جون 26, 2022

ڈیلی سویل۔۔ زمیں زاد کی خبر

Daily Swail-Native News Narrative

خان صاحب۔۔۔سیاست صبر کا نام ہے…||شکیل نتکانی

اقتدار کے نشے نے دماغ خراب کر دیا اور جو لوگ اقتدار میں لائے انہیں کے خلاف سازشیں شروع کر دیں۔ اداروں نے ہاتھ کھینچ لیا دھڑام سے زمین پر گرے اٹھنے کی کوشش کی تو اصل قد کاٹھ میں خود کو دیکھا تو خود کو ہی بہت بونے دکھائی دئیے کیونکہ جنہوں نے قد کاٹھ مصنوعی طور پر بڑھایا ہوا تھا انہوں نے تو ہاتھ کھینچ لیا ہے

شکیل نتکانی 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سیاست صبر کا نام ہے جس کا بنیادی مقصد اقتدار کا حصول ہے، اس مقصد کے حصول کے لئے شارٹ کٹس بھی ہیں یہ شارٹ کٹس دو طرح کے ہیں آئینی اور غیر آئینی۔ آئینی شارٹ کٹ یہ ہے کہ آپ سیاسی جوڑ توڑ کریں، سیاسی اتحاد بنائیں اور کسی بھی جمہوری عمل بشمول جلسہ، جلوس اور احتجاج کے ذریعے حکومت کو تبدیل کرانے میں کامیاب ہو جائیں دوسرا شارٹ کٹ ہے آپ اداروں کے ساتھ سازش کرکے، ان کی مدد سے الیکٹ ایبلز کو اپنی جماعت میں شامل کرا کر، اپنے حق میں عدالتوں سے من چاہے فیصلے لے کر، انتخابات میں دھاندلی کر/کرا کے اور انتقامی ہتھکنڈے استعمال کرکے اقتدار میں آئیں اور اسے طول دیتے جائیں۔ اب پی ٹی آئی کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ یہ ایک بار اداروں کی مدد سے اقتدار میں آ چکی ہے اداروں کی مدد سے الیکٹ ایبلز کو پی ٹی آئی میں شمولیت پر مجبور کیا گیا، اداروں کی مدد سے سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی کاروائیاں کی گئیں اور اداروں کی مدد سے ہونے والی دھاندلی کے نتیجے میں اقتدار میں آ گئے۔ اقتدار کے نشے نے دماغ خراب کر دیا اور جو لوگ اقتدار میں لائے انہیں کے خلاف سازشیں شروع کر دیں۔ اداروں نے ہاتھ کھینچ لیا دھڑام سے زمین پر گرے اٹھنے کی کوشش کی تو اصل قد کاٹھ میں خود کو دیکھا تو خود کو ہی بہت بونے دکھائی دئیے کیونکہ جنہوں نے قد کاٹھ مصنوعی طور پر بڑھایا ہوا تھا انہوں نے تو ہاتھ کھینچ لیا ہے اس لئے بڑے بڑے دعوے ٹھس ہوتے گئے مجبوراً پشاور پناہ گزین ہو گئے یہ شکر کریں کہ موجودہ حکومت انتقامی کارروائی نہیں کر رہی ورنہ موصوف پشاور کی بجائے لندن میں بیٹھے ہوتے۔ امکان کافی ہے کہ جھنجھلاہٹ میں اب مزید احمقانہ فیصلے لے کر بہت جلد لندن پناہ گزین ہو جائے گا۔ سیاست جوڑ توڑ کا نام، وسعت قلبی کا نام ہے، اتحاد بنانے کا نام ہے اس بیچارے کی صرف ایک اتحادی جماعت ہے وہ ہے عوامی مسلم لیگ جس کا سربراہ اس کی مدد کے بغیر الیکشن نہیں جیت سکتا تھا۔ باقی اس دماغ کو ٹھیک کرنے کو اکیلا رانا ثناءاللہ کافی ہے اس کی نسلیں بھی سیاست سے توبہ تائب ہو جائیں گی اگر اس نے سیاسی طور طریقے نہ اپنائے تو پی ٹی آئی بطور سیاسی جماعت ختم ہو جائے گی جو کہ بہرکیف ایک اچھی بات نہیں ہو گی
یہ بھی پڑھیں:
%d bloggers like this: