تحمل برداشت اور بردباری۔۔۔حیدرجاوید سید

جسٹس مرشد جیسے دھیمے مزاج کی شخصیت یا مولانا بھاشانی جیسے کامریڈ کی نظام اور پالیسیوں سے مایوسی بلاوجہ نہیں تھی۔

حیدر جاوید سید

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وفاقی وزیر داخلہ اعجازشاہ کا کہنا ہے کہ نوازشریف بھارت کی زبان بول رہے ہیں اداروں کے خلاف ان کی زبان درازی بند نہ ہوئی تو ”زبان کھینچ لی جائے گی”

یہ بھی کہا کہ مریم نواز اور بلاول بھٹو کی سیاست کو عوام بحیرہ عرب میں پھینک دیں گے۔

سیاست وصحافت کے طالب علم کو فیلڈ مارشل ایوب خان کے خلاف احتجاجی تحریک کے دن یاد آگئے۔

مشرقی پاکستان(اب بنگلہ دیش) کے معروف سیاستدان جسٹس(ر) محبوب مرشد مغربی پاکستان کے دورہ پر کراچی پہنچے انہوں نے ایوبی حکومت کی مشرقی پاکستان دشمن پالیسیوں اورشخصی آمریت کو آڑے ہاتھوں لیا۔

جسٹس(ر) محبوب مرشد۔جسٹس پارٹی کے سربراہ تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ”برصغیر کے مسلمانوں نے جناح صاحب کی قیادت میں سوشل ڈیموکریٹ ریاست کے قیام کے لئے جدوجہد کی تھی مگر پاکستان پر وہ لوگ قابض ہوگئے جو عوام کے حق حکمرانی کے دشمن اور امریکہ کے ہمنوا ہیں”۔

جسٹس مرشد کو ایوبی ترجمانوں نے آڑے ہاتھوں تو لیا ہی لیا صالحین بھی ان کے بیانات سے غداری کھوج کے لے آئے۔انہی دنوں مشرقی پاکستان کے ایک اور رہنما اور نیشنل عوامی پارٹی (بھاشانی) کے صدر مولانا عبدالحمید بھاشانی مغربی پاکستان کے دورہ پر آئے، ملتان کے قلعہ کہنہ قاسم باغ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مغربی پاکستان کو اپنا آخری سلام پیش کیا ۔

جسٹس مرشد جیسے دھیمے مزاج کی شخصیت یا مولانا بھاشانی جیسے کامریڈ کی نظام اور پالیسیوں سے مایوسی بلاوجہ نہیں تھی۔

لیکن یہاں مغربی پاکستان میں ان رہنمائوں کی دلجوئی کی بجائے حکومت کے ذمہ داران اور کنونشن لیگ(یہ ایوب خان کی بنائی مسلم لیگ تھی)کے رہنما کہتے دکھائی دیئے۔

نظریہ پاکستان کے باغیوں کو غیور بنگالی عوام خلیج بنگال میں غرق کردیں گے۔

بعد ازاں کیا ہوا یہ ایک لمبی داستان ہے۔تلخیوں، نفرتوں اور خون سے بھری داستان وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ کے بیان نے 1960ء کی دہائی کی سیاست کی یادیں تازہ کردیں۔

مجھ طالب علم کی ہمیشہ یہ رائے رہی ہے کہ اگر طبقاتی وعلاقائی استحصال سے پاک نظام تشکیل دے لیا جاتا تو سانحات سے بچا جا سکتا تھا۔

کاش ہمارے محققین نے کبھی لوگوں کے سامنے تصویر کا درست رُخ رکھنے کی زحمت کی ہوتی۔

سیاست میں تحمل اور برداشت کی بجائے نفرت، زمینی حقائق سے انکار،غداری کے فتوے اور الزامات کی بھر مار ہو جائے تو طرفین کے حامی صرف اپنا اپنا ”بتیسہ ”فروخت کرتے ہیں، 73سال پر پھیلی ملکی تاریخ اسی سے عبارت ہے۔

معاملہ صرف ایوب خان کی شخصی آمریت کے محافظوں اور حزب مخالف کا نہیں یہ غداری بھارت نوازی سمندر میں پھینک دینے،حرف غلط کی طرح مٹا دینے کی باتیں بد قسمتی سے روز اول سے جاری ہیں۔

سیاسی مخالفین کو غدار قرار دینے کے سلسلے کا آغاز مسلم لیگ نے شروع کیا اور افسوس کہ جناب لیاقت علی خان نے اس کی حوصلہ افزائی کی۔

حکومت وقت سے اختلاف کرنے والوں کو یہودوہنود کا ایجنٹ قرار دینے کی راہ قرار داد مقاصد نے ہموار کی، 14اگست1947ء سے یہاں تک(آج تک) کے سفر کی تاریخ کے اوراق الٹ کر دیکھ لیجئے ڈھنگ کا اگر کوئی ایک کام ہوا تو وہ1973ء کا دستور ہے

(گو یہ حرف آخر ہر گز نہیں )۔باقی تو خسارہ ہی خسارہ ہے ۔

1973ء کے دستور میں عہد بہ عہد ترامیم کی ضرورت ہے تاکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ریاست اور عوام کا تعلق نہ صرف مضبوط ہو بلکہ یہ احساس بھی دوچند کہ ریاست کے مالک عوام ہیں خواص نہیں۔

ماضی ہی نہیں آج بھی حقیقت پسندی کے مظاہرہ کی ضرورت ہے۔

ہمارے بڑوں یا یوں کہہ لیجئے سابقہ حکمرانوں اور ان کے مخالفین نے تحمل وبرداشت کے ساتھ سیاسی عمل کو آگے بڑھایا ہوتا تو حساب میں خسارے نہ لکھے ہوتے۔

تحریر یہاں تک لکھ پایا تھا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا بیان سنائی دیا ،وہ ملتان میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران فرما رہے تھے

”اپوزیشن کے کھیل سے نظام جاسکتا ہے کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا”۔

پتہ نہیں کیوں مجھے ایوب خان کے وزیر قانون ایس ایم ظفر یاد آگئے ظفر صاحب بعد کے ماہ وسال میں انسانی حقوق کی ایک تنظیم بنا کر سرگرم رہے اور ہمیشہ اس مسلم لیگ کا حصہ بھی جو اقتدار کے ایوانوں میں بنائی گئی۔ایوبی حکومت کے وزیر قانون کی حیثیت سے وہ بھی کچھ ایسا ہی کہا بولا کرتے تھے۔

ہمارے لئے دلچسپ ترین بات ہمیشہ یہ رہی کہ کسی بھی دور میں حکومت مخالف تحریک کے ذمہ داران کو ڈرایا اس بات سے جاتا رہا کہ

”نظام کے پھٹے اکھڑ جائیں گے کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا”

جب کبھی کسی عالی دماغ سیاسی شخصیت نے یہ ارشاد فرمایا یہ فیصلہ کرنا دشوار ہوا کہ اس ارشاد گرامی پر رونا ہے کہ ہنسنا ہے۔

عجیب بات ہے نظام میں موجود خامیوں کی اصلاح اور مسائل پر توجہ دینے کی بجائے ہمیشہ یہ دھمکی سنائی دیتی ہے

”نظام جاسکتا ہے کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا”

یہ ارشادیا دھمکی بذات خود نظام کے کھوکھلا ہونے کا اعلان ہے

مگر ارشاد فرمانے والے سمجھنے سے قاصر ہیں یا جان بوجھ کر آنکھیں چراتے ہیں۔

پچھلے چند ہفتوں خصوصاً حزب اختلاف کے گیارہ جماعتی سیاسی اتحاد پی ڈی ایم کے قیام کے بعد سے ماحول میں تلخی بڑھ رہی ہے، اس تلخی کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔

حزب اختلاف کے تندوتیز بیانات اور تقاریر کے جواب میں تحمل وبردباری سے معاملہ سازی پر توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے مگر ہمارے یہاں ہر دور کی حکومت کی طرح موجودہ حکومت اپنی حزب اختلاف کو پہلے جمہوریت دشمن، پھر بیرونی قوتوں کا آلہ کار اور آخر میں نظام کی بساط لپیٹ دینے کا ذمہ دار ٹھہرارہی ہے ۔

ہماری دانست میں یہ رویہ کل درست تھا نہ آج درست ہے۔ان سطور میں تواتر کے ساتھ پچھلی چار دہائیوں سے یہی عرض کرتا آرہا ہوں کہ طبقاتی نظام کے کوچے سے عوامی جمہوریت کے قیام کا راستہ بن سکتا ہے۔

آج بھی ہم سب کو یہی سوچنا ہوگا کہ عوامی جمہوریت پر مبنی نظام کیسے تشکیل پائے گا۔

سوچنے کے لئے شرط اول برداشت ،تحمل اور بردباری کا مظاہرہ ہے عملی مظاہرہ۔

%d bloggers like this: