
شہزاد عرفان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جو آج سندھی، سندھ کے کراچی سمیت پورے سندھ میں آباد ہے اور خود کو سندھی قوم پرست کہتا ہے وہ بھی کبھی باہر سے آکر بطور مہاجر اس سندھ دھرتی پر آباد ہوا ، اُس وقت بھی وہاں کے مقامی سندھی اسے بطور مہاجر سمجھتے تھے مگر بہت جلد کچھ عرصے میں کم از کم ایک دو نسلوں بعد وہ مہاجر آبادکار جو باہر سے آیا تھا وہ مقامی سندھی بن گیا۔ وہ کیسے مہاجر سے مقامی بنا یہ ایک سماجی سائنسی عمل ہے تاریخی انجزاب ہے یہ تاریخی اسیمیلیشن دیر یا سویر بلآخر ہونی ہوتی ہے اور اس عمل کا سب سے بڑا بنیادی محرک “ثقافت “ اور اس کا اظہار” زبان” ہوتی ہے۔ لفظ ثقافت صرف ناچنا گانا لباس رہن سہن نہیں ہوتا بلکہ کسی مخصوص خطہ کے مخصوص جغرافیہ پر آباد مختلف انسانی گروہوں کی تاریخ کا تہذیبی ارتقا ہوتا ہے ۔ یہ کسی ایک قوم گروہ یا نسل یا خاندان کی بات نہیں بلکہ ان مہاجروں کے خاندانوں پر مشتمل انسانی آبادیوں کی بات ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ اس خطے میں باہر سے آکر آباد ہوتے رہے اور مقامی بنتے رہے ہیں قوم پرست بنتے گئے وہی جو آج اس دھرتی کو وطن کہنے کی بجائے ماں کہتے ہیں۔ یہ اپنی شناخت اس دھرتی کی تاریخ ثقافت زبان سے جوڑتے ہیں اسکے درد تکلیف خوشی فلسفہ علم دانش ادب سیاست ترقی تہذیب کو “ہماری” تہذیب کہتے ہیں اور اس کا اظہار سندھی زبان کرتے ہیں یہی سندھی قوم پرست کہلاتے ہیں ۔ ہزاروں سال پہلے جب وہ کہیں باہر سے آکر آباد ہوئے تھے تب وہ بھی اپنے ساتھ اپنی زبان ثقافت ہنر ادب اور دانش ساتھ لائے تھے اپنی یاداشتیں محرومیاں مجبوریاں سابقہ وطن کی محبت خاندان گھربار اپنی ثقافت زمین زبان سے بچھڑنے کا درد سب کچھ اس دھرتی کی ثقافت میں ضم کرتے رہے اور یوں سندھ کی ثقافت تہذیب و تاریخ کا ارتقا ہوتا رہا اس میں ڈائیورسٹی آتی رہی اور وہ تہذیب مسلسل سرسبزو شاداب ہوتی ترقی کرتی متلون ہوتی چلی گئی مگر ایسا نہیں ہوا کہ کسی مہاجر گروہ نے چاہے وہ جنگجو بن کر تلوار طاقت کے زور پر بطور حملہ آور ہوکر سینکڑوں سال تک حکمرانیاں کرکے مقامیت کے خلاف تاریخ کے الٹے دھارے میں بہہ کر اپنی بیرونی تہذیب و ثقافت مقامیت پر مسلط کردے ایسا تاریخ میں نہیں ہوتا۔سکندر مقدونی سے لیکر عربوں تک کی تاریخ میں ایسا نہیں سندھی یونانی اور عربی زبان بولنے لگے ہوں۔ایک عرب حملہ آور طاقت کے زور پر سندھ میں آتا ہے قتل وغارت کرتا ہے حکمران بن جاتا ہے مگر بلآخر اسی عرب حکمران اشرافیہ کا ایک شخص دھرتی کے حقوق شناخت وسائل زبان سیاست عوام کے حقوق کا علمبردار مقامیت کا سب سے بڑا نمائندہ بن کر مقامی علم و دانش کا گہوارہ بن جاتا ہے جو جی ایم سید کہلاتا ہے اور دوسری طرف ہندوستان میں برطانوی سامراج کے بینیفشریز جو بیرونی مذہبی شناخت پر فخر اور مقامیت سے نفرت کے جذبہ میں اپنے ہی آبائی گھروں، آبائی وطنوں کو آگ لگا کر خالی ہاتھ بھوکے ننگے زخم خوردہ جان بچا کر سندھ دھرتی پر آباد ہونے والے مہاجر “الطاف حسین” پیدا کرتے ہیں ۔
شہزاد عرفان دیاں بیاں لکھتاں پڑھو

اے وی پڑھو
افواہیں دم توڑ گئیں، آفیشل گزٹ سامنے آ گیا:خیبرپختونخوا اسمبلی کا شاہانہ مراعاتی بل باقاعدہ قانون ہے
سرائیکی وسیب کی تاریخی و لسانی شناخت اور پنجاب کی مرکزیت کا سیاسی بیانیہ۔۔۔۔شہزاد عرفان
کریمݨ نقلی۔۔۔||ملک عبداللہ عرفان