جون 26, 2022

ڈیلی سویل۔۔ زمیں زاد کی خبر

Daily Swail-Native News Narrative

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم کو کل ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا

دستاویز کے مطابق، شمیم نے یہ بیان اوتھ کمشنر کے روبرو 10؍ نومبر 2021ء کو دیا ہے۔ نوٹرائزڈ حلف نامے پر سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان کے دستخط اور ان کے شناختی کارڈ کی نقل منسلک ہے۔

 اسلام آباد ہائیکورٹ ، سابق جج گلگت بلتستان کے انکشافات سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی ہےعدالت عالیہ نے سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم کو کل ،ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا

اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیف ایڈیٹر دی نیوز میر شکیل الرحمان کو نوٹس جاری کر دیا

اسلام آباد ہائیکورٹ نے اخبا رکے صحافی اور ایڈیٹر کو بھی کل ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا

عدالت نے ریمارکس دیے کہ کیوں نہ ہائیکورٹ کا وقار مجروح کرنے پر توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز کریں
اسلام آباد ہائیکورٹ نے کورٹ رپورٹر کو روسڑم پر بلا لیا
عدالت اس معاملے کو بہت سنجیدگی دیکھ رہی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہاعدالت کے تمام ججز محترم ہیں، عدالت کی آزادی پر کوئی انگلی اٹھائے گا تو برداشت نہیں کیا جائے گا، کہہ چکے ہیں زیر سماعت مقدمات پر اثر انداز ہونے والے عوامل ناقابل برداشت ہیں ،

گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس رانا ایم شمیم نے اپنے مصدقہ حلف نامے میں کہا ہے کہ وہ اس واقعے کے گواہ تھے جب اُس وقت کے چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے ہائی کورٹ کے ایک جج کو حکم دیا تھا کہ 2018ء کے عام انتخابات سے قبل نواز شریف اور مریم نواز کو ضمانت پر رہا نہ کیا جائے۔ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے دو ٹوک الفاظ میں اس بات سے انکار کیا اور کہا انہوں نے کبھی اپنے ماتحت ججوں کو کسی بھی عدالتی فیصلے کے حوالے سے کوئی احکامات نہیں دیے۔

روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والی انصارعباسی کی خبر کے مطابق گلگت بلتستان کے سینئر ترین جج نے پاکستان کے سینئر ترین جج کے حوالے سے اپنے حلفیہ بیان میں لکھا ہے کہ ’’میاں محمد نواز شریف اور مریم نواز شریف عام انتخابات کے انعقاد تک جیل میں رہنا چاہئیں۔ جب دوسری جانب سے یقین دہانی ملی تو وہ (ثاقب نثار) پرسکون ہو گئے اور ایک اور چائے کا کپ طلب کیا۔‘‘

دستاویز کے مطابق، شمیم نے یہ بیان اوتھ کمشنر کے روبرو 10؍ نومبر 2021ء کو دیا ہے۔ نوٹرائزڈ حلف نامے پر سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان کے دستخط اور ان کے شناختی کارڈ کی نقل منسلک ہے۔

اس حوالے سے جب سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے رابطہ کیا تو انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں اس بات سے انکار کیا اور کہا انہوں نے کبھی اپنے ماتحت ججوں کو کسی بھی عدالتی فیصلے کے حوالے سے کوئی احکامات نہیں دیے چاہے وہ آرڈر نواز شریف، شہباز، مریم کیخلاف ہو یا کسی اور کیخلاف۔

نواز شریف کو مظلوم ثابت کرانے کیلئے لطیفے گھڑ کر مہم چلا جارہی ہے، کیا کوئی جج اپنے پاس چائے پینے آنے والے کے سامنے فون پر ایسی ہدایات جاری کرسکتا ہے وہ بھی کوئی عام ملزم نہیں ملک کے وزیر اعظم کیخلاف ۔۔ فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ۔۔۔بیوقوفانہ کہانیاں اور سازشی تھیوریاں گھڑنےکی بجائے یہ بتایا جائے کہ نواز شریف نے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس جو بعد میں مریم نواز کی ملکیت میں دے دئیے گئے ان کے پیسے کہاں سےآئے؟ مریم نواز نے کہا میری لندن میں تو کیا پاکستان میں بھی کوئ جائیداد نہیں اب اربوں کی جائیداد سامنے آ چکی جواب اس کا دیں،

%d bloggers like this: