اکتوبر 28, 2021

ڈیلی سویل۔۔ زمیں زاد کی خبر

Daily Swail-Native News Narrative

محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان||ظہور دھریجہ

اس منصوبہ کے تحت یورینیم کی افزودگی کیلئے ایک پلانٹ ہالینڈ کے ’’المیلو‘‘ کے مقام پر تعمیر کیا جا رہا تھا اور اس وقت تک یہ تینوں ممالک دو کھرب ڈالر خرچ کر چکے تھے۔

ظہور دھریجہ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو اسلام آباد کے ایچ 8 قبرستان میں آہوں اور سسکیوں کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا۔ گزشتہ روز فیصل مسجد میں نماز جنازہ میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ جسد خاکی کو قومی پرچم میں لپیٹا گیا، فوجی دستے نے سلامی دی اور پرچم سرنگوں رہا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی وفات پر صدر، وزیر اعظم، آرمی چیف ،گورنر، وزرائے اعلیٰ کے ساتھ ساتھ ہر مکتبہ فکر کے لوگوں نے اظہار تعزیت کیا ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان محسن پاکستان تھے۔
سرکاری سطح پر اُن کی پذیرائی اچھا عمل ہے مگر یہ بھی دیکھئے کہ ذاتی پسند و نہ پسند کی بناء پر پرویز مشرف دور میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان زیر عتاب رہے اور ان کو نظر بند کیا گیا اور 2003ء میں اُن سے معافی منگوائی گئی جس کا ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو بہت دکھ اور صدمہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ کے وزیر اعلیٰ نے اُن کو پھولوں کا گلدستہ بھجوایا تو اُس کے جواب میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا کہ 2009ء سے نظر بند ہوں۔
وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ کو میری یاد کیوں نہ آئی؟ تین صدارتی ایوارڈ اور 13 طلائی تمغے حاصل کرنے والے ڈاکٹر عبدالقدیر خان تاریخ ساز شخص تھے اُن کا پوری دنیا میں ایک نام تھا۔ اُن کے تاریخی پس منظر پر غور سے معلوم ہوتا ہے کہ عالمی شہرت یافتہ ایٹمی سائنس دان 1936ء میں بھوپال میں پیدا ہوئے اور اُن کا تعلق یوسفزئی نامی پٹھان قبیلے سے تھا۔ آپ کے والد عبدالغفور خان سی پی میں ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر تھے۔
آپ نے ابتدائی تعلیم بھوپال میں حاصل کی۔ 16 برس کی عمر میں 1952ء میں ہجرت کرکے کراچی آگئے۔ ڈی جے سائنس کالج میں داخلہ لیا اور بی ایس سی کرنے کے بعد سرکاری ملازمت اختیار کر لی۔ بعدازاں ملازمت ترک کرکے فلزات یعنی دھات کاری (مئلرجی) کی اعلیٰ اور جدید تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے اگست 1961ء میں یورپ چلے گئے جہاں انہوں نے مغربی جرمنی کی شارلٹن برگ یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ یہاں انہوں نے دو سال تک تعلیم حاصل کی اور تعلیمی اداروں میں اپنا نام بنایا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو علم سے محبت ورثہ میں ملی وہ شروع سے سمجھدار اور صاحب بصیرت انسان تھے۔
تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ ہیگ (ہالینڈ) چلے گئے۔ ٹیکنالوجی یونیورسٹی ڈیلفٹ سے ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔ 1968ء میں موصوف نے بلجیم کی قدیم لیون یونیورسٹی میں داخلہ لیا، جہاں سے انہوں نے 1972ء کے اوائل میں ’’ڈاکٹر آف فزیکل مئلرجی‘‘ کی ڈگری حاصل کی۔ دوران تعلیم آپ نے فنی موضوعات پر اہم مضامین بین الاقوامی سائنسی جرائد کے لیے تحریر کئے اور ایک کتاب بھی مرتب کی جو فلزات کے موضوع پر اپنی نوعیت کی واحد کتاب ہے جو 1972ء میں شائع ہوئی۔ جس نے پوری دنیا کے سائنسدانوں کو متاثر کیا۔ بعد ازاں ڈاکٹر صاحب نے ایمسٹرڈم کی ایک انجینئرنگ فرم ’’ایف ڈی او‘‘ کی ملازمت قبول کر لی۔ اس فرم کا پورا نام ’’فزیکل ڈائنا میکل ریسرچ لیبارٹری‘‘ ہے۔ یہ دراصل ہالینڈ کی بڑی انجینئرنگ فرم ’’وی ایم ایف‘‘ کے شعبہ تحقیق کی حیثیت رکھتی ہے۔
یہ فرم ریلوے انجن، سرنگ کھودنے کی مشینیں، کپڑے بنانے کے کارخانے کی مشینیں، بحری جہازوں کے ڈھانچے، شمسی توانائی سے چلنے والی بھاری مشینری اور پن چکیوں سے لے کر الٹرا سنٹری فیوج بنانے میں خصوصی مہارت رکھتی ہے۔ ایف ڈی او کے تحت ایک بہت بڑا خفیہ ایٹمی پروجیکٹ ’’یورنکو‘‘ بھی زیر کار تھا۔ یہ منصوبہ برطانیہ، مغربی جرمنی اور ہالینڈ کی مشترکہ سرمایہ کاری سے گزشتہ بیس سال سے چل رہا تھا۔
اس منصوبہ کے تحت یورینیم کی افزودگی کیلئے ایک پلانٹ ہالینڈ کے ’’المیلو‘‘ کے مقام پر تعمیر کیا جا رہا تھا اور اس وقت تک یہ تینوں ممالک دو کھرب ڈالر خرچ کر چکے تھے۔ ڈاکٹر خان کوالمیلو کے ایٹمی پلانٹ پر بطور مشیر مامور کیا گیا چونکہ انہیں ولندیزی، جرمن، فرانسیسی اور انگریزی زبانوں پر مکمل عبور حاصل تھا اس لیے نہایت اہم خفیہ اور فنی نوعیت کی دستاویزات کے ترجمے کا اضافی کام بھی ان کے سپرد کیا گیا۔
انہیں ترجمے کی غرض سے سرکاری طو پر اس کی خاص اجازت حاصل تھی کہ وہ خفیہ ترین فائلیں اپنے گھر لے جا سکتے ہیں۔ 1974ء میں انہیں مرکز گریزی سے بھی بالاتر قوت کی فنی تشکیل و ترکیب سے متعلق ایک انہتائی اہم رپورٹ ترجمے کے لیے دی گئی جسے انہوں نے کم سے کم وقت میں مکمل کر دیا۔ یہی وہ رپورٹ تھی جس کے بارے میں بعدازاں ایک ہنگامہ اُٹھ کھڑا ہوا کہ آخر اتنی خفیہ اور نازک فنی رپورٹ ایک غیر ملکی سائنسدان کو مطالعے اور ترجمے کیلئے کیوں دی گئی مگر ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان کی محبت میں اپنا کام کر لیا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اپنا کام کر رہے تھے پاکستان میں زیرک سیاستدان ذوالفقار علی بھٹو برسراقتدار تھے انہوں نے بجلی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے فرانس سے ایٹمی ٹیکنالوجی حاصل کی۔
دوسری طرف 1975ء میں اپنے گھریلو حالات کی وجہ سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان ہی میں مستقل سکونت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کی فرم ایف ڈی او نے انہیں اعلیٰ خدمات کے صلے میں حسن کارکردگی کی سند سے نوازا۔ ان کی بیگم کو تحفے تحائف دیئے گئے۔ ان کا سامان بھجوانے کیلئے تمام انتظامات ڈی ایف او نے کئے۔ ڈاکٹر خان کو وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ’’کہوٹہ ایٹمی ریسرچ لیبارٹریز‘‘ کا ڈائریکٹر مقرر کیا اور وہ یہاں مرکز گریز پلانٹ کا ڈیزائن بنانے میں مصروف ہو گئے کیونکہ 1974ء میں ہندوستان میں ایٹمی دھماکہ کر دیا تھا۔ پاکستان کی سا لمیت کو خطرات پیدا ہو گئے ۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو جو ذمہ داری سونپی گئی انہوں نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنا دیا۔ کچھ لوگوں نے پاکستان کے ایٹم بم کو اسلامی بم کا نام دیا جو کہ درست نہ تھا۔ پاکستان کا ایٹمی طاقت ہونا ہی کافی ہے۔ اس سے تحفظ کے احساس کے ساتھ ایٹمی ٹیکنالوجی تیار کرنے میں بھی مدد ملی ہے۔

 

 

یہ بھی پڑھیں:

ذوالفقار علی بھٹو کا بیٹی کے نام خط ۔۔۔ظہور دھریجہ

سندھ پولیس کے ہاتھوں 5 افراد کی ہلاکت۔۔۔ظہور دھریجہ

ڈیرہ اسماعیل خان میں ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ۔۔۔ظہور دھریجہ

میرشیرباز خان مزاری اور رئیس عدیم کی وفات ۔۔۔ظہور دھریجہ

ظہور دھریجہ کے مزید کالم پڑھیں

%d bloggers like this: