ستمبر 27, 2021

ڈیلی سویل۔۔ زمیں زاد کی خبر

Daily Swail-Native News Narrative

بھارتی میڈیا اور ہمارے بھنگڑے|| ارشد ملک

ان کے نزدیک افغانستان میں طالبان نہیں پاکستان کے خفیہ ادارے بر سرِ پیکار ہیں. یہ لغو الزام ایک چارج شیٹ ہے بد قسمتی سے سیاسی طور پر نا بالغ طبقہ اس چارج شیٹ کو نہ صرف خوشی سن رہا ہے بلکہ آگے پھیلا رہا ہے.

ارشدملک

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

‏میں اگر خوش نہیں ہوں تو ماتم کیوں نہیں کرتا، شدت پسندی اس حد تک عود آئی ہے کہ نارمل ہونا عجائبات میں شمار ہوتا ہے. پڑوس میں افغانستان برق رفتاری سے فتح ہو رہا ہے، بلکہ یوں کہا جائے تو زیادہ مناسب ہو گا کہ مشرف بہ اسلام ہو رہا ہے.
مشرف ہمیں بھی میسر تھے مگر ہم ان سے بہ اسلام نہ ہو سکے. بلکہ روشن خیالی کے تڑکے نے ہمیں دو رنگی سے بھی آگے بد رنگی میں بدل دیا تھا. خیر غیر متعلق لوگوں کا تبصرہ غیر ضروری ہے اس لیے اس بات کو یہیں دفن کر دیتے ہیں. افغانستان جس کے راستے برعظیم پاک و ہند میں اسلام پھیلا آج ری ایکسپورٹ ہو رہا ہے. ری ایکسپورٹ کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ اس میں بہت سی ویلیو ایڈڈ سروسز بھی میسر آ جاتی ہیں جس سے صارفین بہتر طور پر لطف اندوز ہو سکتے ہیں.
اس ساری صورتحال پر ایک دوست نے موقف جاننے کے لیے پوچھا کہ کیا آپ افغانستان کی فتح جو دراصل بھارت کی شکست پر خوش نہیں ہیں؟ یا پھر آپ لبرل ہو گئے ہیں اور اس صورت حال پر افسردہ ہیں؟ اس سوال نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ شاید ہم تقسیم کے آخری مراحل میں ہیں کہ ہم دو انتہاؤں کے علاوہ درمیان میں رہ کر کچھ سوچ ہی نہیں سکتے.
میں امت کے تصور کو لغویات میں شمار نہیں کرتا بلکہ یہ تصور ہمارے ایمان کا حصہ ہے، امت واحدہ سے کم درجہ پر اتحاد بین المسلمین کو بھی موجودہ مسائل سے نکلنے کے لیے ایک راستہ سمجھتا ہوں. مگر کسی کے مفادات کی تکمیل کے لیے اس کی ایسی تشریح کو قبیح سمجھتا ہوں جس میں محض جذباتی استحصال ہو اور لوگوں کو کم فہم اور بیوقوف سمجھ کر انہیں استعمال کیا جائے. ایسا استعمال وقتی فائدہ دے سکتا ہے مگر ملت اسلامیہ یا مملکت خداداد کو اس سے سراسر نقصان پہنچتا ہے. طالبان ہماری نوجوانی کا عشق ہیں اور بچپن کی غلط کاریاں تو عمر بھر ساتھ نبھاتی ہیں.
طالبان سے متعلق مملکت خداداد کی اپنی نہ کوئی رائے ہے نہ کوئی پالیسی، امریکہ نے مجاہد کہا تو ہم نے جانی مالی ہر طرح کی مدد کی. امریکہ نے کہا دہشتگرد ہیں تو ہم نہ صرف لاجسٹک سپورٹ دی بلکہ سفیر کو گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے کرنے جیسی کالک اپنے چہرے پر ملی ہے. اب امریکہ کہہ رہا ہے کہ یہ مہذب ورژن ہے تو ہم لڈیاں ڈال رہے ہیں. ہمارے بارے میں تابعدار (بخشو) کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے جو کہ قومی سطح پر تضحیک کا باعث ہے. طالبان افغانستان کی ایک حقیقت ہیں اس سے نظر نہیں چرائی جا سکتی. سیاسی یا نظریاتی طور پر ہم مختلف سوچ سکتے ہیں مگر قومی مفاد پر یکسوئی ہونی چاہیے.
پاکستان افغانستان کے ساتھ متصل سب سے اہم ملک ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا. اس لیے ہمیں زیادہ محتاط انداز اختیار کرنے کی ضرورت ہے. افغانستان میں بد امنی کا براہ راست اثر پاکستان پر پڑتا ہے. ہم معاشی تباہی کے جس مقام پر ہیں یہاں ہم کسی بھی نوعیت کی بد امنی کے متحمل نہیں ہو سکتے. ہم نے بین الاقوامی دنیا کے ساتھ مل کر چلنا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم خارجہ تعلقات کو سیاسی کے بجائے سفارتی انداز میں چلائیں. بھارتی میڈیا مسلسل ہمارے اداروں کو افغانستان کے موجودہ حالات کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے.
ان کے نزدیک افغانستان میں طالبان نہیں پاکستان کے خفیہ ادارے بر سرِ پیکار ہیں. یہ لغو الزام ایک چارج شیٹ ہے بد قسمتی سے سیاسی طور پر نا بالغ طبقہ اس چارج شیٹ کو نہ صرف خوشی سن رہا ہے بلکہ آگے پھیلا رہا ہے. ان کے نزدیک ہماری خفیہ ایجنسی پر الزامات در اصل ہماری کامیابی کی دلیل ہیں. ایسا ہر گز نہیں ہے ہمارے اداروں اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے کسی بھی تاثر کو پیدا ہونے سے روکیں اور میڈیا اور سیاسی میدان میں ضروری فاصلہ بنائے رکھیں. سفارتی سطح پر جو ممکن ہو سکتا ہے وہ کریں. جنرل فیض حمید صاحب کا دورہ کابل ممکن ہے اسٹیٹیجکلی بہت اہمیت کا حامل ہو گا مگر جس طرح اسے میڈیا کی زینت بنایا گیا ہے یہ ہماری غیر سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے.
روس کی شکست کے بعد بھی ہم نے بھنگڑے ڈالے تھے مگر ہم اس موقع سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکے تھے. یہاں بھی جشن سے زیادہ ہوش مندی کی ضرورت ہے. طالبان حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ دنیا کے لیے قابل قبول افغانستان تشکیل دیں اور پاکستان کو بھی چاہیے کہ اب کی مرتبہ ہماری انویسٹمنٹ بارود کے بجائے انفراسٹرکچر میں ہو. پر امن افغانستان پاکستان کی معاشی ترقی کی ضمانت ہے. پاکستان کی وسطی ایشیا تک رسائی اور افغانستان کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے میں تعاون دو قوموں کو خوشحال بنا سکتے ہیں. شدت پسندی بہرحال ایک قانونی حیثیت اختیار کر چکی ہے لہٰذا اس کے خلاف کچھ لکھنا قانون شکنی ہی ہو گا اس لیے ایک مہذب شہری ہونے کے ناطے آنکھوں پر پٹی باندھ لیتا ہوں. اللہ رب العزت پاکستان افغانستان اور خطے کو امن خوشحالی عطاء فرمائے.

یہ بھی پڑھیں:

ذوالفقار علی بھٹو کا بیٹی کے نام خط ۔۔۔ظہور دھریجہ

سندھ پولیس کے ہاتھوں 5 افراد کی ہلاکت۔۔۔ظہور دھریجہ

ڈیرہ اسماعیل خان میں ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ۔۔۔ظہور دھریجہ

میرشیرباز خان مزاری اور رئیس عدیم کی وفات ۔۔۔ظہور دھریجہ

ظہور دھریجہ کے مزید کالم پڑھیں

%d bloggers like this: