سوچنے والا جیون عذاب کیسے بنا؟ ۔۔۔عامر حسینی

اس سماج میں لوگوں کے سوچنے کے تنوع کو ملائیت زدگی قابل گردن زدنی قرار دے ڈالتی ہے اور ہم ایک قیدخانے میں زندگی بسر کررہے ہیں

عامرحسینی 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ اپنی مادر علمی کے ہاسٹل کے عین پڑوس میں بنی عمارت کی چھت سے اُس ہاسٹل کے اُس کمرے کی کھڑکی کو اپنے سامنے پاتے ہیں جہاں زمانہ طالب علمی میں آپ کے یادگار شب و روز بیتے ہوتے ہیں اور وہاں کوئی نوجوان کھڑا اُسی ہاسٹل کے سامنے بنے کچھ پرائیویٹ ہاسٹلوں میں سے ایک ہاسٹل کے کمرے کی کھلی کھڑکی سے جھانکتے ایک چہرے کو تاک رہا ہوتا ہے اور اس عمل میں وہ اتنا محو ہوتا ہے کہ آس پاس سے بیگانہ ہوجاتا ہے- میں جی سی لاہور یونیورسٹی کے اقبال ہاسٹل کے ساتھ بلڈنگ کی سب سے بالائی چھت پر کھڑا تھا اور رات کے 11 بجے تھے- اقبال ہاسٹل کے عقب میں جی سی یو کی پرشکوہ کالونیل دور کی عمارت دکھائی دے رہی تھی اور میں یادوں کے ایک نہ ختم ہونے والے سلسلے میں الجھ کر رہ گیا تھا-
سب سے پہلے تو مجھے شہر بانو یاد آئی جو پہلے ڈاکٹر شہر بانو ہوئی اور پھر "مرحومہ ڈاکٹر شہر بانو” ہوگئی اور امریکی ریاست مشی گن میں کہیں مضافات میں دفن ہے- اُس کا دل اچانک کام کرنا بند کرگیا تھا- میرا روم میٹ عبداللہ جو اب ناروے میں سافٹ وئیر بناکر بیچنے والی کمپنی کا مالک اور میوزکولوجی میں پی ایچ ڈی ہے شاید پاکستان آنا بھول گیا ہے کیونکہ پاکستان میں اُس کی مذھبی شناخت ایک گالی بنادی گئی تھی-
ساتھ کے کمرے میں ارسلان کاظمی رہتا تھا، یہ اپنی مذھبی شناخت کے سبب ایک شام کراچی کی ایک سڑک پہ قتل کردیا گیا- اور اُس کی مرحومہ ماں اور بہنوں کا اُس کی کفن پہنی لاش کے گرد بیٹھ کر بار بار روتے ہوئے "یا غازی عباس، یا علی اکبر، یا حسین…..” کہنا آج بھی میرے کانوں میں گونجتا ہے- صدیق ناسخ ایک ایسا شخص جسے تاریخ کو کھنگال کر پھر اُس پر ہر کَس و ناکَس سے بحث کا شوق تھا اور ایک دن وہ پاکستان میں مذھبی جنون کے طوفان کی زد میں آکر گستاخ کہہ کر مارے جانے کے خطرے سے بچنے کے لیے لندن جا پہنچا اور وہاں بدقسمتی سے ایک چاقو بردار ایک مسلم پاکستانی نژاد خاندان کے سنٹرل لندن میں جنمے نوجوان کے ہاتھوں فنا کے گھاٹ اتر گیا-
میں خیالوں میں گُم تھا کہ میرے کانوں میں "مرحومہ ڈاکٹر شہر بانو” کی آواز گونجی، "عامی، یہ دیکھو صفات کو عین ذات دکھاتے ہوئے توحید کو تجریدیت مطلقہ کے مقام پر کیسے” بو تراب” نے پہنچایا ہے، نہج البلاغہ کا یہ مقام فلسفیانہ اعتبار سے بہت بلند ہے،” اب بھئی ہیڈگر کے فلسفہ وجودیت کے ضمن میں "زات اور زمان” کے تصورات کو زیر بحث لاتے ہوئے یہ "نھج البلاغہ” کہاں سے آگئی؟” میں جھنجھلا گیا تھا…. تھوڑی دیر کے لیے مکمل خاموشی…..
پھر شہر بانو نے کہا، “نہج البلاغہ کا یہ مقام ہمارے موضوع سے متعلقہ ہے-“ ہم سب کے سب جن میں سُنی تھے، ملحد تھے، لا ادری تھے، ناستک پن کے قریب بھی تھے اور کچھ بس یونہی مذھبی تھے لیکن کبھی بھی” مذھبی شناخت” کے خانوں میں رکھ کر ایک دوسرے کو دیکھتے نہیں تھے اور نہ ہی شہر بانو کے تطبیقی رویے کو ہم فرقہ وارانہ سمجھتے تھے لیکن یہ کیا ہوا کہ شہر بانو جب لاہور کے ایک تعلیمی ادارے میں پڑھارہی تھی تو سوشل سائنسز کی کلاس میں ایک لڑکے نے اُن پر کلاس میں "اپنے فرقے” کو پروموٹ کرنے کا الزام لگادیا- میں اُسی روز شام کو جب اسلامیہ پارک لاہور شہر بانو کے گھر پہنچا تو وہ خاصی ڈسڑب ہورہی تھی اور سب کچھ سمیٹ کر اس مُلک سے ہجرت کرنے کا ارادہ کررہی تھی، اُسے پڑھانے کا جنون تھا، اُس کے حصے میں بہت بڑی زرعی، سکنی اور کمرشل جائیداد تھی جس کا رینٹ ہی اُس کے پاس اتنا آتا تھا کہ گھر بیٹھ کر کھاتی تو کمی نہ آتی، اس لیے نوکری کرنا اُس کا مسئلہ نہ تھا لیکن اپنے اندر کے علم کو آگے پیش کرنا اُس کا مسئلہ تھا- وہ سب بیچ باچ سوائے اسلامیہ پارک والے مکان کے مشی گن اسٹیٹ چلی گئی- اور وہیں ایک دن ہارٹ فیل ہوکر وہ اپنے پسندیدہ لوگوں کے پاس چلی گئی- آج تو حالات اور بھی زیادہ خراب ہوگئے ہیں-
اس سماج میں لوگوں کے سوچنے کے تنوع کو ملائیت زدگی قابل گردن زدنی قرار دے ڈالتی ہے اور ہم ایک قیدخانے میں زندگی بسر کررہے ہیں…….. ویسے کہاں جاکر آدمی رہے؟ پیرس میں بھی اندھیرے سے نکل کر کوئی چاقو بردار آپ پر حملہ آور ہوسکتا ہے اور آپ سے جینے کا حق چھین سکتا ہے-

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: