اگست 3, 2021

ڈیلی سویل۔۔ زمیں زاد کی خبر

Daily Swail-Native News Narrative

راجن پورکی خبریں

راجن پورسے نامہ نگاروں اور نمائندگان کے مراسلوں پر مبنی خبرین،تبصرے اور تجزیے۔

راجن پور

سوشل میڈیا پر صحافی احمد نوا راں پر پولیس تشدد کے الزامات اور اصل حقائق
ترجمان پولیس راجن پور کیمطابق
کع ملک ایاز احمد ولد ولد محمد اقبال نے مقام پولیس کو بیان کیا کہ مسمی احمد نواز راں نے دو کس نامعلوم افراد کے ہمراہ اسے للکارتے ہوئے کہا کہ

ہمارے خلا ف قتل کا پرچہ کروانے کا مزہ چکھاتے ہیں الزم علیہان مسلح تھے اور جان سے مار دینے کی دھمکی دیتے رہے۔

مدعی کے بیان ہر مقدمہ نمبر 429/21 بجرم 506B درج گیا گیا۔ اسی روز مدعی قاسم ولد خادم حسین قوم لنگرانا نے پولیس کو بیان دیا کہ

احمد نواز راں ایک بلیک میلر رپورٹر ہے جو رقم کا تقاضہ کر رہا ہے اور رقم نا دینے کی صورت میں خبروں اور سوشل میڈیا کے ذریعے ذلیل و رسوا کرنے کی

دھمکیاں دے رہا ہے مدعی نے مزید بیان دیا کہ اس نے بلیک میلنگ سے بچنے کے

لیئے روبرو گواہان الزام علیہ کو 5 ہزار روپے بھی دیئے لیکن وہ مزید رقم کا مطالبہ کرتا رہا۔ جس پر مقدمہ نمبر 430/21 درج کیا گیا۔


دوران تفتیش الزام علیہ احمد نواز راں کو حسب ضابطہ گرفتار کر کے مورخہ 2021-06-05 کو بغرض ریمانڈ مجسٹریٹ جام پور کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

دوران تفتیش مقدمہ نمبر 430/21 کے مدعی نے بیان دیا کہ اس نے احمد نواز راں کو راہ اللہ معاف کر دیا ہے۔ مورخہ 2021-06-07 کو مقامی پولیس کی جانب سے

مقدمہ کی ڈسجارج رپورٹ علاقہ مجسٹریٹ کے روبرو پیش کی گئی جس پر مقدمہ ڈسچارج کر دیا گیا۔بعد ازاں مقدمہ نمبر 429/21 میں فریقین کی جانب سے

الزامات کی بابت ٹھوس ثبوت پیش نا کیئے جانے پر ڈی پی او راجن پور فیصل گلزار کے احکامات پر مقدمہ نمبر 429/21 بھی خارج کر دیا گیا۔


احمد نواز راں کی جانب سے پولیس پر تشدد کے الزامات عائد کیئے گئے جس پر مجسٹریٹ اور معزز عدالت کی جانب سے الزامات کی سچائی کا تعین کرنے لیئے میڈیکل بورڈ کروانے کے احکامات بھی جاری کیئے گئے جس پر بعد ازاں پیشی پر روبرو

مجسٹریٹ احمد نواز میڈیکل کروانے سے انکاری ہو گیا اور بیان حلفی دیا کہ میں نے غلط فہمی کی بنیاد پر محمد قاسم لنگرانا کے خلاف بے بنیاد خبریں شائع کی ہیں میری مدعی مقدمہ سے صلح ہوگئی ہے

میں کسی قسم کی کاروائی نا کروانا چاہتا ہوں۔ احمد نواز کی جانب سے دیا جانے والا بیان حلفی پولیس ریکارڈ کا حصہ ہے۔

سوشل میڈیا پر تشدد کی تصاویر شیئر کر کے احمد نواز راں کی جانب سے مقامی پولیس پر جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگائے جا رہے ہیں جن میں کوئی صداقت نا ہے۔

احمد نواز کی جانب سے میڈیکل نا کروانے اور صلح نامے کا بیان حلفی اور عدالتی آرڈرز تمام تر کاغذات پولیس ریکارڈ کا حصہ ہیں۔


راجن پور

ڈپٹی کمشنر راجن پور احمر نائیک نے کہا ہے کہ ”خدمت آپ کی دہلیز پر “پروگرام کے تحت تیسرے ہفتہ کے دوران میں تمام سرکاری دفاتر کی صفائی کی جائے گی۔

تمام ضلعی محکموں کے سربراہان اس پروگرام میں دلچسپی لیں اور حکومت پنجاب کے ویثرن کو کامیاب بنائیں۔

اس سلسلے میں سستی بالکل برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پچھلے دو ہفتوں کے دوران مین ہولز کی صفائی اور ساتھ ساتھ سیوریج اور روزمرہ صفائی کے نظام کو

درست کیا گیا اور عوامی شکایات کا فوری ازالہ کیا گیا۔تمام افسران ”خدمت آپ کی دہلیز پر “ پروگرام کے تیسرے ہفتے پر مکمل فوکس کریں۔

ہمارا مقصد لوگوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنا ہے۔اس موقع پر بتایاگیا کہ اب تک میونسپل کمیٹیز کی جانب سے 12946سرگرمیاں مکمل کی گئی ہیں۔


راجن پور

احمد نواز راں پر تشدد ،احمدنواز راں کےفیس بک پیج سے

محترم جناب فیصل گلزار صاحب DPO راجن پور
سوشل میڈیا پر راجن پور پولیس نامی پیچ سے مجھے جھوٹا اور SHO سٹی جام پور کو بے گناہ اور مجھ پر ھوئے ظلم کے لئے بری الزمہ قرار دینے کی بھونڈی کوشش کی گئی ھے

اور 1 معاہدہ اور بیان حلفی بھی پوسٹ کیا گیا ھے اور حقائق کو مسخ کرنے کی ناکام کوشش کی گئی ھے

اور الٹا پولیس کا مورال کم ھوا ھے جس کا اندازہ اسی پوسٹ پر پبلک کے کمنٹس سے لگایا جا سکتا ھے
جبکہ اصل حقائق یہ ہیں مورخہ 4 جون کو آپ کے آفس راجن پور آیا تاکہ آپ SHO سٹی جام پور کے بارے میں بتاؤں کہ وہ مجھے تھریڈ کر رہا ھے

مگر آپ چھٹی پر تھے اور میں نے تحریری درخواست SP انوسٹی گیشن صاحب راجن پور کو دی مگر اس کا الٹا ری ایکشن ھوا اور رات تقریبا” 9/30 بجے پولیس ہمراہی مدعی

مقدمہ 430/21 ایاز راں اور 2 اس کے پرائیویٹ ساتھی چادر چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ھوئے میرے گھر گھس آئے جیسے

میرا تعلق صحافت کی بجائے لادی یا چھوٹو گینگ سے اور مجھے میرے بچوں کے سامنے گھسیٹتے اور تشدد کرتے ھوئے پولیس وین میں ڈال کر تھانے لے گئے

جہاں میں بے ھوش تھا پانی کے چھینٹے ڈال کر مجھے ھوش میں لایا گیا
اگر ہماری کسی مظلوم کے حقیقی واقع کی کاروائی کے تھانے جاتے اور 506B کاروائی کی درخواست دیتے تو

پولیس کہتی ھے کہ 506B کے DPO صاحب سے اجازت لینی پڑتی ھے مگر یہاں اتنی پھرتی کہ 9 بجے کا وقوعہ دکھایا گیا اور 9/55 پر رپٹ درج مگر

مقدمہ اور رپٹ اندراج سے پہلے ہی 9/30 پر پولیس نے مجھے گھر گھس کر گرفتار کر لیا اور راتوں رات دوسرا مقدمہ بھی درج کر دیا گیا

اور پیج کے ایڈمن صاحب نے جو معاہدہ اور بیان حلفی لگایا اور اسے پولیس ریکارڈ کا حصہ بتایا ھے تو بتاتا چلوں کے 5 جون سے میں 3 دن کے لئے ریمانڈ جسمانی پر پولیس حراست میں تھا معاہدہ پر 5 جوں اور بیان حلفی پر 7 جوں تاریخیں درج ھیں جو کہ

پولیس کی جانبداری ، بربریت اور نا اہلی کے کافی ہیں کہ پولیس با اثر لوگوں کے گھر کی لونڈی ھے

زیر حراست بندے سے پرائیویٹ معاہدوں پر دستخط کیوں کروائے جا رھے ہیں اور اپنی لیگل ٹیم سے پوچھیں اس کی کیا قانونی پوزیشن ھے اور 5 جوں کو جب پولیس نے

مجھے جج کے سامنے پیش کیا تو 5 جوں بروز ہفتے کو ہی جج صاحب نے میری حالت دیکھتے ھوئے میڈیکل کرانے کا حکم دیا

مگر سوموار تک میرا میڈیکل کیوں نہیں کرایا گیا کیونکہ تشدد ثابت ھو جانا تھا
الٹا مجھے بتایا گیا کہ اگر میڈیکل کرایا

تو تمہیں 3 دن مزید حوالات میں رہنا ھو گا
اتنا ظلم کرنے کے بعد پولیس نے 429/21 مقدمہ جھوٹا قرار دیا مگر مدعی ایاز راں پر جھوٹا مقدمہ درج کروانے

پر کوئی کاروائی نہ کی کیوں نہ کی گئی
ایاز راں پر میرے گھر گھسنے

پر 452 کی FIR کیوں نہیں کاٹی گئی
اور افسوس کے اب پولیس اپنے ایک ایسے پیٹی بھائی کو بچانے کے لئے جو کہ

سرداروں اور با اثر لوگوں کی ایما پر غریب اور عام آدمیوں پر ظلم کرتا ھے

اور SHO لگنے قابل بھی نہیں اپنی عزت اور ساکھ بھی داو پر لگا رہی ھے

%d bloggers like this: