
عادل علی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عہد حاضر نے ہم سب کو بہت سمجھدار بنا دیا ہے۔
اتنا کہ اب کچھ کیا سب کچھ ہی سمجھ آجاتا ہے اور یہ بھی کہ وہ جو کرتے ہیں سو تو کرتے ہی ہیں الحمداللہ پر اب جو انہوں نے نہیں کیا ہوتا اس کے بھی پیچھے انہی کا ہاتھ لگتا ہے کہ یہ بھی انہوں نے کیا یا کروایا ہوگا۔۔ اتنا اعتماد آچکا ہے ہم میں..
آج کل بہت شور ہے تمام اپوزیشن جماعتوں کا اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہر حکومت میں مخالف جماعت نے یہ ہی سب کیا ہے۔
اب اپوزیشن بھلا اپوزیشن بھی نہ کرے تو اور کیا کرے !
نیا یہ ہے کہ ہمارے تمام سیاستدان ایکدم بہت بہادر ہوگئے ہیں اور حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے بجائے اداروں کو ٹف ٹائم دینے کی حکمت عملی پہ عمل پیرا ہیں۔
بہت سے باشعور لوگوں کا دماغ یہاں الجھن کا شکار ہے کہ سالہہ سال دست شفقت کے سائے میں سیاست کرنے والے اور سیاسی لوازمات سے مالا مال ہونے والوں نے اپنہ قبلہ رخ کیوں بدل لیا اور توپوں کا رخ کسی تیسری طرف کیوں؟
کیا ان سب کے ضمیر عمر کے آخری حصے میں ہی جاگنے تھے؟
یا پھر یوں کہیے کہ تمام عمر بے ایمانی سے گزاری ایمانداری سے مرنے کے لیے۔۔ !
میں کچھ زیادہ وہمی واقع ہوا ہوں جانے کیوں مجھے ایسا لگتا ہے کہ یہ سب مصنوعی ہے۔
اتنی برداشت کا مظاہرہ پہلے کبھی نہیں ہوا کہ یوں سر عام نام اچھالے جائیں اور اچھالنے دیے بھی جائیں۔
ہم نے ایک واحد فیصلہ حق میں نہ ہونے کی پاداش میں عدالتیں بھی قالعدم ہوتے دیکھیں۔۔۔
لگتا ایسا ہی ہے کہ کسی کو پروان چرھانے کی چاہ میں جن کو مسلسل گندا قرار دیا گیا اب ان کو فیس سیونگ کا راستہ دیا جا رہا ہے۔
کیونکہ چور لٹیرے بحرحال تجربہ کار تھے اور کھانے کے ساتھ کھلانا بھی جانتے تھے جبکہ کسی طور ملک اور عوام پہ لگا بھی جاتے تھے پر یہ تو جس کے ہاتھ کمان تھما بیٹھے اسے تو ککھ کچھ پتا ہی نہیں ہے۔۔
لہٰذا یہ جو تنقید کی جارہی ہے یہ بھی کسی تجویز کے تحت ہی ہے ۔
سیاسی شہید بننے اور بنانے کے بعد جو نئی روایت اب سامنے آرہی ہے وہ سیاسی غازیوں کی ہے۔
سیاسی بیروزگاروں کو اب سیاسی غازی بنا کے اٹھائے جانے کی تیاریاں جاری ہیں۔
بعض اوقات ہمیں خود کو بھی خود برا بنانا اور ثابت کرنا پڑتا ہے مطلوبہ ہدف حاصل کرنے کے لیے۔۔۔
یاد آیا بچپن میں کسی پڑوسی سے حساب برابر کرنا تھا اور بات بھی محلے کی تھی تو بڑے بھائی کا سہارا لیا کہ بھائی آپ کے دوست کے چھوٹے بھائی سے دو دو ہاتھ کرنے ہیں اور بات جب آپ تک آئے تو آپ اپنے دوست کے سامنے ہمیں دو تین چپیڑیں کرا دیجیے گا۔۔
ہمارا بھی کام ہوجائیگا آپ کا بھی بھرم رہ جائیگا۔۔۔
بھرم کا بھرم اور مزے کا مزا۔۔ اور پھر وہ ہی ہوا
والسلام

اے وی پڑھو
تانگھ۔۔۔||فہیم قیصرانی
،،مجنون،،۔۔۔||فہیم قیصرانی
تخیلاتی فقیر ،،۔۔۔||فہیم قیصرانی