
مبشرعلی زیدی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت سے نوجوانوں کو شاید نصر اللہ خاں کا نام بھی معلوم نہ ہو۔ وہ ممتاز کالم نگار تھے۔ امرتسر کے رہنے والے تھے اور منٹو اور فیض احمد فیض سے بچپن کی دوستی تھی۔ والد بھی ادیب اور استاد تھے۔ باپ کے شاگردوں میں منٹو اور اے حمید شامل تھے جبکہ بیٹے کو مولانا ظفر علی خان، چراغ حسن حسرت، حاجی لق لق اور عبدالمجید سالک جیسے اساتذہ ملے۔ مجاز، حفیظ جالندھری اور احمد ندیم قاسمی سے دوستی رہی۔
نصراللہ خاں نے اپنے دور کے بڑے اخبار زمیندار سے لکھنا شروع کیا۔ ریڈیو پاکستان میں پروڈیوسر رہے۔ امروز، حریت اور جنگ میں کالم لکھے۔ ہفت روز تکبیر میں خاکے لکھے اور بہت پذیرائی ملی۔ اے پی این ایس ایوارڈز کا اجرا ہوا تو کالم نگاری کا پہلا ایوارڈ انھیں دیا گیا۔
میں اپنے بچپن میں نصراللہ خاں کے کالم پڑھا کرتا تھا بلکہ اخبار سے کالم کاٹ کر ایک فائل میں رکھ لیتا تھا۔ وہ گاڑھا مزاح نہیں لکھتے تھے بلکہ ان کی نثر بے حد شگفتہ ہوتی تھی۔ ہلکا پھلکا طنز کرتے تھے۔ بات سے بات نکالتے تھے۔ یہی ان کے کالم کا عنوان تھا۔ اسی عنوان کی کتاب آج میں پیش کررہا ہوں۔
نصراللہ خاں کے خاکوں کی کتاب کیا قافلہ جاتا ہے کے عنوان سے چھپی تھی اور ایک عرصے تک نایاب رہی۔ اب ہمارے دوست راشد اشرف نے اسے چھاپ کر عام کردیا ہے۔ ان کی آپ بیتی ان کی زندگی میں نہیں چھپ سکی۔ بلکہ اہلخانہ نے اس کا مسودہ ردی میں بیچ دیا تھا۔ خوش قسمتی سے وہ عقیل عباس جعفری کے ہاتھ لگ گیا اور انھوں نے اسے شائع کرکے پڑھنے والوں پر احسان کیا۔
اے وی پڑھو
ریاض ہاشمی دی یاد اچ کٹھ: استاد محمود نظامی دے سرائیکی موومنٹ بارے وچار
خواجہ فرید تے قبضہ گیریں دا حملہ||ڈاکٹر جاوید چانڈیو
راجدھانی دی کہانی:پی ٹی آئی دے کتنے دھڑےتے کیڑھا عمران خان کو جیل توں باہر نی آون ڈیندا؟