اکتوبر 28, 2021

ڈیلی سویل۔۔ زمیں زاد کی خبر

Daily Swail-Native News Narrative

باتیں ان کی یاد رہیں||رضاعلی عابدی

اس پر یاد آیا کہ برطانیہ کے بڑے شہر بریڈفورڈ میں بک سنٹر کتابوں کی بڑی دکان ہے۔ میں وہاں گیا اور یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ خوش ذوق پڑھنے والوں کے مطلب کی کوئی کتاب نظر نہیں آرہی تھی۔

رضاعلی عابدی 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کتابوں کے بارے میں لوگ طرح طرح کی باتیں کر رہے ہیں۔ خاص طور پر وہ لوگ جو کتاب پڑھتے نہیں۔ ایک عام خیال یہ ہے کہ کتاب پڑھنے کا چلن جاتا رہا۔ اب نہ کوئی خریدتا ہے نہ پڑھتا ہے(غنیمت ہے کہ لکھنے والوں پر نہ لکھنے کی تہمت نہیں ہے)۔ دوسری رائے جو بہت عام ہے ، یہ ہے کہ کتاب بہت مہنگی ہوگئی ہے، لوگوں کی قوت خرید اتنی نہیں کہ ہزار ہزار روپےکی کتاب خریدیں،چار پانچ دن لگا کر اسے پڑھیں اور طاق پر رکھ دیں۔ایک اور رائے یہ ہے کہ لوگ بدذوق ہوگئے ہیں، بہت تیر مارا تو مذہبی کتاب خریدلی۔ مجھے یاد ہے،کوئٹہ کے ریلوے اسٹیشن پر میں نے بُک اسٹال والے سے پوچھا کہ ہم آپ اسٹال والوں سے منٹو، عصمت چغتائی ، اپندر ناتھ اشک ، بیدی اور کرشن چندر کی کتابیں خریدا کرتے تھے ،اب تو آپ کی دکان پر ایسی کوئی کتاب نظر نہیں آرہی، کیا لوگ کتاب خریدتے نہیں؟ کہنے لگے کہ خریدتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ کیسی کتابیں خریدی جاتی ہیں۔ تھوڑا سا رک کر بولے،اب زیادہ تر مذہبی کتابیں خریدی جاتی ہیں۔

اس پر یاد آیا کہ برطانیہ کے بڑے شہر بریڈفورڈ میں بک سنٹر کتابوں کی بڑی دکان ہے۔ میں وہاں گیا اور یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ خوش ذوق پڑھنے والوں کے مطلب کی کوئی کتاب نظر نہیں آرہی تھی۔ تو کیا نظر آرہا تھا، ساری کی ساری دینی کتابیں، اوپر سے تسبیح، نماز کی ٹوپی، عربی لباس اور کار کے اندر لٹکانے والا وہ سی ڈی جس پر چاروں قُل چھپے ہوئے تھے۔بتایا گیا کہ کیا کریں ، اسی کی مانگ ہے، جن کتابوں کی آپ بات کررہے ہیں وہ اندر رکھی ہیں، جب کوئی مانگتا ہے ،نکال کر دے دیتے ہیں۔دنیا کے بہت بڑے ملک ہندوستان کی تو یہ حالت ہے کہ کتاب خوب پڑھی جاتی ہے لیکن ہندی، شُدھ ہندی۔کچھ جرأت مند ناشر اردو کتاب چھاپتے تو ہیں لیکن میرے پبلشر کے بقول اردو کتاب نو نو سال پڑی رہتی ہے، کوئی لیتا نہیں۔

یہ تو ہوا تصویر کا ایک رخ،سیاہ نہیں تو سانولا ضرور۔ اب دوسرا رُخ۔ میری پختہ رائے ہے کہ کتاب خوب لکھی بھی جارہی ہے، خوب چھپ بھی رہی ہے، قیمت بہت ہے مگر فروخت بھی ہورہی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہندوستان اور پاکستان ،دونوں ملکوں کے چھاپے خانے نئی کتابیں اتنے سلیقے اور عمدگی سے چھاپتے ہیں کہ ان کو پڑھنے سے پہلے ان کو دیکھ کر ہی جی خوش ہوجاتا ہے۔چھپائی عمدہ ہوگئی ہے، کاغذ نفیس لگ رہا ہے، چھاپے خانے کی سیاہی لاجواب ہے کہ حروف روشن ہوجاتے ہیں ، اسی طرح جلد بندی بہت ہی اعلیٰ ہونے لگی ہے (ورنہ لاہور کی جامع اللغات سے خدا بچائے،آٹھ آٹھ اور سولہ سولہ صفحوں کے پورے پورے جز غائب ہیں)۔ اس سے قطع نظر کتاب کو سجانے اور آراستہ کرنے میں ناشر کمپیوٹر کی مدد لے کر کتاب کو دل کش بنانے لگے ہیں۔بابر نامہ سے لے کر ’سب رنگ کہانیاں‘ تک میں نے ایسی خوش نما کتابیں دیکھی ہیں کہ ان کی قیمت طبیعت پر گراں نہیں گزرتی۔خوش نمااور بامقصدکتابوں کے مجمع میں پچھلے دنوں ایک بڑا ہی خوش گوار اضافہ ہوا ہے۔لندن میں ترتیب پاکر یہ کتاب دلّی سے شائع ہوئی ہے اور اس کاعنوان ہے: باتیں ہماری یاد رہیں۔ کتاب ترتیب دی ہے لندن کی شاہدہ رضوی نے جو اپنے نام کے درمیان خاندانی نام اُسید بھی لگاتی ہیں۔یہ کتا ب بڑی ہی بانکی ہے ۔ یہ در اصل علم میں شرابور دو شخصیا ت کی باتیں ہیں جو محفوظ کر لی گئیں۔شخصیات بھی کون، قرۃ العین حیدر اور پروفیسر گوپی چند نارنگ۔بزم ا ردو لندن نے ان کے اعزاز میں ایک نشست کا اہتما م کیا تھا جس میں ہوا یہ کہ نارنگ اور عینی آپا کا مکالمہ شروع ہواجس میں ہمارے رفیق سید یاور عباس بھی شریک ہوگئے اور نہایت علمی اور ادبی گفتگو چل نکلی۔ پھر کمال یہ ہوا کہ اس مکالمے میں حاضرین بھی شامل ہوگئے اور عام موضوعات بھی زیر بحث آگئے۔ گفتگو چلتی رہی اور ساتھ ہی ریکارڈ ہوتی گئی۔ اس بات کو ایک عرصہ گزر گیا کہ شاہد ہ رضوی کو خیال ہوا کہ یہ گفتگو رائیگاں جائے گی، اسے طبا عت کی شکل میں محفوظ ہونا چاہئے۔ شاہدہ کو اندازہ نہ تھا کہ پرانے فرسودہ آلا ت پر ریکارڈ کی گئی بات چیت کو چلا چلا کر سننا اور ہاتھ کے ہاتھ لکھتے جانا کچھ سہل نہیں۔ انہوں نے جیسے بھی بناساری بات چیت کاغذ پر منتقل کرلی۔ اس مرحلے پر گوپی چند نارنگ ان کی مدد کو آئے اور اس تحریر کو کتاب کی شکل دینے کی کارروائی ہونے لگی۔ اب اس کتا ب کے تین حصے ہیں۔ اول محترمہ قرۃالعین حیدر کی سوانح ترتیب پا گئی ہے جو کتاب کو حوالے کی کتاب بنا تی ہے ۔ دوسرا حصہ نارنگ اور عینی آپا کے مکالمے پر مشتمل ہے۔ تیسرے حصے میں اردو زبان اور ادب کے دور حاضر کے بڑے عالم اور معلّم پروفیسر گوپی چند نارنگ کی سوانح لکھی گئی ہے۔ ان تینوں خوبیوں نے شاہدہ کی کتاب’باتیں ہماری یاد رہیں‘کو بہت کارآمد اور با مقصد بنا دیا ہے۔

چند روز قبل ہماری عزیز مہر نقوی نے اپنے اُسی گھر پر ایک ضیافت کا اہتمام کیا جس چھت کے تلے یہ تاریخی گفتگو کی گئی تھی۔اس ضیافت کی دو خوبیاں تھیں، اول یہ کہ یہ کتاب کی تعارفی تقریب ٹھہری، دوسرے یہ کہ ڈیڑھ برس کے لاک ڈاؤن کے بعد یہ ہم لوگوں نے پہلی رہائی پائی تھی۔سارے علم دوست احباب ایک بار پھر عملاً ملے اور خوب ملے۔

’باتیں ہماری یاد رہیں‘دلّی کے اشاعت گھر عرشیہ پبلی کیشنز نے چھاپی ہے اوراس کی تکمیل میں سیفی سرونجی اور سریندر دیول نے ہاتھ بٹایا ہے۔ اس کے علاوہ نارنگ اور عینی آپا کے بارے میں اہل علم کیا کہتے ہیں، ان کے سارے افکار اور تمام آرا ایک لڑی میں پرودی گئی ہیں۔کتاب کی تکمیل میں جس جس نے بھی ہاتھ بٹایا ہے، وہ مبارک باد کا مستحق کیوں نہ قرار پائے۔

بشکریہ جنگ

مولانا مجھے نہ کہا جائے۔۔۔رضاعلی عابدی

کچھ لوگ ٹیکہ لگائیں گے۔۔۔رضاعلی عابدی

جمہوریت کا تجربہ بھی ناکام ہو رہا ہے؟۔۔۔رضاعلی عابدی

رضا علی عابدی کی دیگر تحریریں پڑھیے

%d bloggers like this: