سرزمین محض ایک تحصیل نہیں بلکہ ایک طویل انتظار کی علامت بن چکی ہے۔ حالیہ بلدیاتی حد بندی کے نوٹیفیکیشن کے مطابق ضلع راجن پور میں چار تحصیل کونسلیں، ایک میونسپل کارپوریشن اور سات میونسپل کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں جن میں میونسپل کارپوریشن کا درجہ جام پور کو دیا گیا اور اسے گیارہ اربن یونین کونسلوں پر مشتمل قرار دیا گیا ہے جبکہ اڑتیس دیہی یونین کونسلوں کے ساتھ یہ ضلع کی سب سے بڑی تحصیل کونسل بھی ہے۔ داجل، حاجی پور اور محمد پور دیوان جیسی میونسپل کمیٹیاں بھی اسی تحصیل کے دائرہ اختیار میں شامل ہیں اور ڈی ایکسکلوڈڈ ایریا میں واقع وسیع پہاڑی خطہ تمن گورچانی تاریخی طور پر جام پور کا حصہ رہا ہے۔ یہ تمام انتظامی حقائق اس امر کی شہادت دیتے ہیں کہ آبادی، رقبے اور ادارہ جاتی ڈھانچے کے اعتبار سے جام پور کسی بھی نو تشکیل شدہ ضلع سے کم نہیں۔ المیہ یہ ہے کہ 1988 کے انتخابات سے لے کر 2024 تک ہر انتخابی موسم میں قومی و صوبائی اسمبلی کے امیدواروں نے اقتدار میں آکر جام پور کو ضلع بنانے کا وعدہ کیا مگر یہ وعدے اقتدار کے ایوانوں کی راہداریوں میں گم ہوتے رہے۔ نواز شریف نے بطور وزیر اعلیٰ جلسہ عام میں یقین دہانی کرائی، شہباز شریف نے بھی متعدد مواقع پر یہی عزم دہرایا، بعد ازاں عثمان بزدار کے دور میں مطالبہ شدت اختیار کرگیا اور چوہدری پرویز الٰہی نے نئے اضلاع کے قیام کے اعلان میں جام پور کو شامل بھی کیا مگر حکومتوں کی تبدیلی نے اس فیصلے کو عملی جامہ نہ پہننے دیا۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ سرکاری ریکارڈ پنجاب میں اکتالیس اضلاع کی نشاندہی کرتا ہے جبکہ بعض ذرائع بیالیس اضلاع میں جام پور کا نام بھی ظاہر کرتے ہیں لیکن زمینی سطح پر یہ خطہ آج بھی باضابطہ نوٹیفیکیشن کے نفاذ کا منتظر ہے اور گزشتہ تین برسوں سے اس کی فائل سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کے دفتر میں خاموش پڑی ہے۔ مسلم لیگ ن کے ادوار میں یہاں ڈسٹرکٹ پبلک اسکول کا قیام عمل میں آیا، بار ایسوسی ایشن کو ڈسٹرکٹ بار کا درجہ ملا، سرکاری ادارے پھیلے مگر ضلع کا درجہ نہ مل سکا۔ یہ مسئلہ محض انتظامی تقسیم کا نہیں بلکہ اعتماد کی بحالی کا ہے کیونکہ جب ایک خطہ مسلسل دہائیوں تک وعدوں کی دہلیز پر کھڑا رہے تو اس کے باشندوں کے دلوں میں محرومی کی گرد جمنا فطری ہے۔ بلدیاتی اعداد و شمار خود گواہی دے رہے ہیں کہ جام پور انتظامی استعداد رکھتا ہے، آبادی کے لحاظ سے مستحق ہے اور جغرافیائی طور پر ایک مکمل ضلع کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ماضی کی سیاسی تاخیر کو ایک حتمی فیصلے سے بدل دیا جائے تاکہ یہ احساس ختم ہو کہ جنوبی پنجاب کے بعض علاقے ہمیشہ فیصلوں کی فہرست میں آخر میں کیوں رکھے جاتے ہیں۔ جام پور کا مقدمہ کسی فرد واحد یا سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ اس دھرتی سے وابستہ لاکھوں لوگوں کی اجتماعی امنگ کا نام ہے اور اجتماعی امنگیں جب طویل انتظار سہہ لیں تو انہیں انصاف کی صورت میں جواب دینا ریاست کی ذمہ داری بن جاتا ہے۔۔شکریہ

اے وی پڑھو
غلام حسین خان مشوری بگٹی: کوہ سلیمان کے دامن میں انگریزی سامراج کے خلاف جہاد کا علمبردار…….!!||آفتاب نواز مستوئی
تانگھ۔۔۔||فہیم قیصرانی
،،مجنون،،۔۔۔||فہیم قیصرانی