مئی 18, 2024

ڈیلی سویل۔۔ زمیں زاد کی خبر

Daily Swail-Native News Narrative

کراچی کے بیشتر سرکاری اسکولوں میں تعلیم کا حصول کسی امتحان سے کم نہیں

کورنگی ساڑھے پانچ نمبرکے سرکاری اسکول میں بچے کچے فرش پربچھی چادر پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کررہے ہیں

کراچی کے بیشتر سرکاری اسکولوںمیں تعلیم کا حصول کسی امتحان سے کم نہیں۔ کورنگی ساڑھے پانچ نمبرکے سرکاری اسکول میں بچے کچے فرش پربچھی چادر پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ کلاسز میں پنکھے اور لائٹ تک دستیاب نہیں ہیں۔

بیٹھنے کو ڈیسک نہیں۔ گرمی میں چلانے کو پنکھےنہیں۔ چھت کا ایسا حال کہ گویا ابھی گرنے کو ہے۔

ٹوٹ پھوٹ کا شکارعمارت کا حال بھی کھنڈر سے کم نہیں۔
کراچی کے اس سرکاری اسکول کی حالت دیکھ لگتا ہے اساتذہ اور بچوں نے عزم کر رکھاہےحالات کچھ بھی ہوں حصول علم کا سلسلہ ہر حال میں جاری رکھنا ہے ۔

یہ کورنگی ساڑھے پانچ نمبر کا کیمپس گورنمنٹ بوائز اینڈگرلز سیکنڈری اسکول کے ٹی ایس 10 ہے۔ اس کی حالت دیکھ کر لگتا ہے محکمہ تعلیم نے اسے بھلا دیا ہے ۔

مس ثمینہ ،اسکول ٹیچر((میں یہاں 2014 میں آئی اور جب سے میں اسکول کا یہی حال دیکھ رہی ہو اسکول کا نام کیمپس کے ٹی ایس دس ہے یہاں بچوں کیلئے بنیادی ضروریات کی جوچیزیں ہیں

جو لازمی ہونی چاہئے وہ بھی نہیں ہیں یہاں تک دریوں کا حال دیکھے دریاں بھی پھٹی ہوئی ہیں

ان کو کورس کی کتابیں بھی نہیں ملی جس کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے جس طرح سے ہوا ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت کیا

گرمیوں میں بچے بے ہوش بھی ہوجاتے ہیں))
مس ثناء ، اسکول ٹیچر((بچو کو پڑھاتے ہیں چاہے گھر سے دری لے کر آئے چادر لے کر آتی ہیں ٹیچرز یہ دو ٹیچر بھی لے کر آئی ہیں چادر بچھا کر بچو کو تعلیم حاصل کرواتے ہیں))

سرکار نے ڈیڑھ ایکڑ کے رقبہ پر اسکول تو بنادیا ،لیکن محکمہ تعلیم کے افسران نے پلٹ کر یہاں کا حال دیکھنے اور سہولیات کا جائزہ لینے کی زحمت گوارا نہیں کی۔

سرکاری اسکول کی زمین کا ایک بڑا حصہ خالی پڑا ہے،لیکن اسے پلےگراونڈ کے طور پر استعمال نہیں کیا جارہا۔ یہاں آورہ کتے دندناتے رہتےہیں ۔

تہمینہ جبار ، طالبہ((یہاں نا پنکھے ہیں دروازے ہیں نا ہی ڈیسک ہیں کچھ بھی نہیں ہے فرش پر اسلامیات کی کتابیں رکھتے ہیں گناہ ملتا ہے

نا واش روم ہیں صاف ستھرے روزے رکھتے ہیں گرمی لگتی ہے اور کتابوں سے ہوا جھرتے ہیں
ماہ جبین ،طالبہ((میری خواہش ہے کہ اسکول اچھا بنے فرش ڈلے کلاسیں اچھی ہو جب گرمی ہوتی ہے تو بہت گرمی لگتی ہیں یہاں))

صالحہ امین، طالبہ((تھری کلاس سے یہاں آئی ہو نا ڈیسک ہے نا پنکھے ہیں کچھ بھی نہیں ہے اور نا فرش ڈلا ہوا ہے ہم نیچے بیٹھتے ہیں))

کورنگی ساڑھے پانچ کے اس سرکاری اسکول کے اساتذہ اور طلبہ کا کہنا ہے انہیں بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ وہ زیادہ توجہ سے پڑھائی جاری رکھ سکیں۔

%d bloggers like this: