مئی 13, 2026

ڈیلی سویل۔۔ زمیں زاد کی خبر

Daily Swail-Native News Narrative

سلیکٹیڈ گھبرا رہا ہے || عادل علی

اس وقت عوام لاکھوں کی تعداد میں بلاول بھٹو کی قیادت میں شہر اقتدار کی طرف رواں دواں ہیں اور ہر گزرتے پہر کے ساتھ اس کارواں میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ قافلے کی قیادت میں بیبی آصفہ بھٹو بھی پیش پیش ہیں۔

عادل علی 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پیپلزپارٹی کا عوامی مارچ زور شور سے جاری ہے۔
مارچ جتنا آگے بڑھتا جا رہا ہے اتنا ہی پھیلتا بھی جا رہا ہے۔ ہر شہر سے قافلے جڑتے جا رہے ہیں اور عوامی حجم میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔
جہاں جہاں سے نواسہ بھٹو کے قافلے گزر رہے ہیں ہرجگہ عوام کا ایک سمندر امڈ آتا ہے جو کہ کسی ایک زبان، قوم یا فرقے سے نہیں جڑا بلکہ یہ مہنگائی بیروزگاری اور ناانصافیوں کی چکی میں پسی ہوئی عوام ہے جو پیپلزپارٹی کے اعلان کردہ لانگ مارچ میں جوک در جوک شریک ہوتی جا رہی ہے۔
عوام بھوک و افلاس کے مارے اس قدر تنگ آچکے ہیں کہ فاقہ کشی تو دور کی بات ٹھہری، اپنی جان دینے اور بچے تک بیچنے پر مجبور ہوچکے ہیں جبکہ ملک کی مرکزی حکومت کی غیر سنجیدگی کا یہ عالم ہے یہ کہ ان کے وزراؑ چٹکلے چھوڑنے سے ہی باز نہیں آپارہے اور دوسری طرف عالم کچھ ایسا ہے کہ مسلط شدہ وزیر اعظم بری طرح گھبرانے والے نہیں بلکہ گھبرا چکے ہیں۔
لانگ مارچ سے قبل سابق صدر آصف علی زرداری سے ہر سیاسی پارٹی کی ملاقات و مشاورت کیا کم تھی کہ فرزند محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے حکومتی ایوان کی بنیادوں میں رخنہ ڈال دیا۔
اس وقت عوام لاکھوں کی تعداد میں بلاول بھٹو کی قیادت میں شہر اقتدار کی طرف رواں دواں ہیں اور ہر گزرتے پہر کے ساتھ اس کارواں میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ قافلے کی قیادت میں بیبی آصفہ بھٹو بھی پیش پیش ہیں۔
عوام کے حقوق کی یہ جنگ یک طرفہ صورت اختیار کرتی جارہی ہے اور معاملہ کسی فیصلہ کن مرحلے پر ہی ختم ہوگا۔
کسی خوشفہمی کے تحت یا کسی امید خوشنودی کی خاطر تحریک انصاف سندھ کے لیڈران نے وزیراعظم کو سندھ حکومت کے خلاف مارچ کے آغاز کا مشورہ دیا جس پر کمال ادائے دلبرانہ کے ساتھ ہمارے پہلے سے خوشہم "برانڈ” وزیراعظم نے لبیک بھی کہہ دیا اور وہ مارچ شروع بھی ہوا مگر تاحال کچھ پتا نہیں چل سکا کہ شروع کہاں سے ہوا تھا اور اب کہاں ہے جبکہ پیپلزپارٹی ہر سنگ میل عبور کرتی چلی جا رہی ہے جس کے اثرات بھی نظر آنا شروع ہوگئے ہیں۔
وزیر اعظم کی جانب سے کل عوام سے کیا جانے والا خطاب کسی شکست زدہ انسان کی روداد کے سوا کچھ بھی نہ تھا۔ انہیں بھی یقین ہو چلا ہے کہ ان کا وقت پورا ہوچکا ہے۔ اپنی طرف سے پیٹرولیم مصنوعات میں کمی وغیرہ کر کے اور مہنگائی سے ماری عوام کے ساتھ ہمدردی جتا کر اپنی ساکھ بچانے کی اپنی سی کوشش کی تو سہی مگر شومئی قسمت کہ اب چراغ کے لو آخری سانسوں پر ہے۔
عوام کا یہ سمندر صرف قیمتوں میں کمی نہیں بلکہ اس مسلط شدہ نظام سے نجات چاہتا ہے۔
اتنا ہی نہیں وزیر اعظم آج پنچاب کے سب سے بڑے ڈاکووں سے ملاقات کرنے بھی تشریف لے جا چکے ہیں کہ کسی طرح مالکوں تک عرضی پہنچانے میں تھوڑا وزن پیدا کیا جائے مگر اس سچ سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ ہر انگلی اور ہر تحریک اس طرف ہی جھکاو رکھتی ہے جس طرف وزن نظر آئے۔ نیازی اینڈ کمپنی اب نہیں چلیگی یہ یقین اب انہیں بھی آنے لگا ہے۔۔۔

یہ بھی پڑھیے

About The Author