آزاد کشمیر کا قلعہ رام کوٹ

عمارت کا شمالی اور مشرقی حصہ مکمل طور پر گر چکاہے تمام عبارات اور تحریریں مٹ چکی ہیں اور میر بزرگ کی قبر کے بھی کوئی نام ونشان باقی نہیں ہیں ۔

 

تحریرو تصاویر: عطاالرحمان گورمانی 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

سولہویں اور سترہویں صدی میں کشمیر کے مسلمان حکمرانوں نے کئی قلعے تعمیر کروائے، جن میں سے ایک رامکوٹ قلعہ بھی ہے، جو  اب منگلا جھیل  میں تین اطراف سے گھرا ہوا ہے۔

قلعہ جہلم اور پونچھ دریاؤں کے سنگم پر ایک اونچی پہاڑی پر قائم ہے،  قلعہ رام کوٹ  منگلا اور مظفرآباد قلعوں سے ملتے جلتے طرزِ تعمیر والا  ہے جو یہ  ظاہر کرتا ہے کہ یہ قلعہ بھی شاید اسی دور میں تعمیر کیا گیا تھا۔

قلعے کا زیادہ تر حصہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، لیکن ماپنے دور میں قلعہ کی شان و شوکت کے آثار اض بھی موجود ہیں۔ ساٹھ (60) کی دہائی میں بننے والے منگلا ڈیم اور جھیل نے قلعے ایک جزیرے کی شکل دے دی ہے۔

ضلع میرپور کی تحصیل ڈڈیال سے ہوتے ہوئے سیاکھ اور سیاکھ سے بھیلی بھٹار تک سڑک سے جایا جاتاہے آگے آدھے گھنٹے کی مسافت کشتی سے ممکن  ہوتی ہے کیونکہ قلعہ پانی سے گھرا ہوا ہے لہذا کشتی وہاں مقامی مچھیروں سے ہی مل جاتی ہے،

 تھوڑی چڑھائی کے بعد  قلعے تک پہنچا جاتا ہے، ماضی میں اس کا یہ پیچیدہ محلِ وقوع اس کے لیے کافی فائدہ مند رہا ہوگا، لیکن آج کل یہی محلِ وقوع اس کی علیحدگی اور تنہائی کی وجہ بن گیا ہے۔

مرکزی راستہ کو چوکیوں کے ساتھ بنایا گیا ہے تا کہ حملہ آوروں کو روکا جا سکے۔۔ فصیلوں کے ساتھ  مختلف جگہوں پر ڈھلوانیں بنائی گئی ہیں، جویقینا” توپوں کو فصیل تک  لانے کے لیے استعمال ہوا کرتی ہوں گی۔

یہ قلعہ انیسویں صدی میں کشمیر کے ڈوگرا مہاراجا کے زیرِ تسلط تھا۔ قلعہ میں  پانی کے دو بڑے تالاب موجود ہیں ،پانی کے تالابوں کے بارے میں مؤرخین یہ اندازہ لگانے میں ناکام ہیں کہ آخر اس نسبتاً چھوٹے قلعے میں اتنے بڑے تالاب کیوں بنائے گئے ہیں۔

مورخین کے مطابق قلعہ 90 کی دہائی کے اواخر تک بھی نظرانداز کردہ تھا، جب اسلام آباد کی ایک غیر سرکاری تنظیم ہمالین وائلڈ لائف فاؤنڈیشن کے سربراہ ڈاکٹر انیس الرحمان پہلی بار مچھلی پکڑنے کے لیے منگلا آئے، اور رام کوٹ تک آ پہنچے۔

مشہور سفری مصنف سلمان رشید کے مطابق مہاراجہ کشمیر کے مقرر کردہ ماہرِ ارضیات فریڈریک ڈریو 1875 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب The Jummoo and Kashmir Territories: A Geographical Account میں رامکوٹ قلعہ پر روشنی ڈالتے ہیں۔

ڈریو کے مطابق توگلو نامی ایک گکھر نے یہ قلعہ تعمیر کروایا تھا، جبکہ گکھروں کے بعد یہ ڈوگروں کے زیرِ تسلط چلا گیا۔

نو سو سال قبل تعمیر کیے گیا قلعہ رام کوٹ تاریخی حیثیت کا حامل ہے جس پر سکھ حکمرانوں نے قبضہ کر کے اس کا نام رام کوٹ رکھا تھا۔ قلعے کے در و دیوار آج بھی اس کے جاہ و جلال کی جھلک پیش کرتے ہیں۔ قلعے میں اس وقت کی نصب توپ اور  اس کے ساتھ کنویں کے آثار اب بھی موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:قلعہ سوران ، بلوچستان میں معدوم ہوتا تاریخی ورثہ

دشمن کے حملوں کو روکنے کی غرض سے بنائے گئے اس قلعے کو کئی حملوں کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔ جہاں تک پہنچنے کے لیے کشتی سے اتر کر 400 سیڑھیاں چڑھنی پڑھتی ہیں جس کے بعد آپ قلعے کے داخلی راستے پر پہنچتے ہیں۔

سیاحت کے عالمی دن 27 ستمبر 2020  کے موقع پر محکمہ راقم نے فیلو سیاحوں جن میں وسیب ایکسپلورر کے ڈاکٹر مزمل حسین صاحب قابل ستائش ہیں کے ساتھ قلعہ کا مطالعاتی و سیاحتی دورہ کیا ۔ آزاد کشمیر حکومت کی عدم توجہی کے باعث یہ قلعہ ماضی کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: