مئی 15, 2021

ڈیلی سویل۔۔ زمیں زاد کی خبر

Daily Swail-Native News Narrative

یورپ میں محتاط انداز میں کرونا وائرس کی پابندیاں نرم

رواں ہفتے یورپ کے کچھ علاقوں میں لوگوں نے گلیوں اور پارکس میں جمع ہونا شروع کر دیا ہے

رواں ہفتے یورپ کے کچھ علاقوں میں لوگوں نے گلیوں اور پارکس میں جمع ہونا شروع کر دیا ہے اور حکومت نے مرحلہ وار کرونا وائرس کی پابندیاں نرم کرنا شروع کر دی ہیں۔ یورپی شہری گھروں سے باہر اجتماعات منعقد کرنے اور دھوپ تاپنے کی تیاری کر رہے ہیں کیونکہ موسم گرم ہو رہا۔

 لیکن ماہرین صحت کا کہناہے کہ اس وقت یورپ میں کرونا وائرس سے بچاؤ کی پابندیاں نرم کرنے سے کرونا وائرس کی تازہ لہر کا خدشہ پیدا ہو جائے گا اس لیے یورپی ممالک کو آپس میں رابطہ بڑھانا چاہیے۔

انگلینڈ یورپ کے اولین خطوں میں سے ایک ہے جہاں غیر ضروری اشیاء کی فروخت پر سے پابندی اٹھائی گئی ہے۔

برطانیہ میں 12 اپریل سے ہیئر ڈریسرز، بیوٹی سیلونز اور دیگر کاروبار کھلنا شروع ہوگئے ہیں جن میں ایک دوسرے سے جسمانی فاصلہ کم ہوتا ہے۔ اب جمز، اسپاز، زوو، تھیم پارکس، لائبریریز اور کمیونٹی سینٹرز کھل سکتے ہیں۔

برطانوی حکومت کے منصوبے کے مطابق ریستوان اور پبز کے اندر بھی اجتماعات منعقد ہو سکیں گے۔ جون کے وسط تک برطانیہ میں تمام پابندیاں اٹھائے جانے کا امکان ہے۔

سوئٹزرلینڈ میں بھی ریستوران اور شراب خانوں کو کھلنے کی اجازت ہوگی اور کھلی فضا میں بیٹھنے کا انتظام کیا جا سکے گا۔ جبکہ کھیلوں اور بالغان کی تفریح کی سرگرمیاں بھی شروع کی جا سکیں گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ 26 مئی سے قبل وبائی اقدامات میں مزید نرمی کا امکان نہیں ہے۔

اُدھر جرمنی میں قومی سطح پر ایمرجنسی بریک کے نام سے ایک طریقہ کار متعارف کرایا گیا ہے جس کے تحت ایسے علاقے جہاں انفیکشن ایک خاص حد سے بڑھ جائے وہاں دن کے دوران سختی اور رات میں مکمل کرفیو نافذ کیا جاتا ہے۔

جرمنی میں کسی بھی علاقے کو کرونا وائرس کے مقامی اعدادوشمار کی بنیاد پر رنگ دیا جاتا ہے۔ ملک میں اُن 14 مختلف مقامات پر ریستوران، شراب خانے، کھیلوں کی سرگرمیاں اور عجائب خانے کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے جن کا رنگ زرد تھا اور جہاں وائرس کے پھیلاو کا خطرہ کم تھا۔

فرانس اس معاملے میں چھوٹے اقدام کر رہا ہے اور اس نے پابندیاں نرم کی ہیں لیکن لوگوں کو 10 کلومیٹر کے دائرے میں رہنے کی شرط عائد کی ہے۔ تاہم شام 7 بجے سے صبح 6 تک کرفیو پھر بھی نافذ رہے گا۔

جنوبی یورپ کے ممالک میں جہاں سیاحت کا اہم کردار ہے وہاں پابندیاں نرم کرنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ یونان میں یورپی یونین سے آنے والے مسافروں کے لیے قرنطینہ کی پابندی ختم کر دی گئی ہے۔

برطانیہ، امریکا، متحدہ عرب امارات، سربیا اور اسرائیل کی حکومتوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ 14 مئی سے اپنے اپنے ملکوں کو سیاحوں کے لیے کھول رہے ہیں۔

اٹلی کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ 50 لاکھ اتالوی شہریوں کو ویکسین لگائی جا چکی ہے اور اٹلی، جرمنی اور فرانس کے بعد یورپی یونین کا تیسرا ممبر ملک بن گیا ہے جس نے یہ کام کیا ہے۔

برطانیہ میں 21 اپریل تک 3 کروڑ 30 لاکھ افراد کو کرونا وائرس سے بچاؤ کی پہلی خوراک لگائی جا چکی ہے۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ برطانیہ اب بھی خطرات سے باہر نہیں ہے۔

پرتگال تیسری مرتبہ کرونا سے بچاؤ کی پابندیوں سے باہر نکل رہا ہے۔ چند علاقوں میں اب یہ پابندیاں ہیں جہاں انفیکشن زیادہ پھیلا ہوا ہے۔

یورپیئن کمیشن نے قومی سطح پر اقدامات کیے جانے کے نوٹیفکیشن اور رابطہ کاری وضع کرنے پر زور دیا ہے۔ یہ کام ایک دستاویز کے تحت کیا جائے گا جس کانام ’جوائنٹ یورپیئن روڈ میپ ٹوورڈز لفٹنگ کووڈ 19 کنٹینمنٹ میژز‘ ہے۔

%d bloggers like this: