جون 26, 2022

ڈیلی سویل۔۔ زمیں زاد کی خبر

Daily Swail-Native News Narrative

ثاقب نثار پر الزامات،میر شکیل، عامر غوری، انصار عباسی اور رانا شمیم کو شوکاز نوٹس جاری

عدالت نے 7روز میں تحریری جواب جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت 26نومبر تک ملتوی کردی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں گلگت بلتستان کے سابق چیف جج کے بیان حلفی سے متعلق کیس کی سماعت میں عدالت عالیہ نے جنگ اور دی نیوز کی ایڈیٹر انچیف میر شکیل

الرحمان، ایڈیٹر دی نیوز عامرغوری اور سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم کو شوکاز نوٹس جاری کردیا۔

عدالت نے 7روز میں تحریری جواب جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت 26نومبر تک ملتوی کردی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں سپریم ایپلیٹ کورٹ گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا محمد شمیم کے بیان حلفی پر خبر شائع کرنے کے معاملے کی سماعت جاری ہے جس سلسلے میں جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف، دی نیوز کے ایڈیٹر عامر غوری، دی نیوز کے ایڈیٹر انویسٹی گیشن انصار عباسی اور اٹارنی جنرل پاکستان سمیت دیگر عدالت میں پیش ہوئے۔

عدالتی نوٹس کے باوجود سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم عدالت میں پیش نہیں ہوئے تاہم ان کا بیٹا عدالت میں پیش ہوا۔

رانا شمیم کے بیٹے نے عدالت کو بتایا کہ والد صاحب رات اسلام آباد پہنچے ہیں اور ان کی طبیعت ٹھیک نہیں۔

کمرہ عدالت میں ویڈیو چلانے کی درخواست

‏رانا شمیم کے بیٹے نے عدالتی عملے سے کمرہ عدالت میں ویڈیو چلانے کی اجازت مانگ لی۔

بعد ازاں چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت کا آغاز کرتے ہوئے ایڈیٹر انچیف میرشکیل الرحمان کو روسٹرم پر بلایا، اس موقع پر جسٹس اطہر من اللہ نے ایڈیٹر انچیف سے مکالمہ کیا کہ بہت بھاری دل کے ساتھ آپ کو سمن کیا ہے۔

عدالت نے کہا کہ سوشل میڈیا اور نیوز پیپرز میں فرق ہوتا ہے، اخبارکی ایڈیٹوریل پالیسی اور ایڈیٹوریل کنٹرول ہوتا ہے، اس ہائیکورٹ کے جج سے متعلق بات کی گئی جو بلاخوف وخطر کام کرتی ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اگر میں اپنے ججزکے بارے میں پراعتماد نا ہوتا تو یہ پروسیڈنگ شروع نا کرتا، اس عدالت کے ججز جوابدہ ہیں اور انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اگرعوام کا عدلیہ پر اعتماد نا ہوتو پھرمعاشرے میں انتشار ہوگا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر ایک سابق چیف جج نے کوئی بیان حلفی دیا تو آپ وہ فرنٹ پیج پرچھاپیں گے؟

اسلام آباد ہائی کورٹ نے فریقین کو شوکاز نوٹس جاری کردیے۔

خیال رہے گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں سپریم ایپلیٹ کورٹ گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا محمد شمیم کے بیان حلفی پر خبر شائع کرنےاسلام آباد ہائی کورٹ نے فریقین کو شوکاز نوٹس جاری کردیے تھے۔

 اسلام آباد ہائیکورٹ ، سابق جج گلگت بلتستان کے انکشافات سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی ہےعدالت عالیہ نے سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم کو ،ذاتی حیثیت میں طلب  کیا

اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیف ایڈیٹر دی نیوز میر شکیل الرحمان کو نوٹس جاری کر دیاگیا تھا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے اخبا رکے صحافی اور ایڈیٹر کو بھی کل ذاتی حیثیت میں طلب کرلیاتھا

عدالت نے ریمارکس دیے تھے کہ کیوں نہ ہائیکورٹ کا وقار مجروح کرنے پر توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز کریں
چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہاعدالت کے تمام ججز محترم ہیں، عدالت کی آزادی پر کوئی انگلی اٹھائے گا تو برداشت نہیں کیا جائے گا، کہہ چکے ہیں زیر سماعت مقدمات پر اثر انداز ہونے والے عوامل ناقابل برداشت ہیں ،

گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس رانا ایم شمیم نے اپنے مصدقہ حلف نامے میں کہا ہے کہ وہ اس واقعے کے گواہ تھے جب اُس وقت کے چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے ہائی کورٹ کے ایک جج کو حکم دیا تھا کہ 2018ء کے عام انتخابات سے قبل نواز شریف اور مریم نواز کو ضمانت پر رہا نہ کیا جائے۔ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے دو ٹوک الفاظ میں اس بات سے انکار کیا اور کہا انہوں نے کبھی اپنے ماتحت ججوں کو کسی بھی عدالتی فیصلے کے حوالے سے کوئی احکامات نہیں دیے۔

روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والی انصارعباسی کی خبر کے مطابق گلگت بلتستان کے سینئر ترین جج نے پاکستان کے سینئر ترین جج کے حوالے سے اپنے حلفیہ بیان میں لکھا ہے کہ ’’میاں محمد نواز شریف اور مریم نواز شریف عام انتخابات کے انعقاد تک جیل میں رہنا چاہئیں۔ جب دوسری جانب سے یقین دہانی ملی تو وہ (ثاقب نثار) پرسکون ہو گئے اور ایک اور چائے کا کپ طلب کیا۔‘‘

دستاویز کے مطابق، شمیم نے یہ بیان اوتھ کمشنر کے روبرو 10؍ نومبر 2021ء کو دیا ہے۔ نوٹرائزڈ حلف نامے پر سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان کے دستخط اور ان کے شناختی کارڈ کی نقل منسلک ہے۔

اس حوالے سے جب سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے رابطہ کیا تو انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں اس بات سے انکار کیا اور کہا انہوں نے کبھی اپنے ماتحت ججوں کو کسی بھی عدالتی فیصلے کے حوالے سے کوئی احکامات نہیں دیے چاہے وہ آرڈر نواز شریف، شہباز، مریم کیخلاف ہو یا کسی اور کیخلاف۔

نواز شریف کو مظلوم ثابت کرانے کیلئے لطیفے گھڑ کر مہم چلا جارہی ہے، کیا کوئی جج اپنے پاس چائے پینے آنے والے کے سامنے فون پر ایسی ہدایات جاری کرسکتا ہے وہ بھی کوئی عام ملزم نہیں ملک کے وزیر اعظم کیخلاف ۔۔ فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ۔۔۔بیوقوفانہ کہانیاں اور سازشی تھیوریاں گھڑنےکی بجائے یہ بتایا جائے کہ نواز شریف نے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس جو بعد میں مریم نواز کی ملکیت میں دے دئیے گئے ان کے پیسے کہاں سےآئے؟ مریم نواز نے کہا میری لندن میں تو کیا پاکستان میں بھی کوئ جائیداد نہیں اب اربوں کی جائیداد سامنے آ چکی جواب اس کا دیںْ

آج کی سماعت کا تفصیلی احوال

سابق جج گلگت بلتستان کے انکشافات سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت
اسلام آباد ہائیکورٹ میں اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد پیش
اخبار کے چیف ایڈیٹر، ریزیڈنٹ ایڈیٹر اور رپورٹر بھی عدالت میں پیش
سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم عدالت سے غیر حاضر
والد رات اسلام آباد پہنچے، طبعیت ٹھیک نہیں، بیٹا رانا شمیم
‏رانا شمیم کے بیٹے نے عدالتی عملے سے کمرہ عدالت میں ویڈیو چلانے کی اجازت مانگ لی،
ہم ایک ویڈیو عدالت میں چلانا چاہتے ہیں، لیپ ٹاپ لا سکتے ہیں؟ بیٹا احمد حسن رانا
تو جج صاحب سے پوچھ کر لیپ ٹاپ لاسکتے ہیں، عدالتی عملہ
اگر مجھے اپنے ججز پر اعتماد نہ ہوتا تو یہ توہین عدالت کی کارروائی نہ کرتا، چیف جسٹس
اس عدالت نے کہا کہ ججوں کا احتساب ہونا چاہیے اور ان پر تنقید بھی کی جا سکتی ہے، چیف جسٹس
اگر لوگوں کا اعتماد عدالت پر ختم ہو جائے تو افراتفری پھیلتی ہے، اور آپ نے یہ کیا ہے، چیف جسٹس
آپ ایک بڑے لیڈنگ میڈیا آرگنائزیشن کے مالک ہیں، چیف جسٹس اطہر من اللہ
اگر کوئی اپنا بیان حلفی نوٹرائز کراتا ہے تو آپ اسکو اخبار کی لیڈ بنا دینگے، چیف جسٹس
میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ آپ بتائیں آپ نے کیا کیا، چیف جسٹس اطہر من اللہ
کیا اس عدالت میں موجود کوئی شخص میرے ججز پر الزام عائد کر سکتا ہے کہ وہ کسی سے ہدایات لیتے ہیں، چیف جسٹس
کیا آپ نے پوچھا کہ یہ بیان حلفی برطانیہ میں نوٹرائز ہوا، چیف جسٹس اطہر من اللہ
آپ ایک بڑے انوسٹی گیٹو صحافی ہیں اور میں ذاتی طور پر آپکا احترام کرتا ہوں، چیف جسٹس کا انصار عباسی سے مکالمہ
احتساب عدالت نے 6 جولائی کو نواز شریف اور مریم نواز کو سزا سنائی تھی، چیف جسٹس
16 جولائی کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی، چیف جسٹس اطہر من اللہ
میں اور جسٹس عامر فاروق اس وقت چھٹیوں پر ملک سے باہر تھے، چیف جسٹس
میں اور جسٹس عامر فاروق اس وقت ملک میں نہیں تھے، چیف جسٹس اطہر من اللہ
جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اپیلوں پر سماعت کی تھی، چیف جسٹس
دونوں ججز ملک بھر کے قابل احترام ججز ہیں، چیف جسٹس اطہر من اللہ
آپ ہائیکورٹ سے پوچھ لیتے کہ کونسا بنچ اس وقت اس کیس کی سماعت کر رہا تھا، چیف جسٹس
کیا آپ نے خواجہ حارث سے پوچھا کہ کیا انہوں نے کیس الیکشن سے پہلے سماعت کیلئے مقرر کرنے کی درخواست کی تھی، چیف جسٹس
خواجہ حارث پروفیشنل وکیل ہیں انہیں معلوم تھا کہ یہ طریقہ کار نہیں ہوتا، چیف جسٹس
کسی وکیل سے پوچھ لیں، ایک دن اپیل دائر ہو اور سزا معطل ہو جائے یہ نہیں ہوتا، چیف جسٹس
ایک سال کیلئے ڈویژن بنچ تھے جنہوں نے اس ہائیکورٹ کو چلایا، چیف جسٹس
جج کے نام کی جگہ خالی چھوڑ کر آپ نے ساری ہائیکورٹ پر الزام عائد کر دیا، چیف جسٹس
اس ہائیکورٹ سے لوگوں کا اعتماد اٹھانے کیلئے سازشیں شروع ہو گئیں، چیف جسٹس
میرے سامنے کوئی چیف جسٹس ایسی بات کرے تو میں سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھ کر دیدوں گا، چیف جسٹس
چیف جسٹس ایک چیف جسٹس کے سامنے ایسی بات کرے اور وہ تین سال خاموش رہے، چیف جسٹس اطہر من اللہ
اچانک سے ایک پراسرار حلف نامہ آ جائے اور ایک بڑے اخبار میں شائع ہو جائے، چیف جسٹس
کیا میں کچھ کہہ سکتا ہوں، انصار عباسی کا عدالت سے استدعا
آپ اب کیا کہیں گے، جو نقصان کرنا تھا وہ آپ کر چکے، چیف جسٹس
رانا شمیم عدالت میں پیش ہوئے ہیں، چیف جسٹس کا استفسار
رانا شمیم عدالت میں پیش نہیں ہوئے، انکے وکیل عدالت میں پیش
رانا شمیم کے بھائی کا انتقال ہوا ہے، انہیں پیش ہونے کیلئے وقت دیا جائے، وکیل
رانا شمیم صاحب کو عدالت میں پیش ہونے کیلئے وقت دیدیں، وکیل رانا شمیم
امریکہ میں ایک کانفرنس میں شریک ہونے کیلئے گئے تھے، وکیل رانا شمیم
ایک اہم ترین عہدہ رکھنے والا شخص تین سال بعد ایسا بیان حلفی کیسے دے سکتا ہے، چیف جسٹس
افواہیں ہیں کہ وہ بیان حلفی جعلی ہے، چیف جسٹس اطہر من اللہ
اگر وہ جعلی ہوتا ہے تو پھر شائع کرنے والے کے خلاف کیا کارروائی ہو گی، چیف جسٹس کا استفسار
رانا شمیم کے بھائی کا 6 نومبر کو انتقال ہوا، اٹارنی جنرل
یہ پورے جوڈیشل سسٹم اور بالخصوص ہائیکورٹ پر الزام عائد کیا گیا ہے، اٹارنی جنرل
یہ کوئی عام معاملہ نہیں اسکے بہت سنجیدہ نتائج ہونگے، اٹارنی جنرل
انصار عباسی صاحب جس بنچ نے سماعت کی وہ کس نے بنوایا تھا، چیف جسٹس کا استفسار
میں آپکو لکھواتا ہوں کہ اس کیس کی سماعتیں کتنی ہوئیں، چیف جسٹس اطہر من اللہ
اس عدالت نے ان اپیلوں پر روزانہ کی بنیاد پر بھی سماعت کی، اسکی بھی کوئی مثال نہیں ملتی، چیف جسٹس
اگر اس ہائیکورٹ کا کوئی جج کسی کو اپنے گھر یا چیمبر میں آنے کی اجازت دے تو میں ذمہ دار ہونگا، چیف جسٹس
نقصان تو ہوچکا ہے اس عدالت سے لیٹیکنٹس کا اعتماد متزلزل ہوچکا چیف جسٹس اطہرمن اللہ
میں نے کسی جج کا نام نہیں لیا انصار عباسی
میرے خلاف اپ کاروائی عمل میں لائیں مگر الزمات جو لگے ہیں. ان کی انکوائری کروائیں انصار عباسی
شکیل صاحب غوری صاحب یی اپ کی بھی زمہ داری تھی ایسی اسٹوری کیسے چھپی چیف جسٹس اطہر من اللہ
مجھے بتائیں کہ اپ کی کوئی ایڈیٹوریل پالیسی نہیں ہے چیف جسٹس اطہرمن اللہ
جس بیان حلفی پر ابہام ہے جو کہیں کسی جوڈیشل فارم پر پیش ہوا اس پر اپ نے تحقیقات کیے بنا اسٹوری کردی چیف جسٹس اطہر من اللہ

وہ بیان حلفی ایک سابق چیف جسٹس کا دوسرے چیف جسٹس کے خلاف تھا

وہ بیان حلفی اس ہائیکورٹ کے خلاف تھا

اگر ایک ثبوت لے آئیں تو یہ ہائیکورٹ سابق چیف جسٹس کے خلاف بھی کارروائی کریگی، چیف جسٹس

بیان حلفی میرا نہیں ہے، میں صرف میسنجر ہوں، انصار عباسی

آپ صرف میسنجر نہیں ہیں، آپ ایک لیڈنگ اخبار کے ایڈیٹر ہیں، چیف جسٹس اطہر من اللہ

میں نے بیان حلفی کی سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان سے تصدیق کی تھی، انصار عباسی

کیا برطانیہ میں گارڈین اس طرح کا بیان حلفی بغیر تصدیق چھاپ دے گا، چیف جسٹس کا مکالمہ

عامر غوری صاحب آپ ایڈیٹر ہیں، آپکا بہت تجربہ ہے بتائیں کہ گارڈین یہ چھاپ دیگا، چیف جسٹس

میر شکیل الرحمان اور عامر غوری کا کوئی قصور نہیں، انصار عباسی

یہ صرف آپکا معاملہ نہیں، وہ بھی ذمہ دار ہیں، چیف جسٹس اطہر من اللہ

اگر میری ہائیکورٹ میں کچھ غلط ہوتا ہے تو میں ذمہ دار ہونگا، چیف جسٹس

میں نے عدلیہ کی عزت کیلئے یہ خبر شائع کی ہے، انصار عباسی

اس معاملے سے عدلیہ کی عزت نہیں ہوئی، چیف جسٹس اطہر من اللہ

میرے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں لیکن اس معاملے کی انکوائری ہونی چاہیے، انصار عباسی

کوئی میرے خلاف بیان حلفی دے تو رومنگ انکوائری شروع کر دی جائے گی، چیف جسٹس

وہ نوٹرائز ڈاکیومنٹ کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا، چیف جسٹس

اس بیان حلفی کے زیرالتواء مقدمے اور ہائیکورٹ کے جج پر سنگین اثرات عائد ہوئے، چیف جسٹس

بار بار یہی کہا جا رہا ہے کہ الیکشن سے پہلے نہ چھوڑیں، الیکشن سے پہلے نہ چھوڑیں، چیف جسٹس

میں اپ سب کو شو کاز جاری کررہا ہوں چیف جسٹس اطہر من اللہ
میرشکیل الرحمان، انصار عباسی اور عامر غوری کو شوکاز نوٹسز جاری
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سات روز میں تحریری طور پر جواب طلب کر لیا
رانا شمیم کو بھی شوکاز نوٹس جاری، سات روز میں جواب طلب
اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیس کی سماعت 26 نومبر تک ملتوی کر دی
دس دن بعد تمام فریقین زاتی حثییت میں دوبار عدالت کے روبرو پیش ہوں

%d bloggers like this: