جون 13, 2021

ڈیلی سویل۔۔ زمیں زاد کی خبر

Daily Swail-Native News Narrative

وقت بہت کم رہ گیا ہے||ظہور دھریجہ

گزشتہ روز ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کے ہاتھوں سنگ بنیاد رکھے جانے کے باوجود ملتان سیکرٹریٹ فعال نہیں ہوا۔ عثمان بزدار وعدہ پورا کریں اور یاددہانی کرواتا رہوں گا۔ خطے کے ارکان اسمبلی بھی اس مسئلے پر توجہ دیں۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ دو سیکرٹریٹ نہیں ایک ہونا چاہئے۔ اچھی بات ہے کہ یہ باتیں وزیر خارجہ کی زبان سے ہو رہی ہیں۔ قوم پرست جماعتوں کی طرف سے یہ مطالبہ ہوتا تو کسی پروپیگنڈہ کا نام دیا جاتا۔ وزیر خارجہ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ سول سیکرٹریٹ فعال نہیں ہوا کہ افسران ملتان کو کالا پانی سمجھتے ہیں۔ تین سال گزر گئے وقت تیزی کے ساتھ گزر رہا ہے اور وقت بہت کم رہ گیا ہے۔ تحریک انصاف کو مسائل کی طرف توجہ دینا ہو گی۔ تبدیلی کا بہت چرچا ہے مگر جو تبدیلی نظر آ رہی ہے ‘ وہ یہ ہے کہ اس وقت اقتدار ن لیگ سے بھی بڑھ کر تحریک انصاف کے پاس ہے ‘ ن لیگ کے پاس مرکز اور پنجاب تھا جبکہ تحریک انصاف کے پاس صوبہ خیبرپختونخواہ بھی ہے ۔ ن لیگ کا تعلق پنجاب سے تھا جبکہ تحریک انصاف کی قیادت سرائیکی وسیب سے کامیابی حاصل کی ہے۔ ن لیگ نے پنجاب خصوصاً لاہور کیلئے بہت کچھ کیا ‘ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ تحریک انصاف وسیب کے لئے کیا کیا؟ اس کے ساتھ وزارت خارجہ بھی وسیب کی اہم شخصیت مخدوم شاہ محمود قریشی کے پاس ہے ‘ لاہور سے واہگہ بارڈر پہلے بھی کھلا ہوا ہے ‘ بابا گرو نانک کی 500سالہ برسی پر کرتار پور بارڈر کو کھول دیا گیا لیکن مخدوم شاہ محمود قریشی سے درخواست ہے کہ وہ امروکا بٹھنڈہ بارڈر کے ساتھ ملتان دہلی روڈ کشادگی کیلئے بھی اقدامات کریں ۔ ترقی کے دعوے بہت کئے جاتے ہیں مگر موقع پر کچھ نظر نہیں آرہا۔ رحیم یار خان میں شیخ زید ہسپتال فیز ٹو کا اعلان ہوا اسی طرح ملتان میں بھی نشتر ٹو اور ملتان کارڈیالوجی فیز ٹو ابھی تک نہیں بن سکا۔ سول سیکرٹریٹ کے لیے 4 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی مگر ایک روپیہ بھی خرچ نہیں ہوا۔ آدھا تیتر آدھا بٹیر کی مانند سیکرٹریٹ کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ وسیب کو ملتان بہاولپور کے نام سے ایک دوسرے سے لڑانے کی کوشش کی گئی وسیب کو متحد کرنے کی بجائے تفریق کا بیج بویا گیا لیکن یہ بھی دیکھئے کہ جو ایڈیشنل سیکرٹری تعینات کئے گئے وہ آج بھی دھکے کھا رہے ہیں، نہ ان پاس دفاتر ہیں نہ فنڈ، نہ کوئی اختیار ابھی تک سول سیکرٹریٹ کیلئے رولز آف بزنس تیار نہیں ہو سکے۔ اس کے ساتھ ہماری وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی سے بھی درخواست ہے کہ سرائیکی وسیب کے لئے 2010ء میں بند ہونیوالی ٹرینوں کو چلانے کیلئے اقدامات کریں ۔ خانپور سے روہی ایکسپریس پنڈی کیلئے چلتی تھی ‘ وہ ٹرین ابھی تک بند ہے مگر سابقہ روہڑی ایکسپریس کو روہی ایکسپریس کا نام دیکر چلایا گیا ہے جبکہ خانپور روہڑی کیلئے ٹرین ابھی تک بحال نہیں ہو سکی ۔ اسی طرح سمہ سٹہ بہاولنگر بہت اہم روٹ ہے ، بہاولنگر کے لوگوں کو سفری سہولتیں قطعی طور پر میسر نہیں ہیں۔ بہاولنگر قدم قدم پر مشکلات کا شکار ہوا ہے ‘ سب سے بڑا عذاب تو دریائے ستلج کی فروختگی کا ہے ‘ جس سے بہاولنگر اور آس بہاولپور اور رحیم یارخان کے علاقوں میں چولستان کے بعد ایک اور چولستان وجود میں آ رہا ہے ‘ اس موقع پر ہم مخدوم شاہ محمود قریشی سے بھی مطالبہ کریں گے کہ وہ دریائے ستلج کی پھر سے بحالی کیلئے اقدامات کریں۔ قیام پاکستان سے پہلے سمہ سٹہ تا دہلی براستہ امروکہ بٹھنڈہ بہت بڑا ریلوے روٹ تھا اور یہاں سے چلنے والی پسنجر و گڈز ٹرینوں کی تعداد دوسرے روٹوں سے کہیں زیادہ تھی اور بہاولنگر اس روٹ کا بہت بڑا اسٹیشن اور تجارت کا بہت بڑا مرکز تھا ۔ بہاولنگر کا ریلوے اسٹیشن اتنا وسیع اور خوبصورت تھا کہ سیاح محض اسے دیکھنے کیلئے آتے تھے ۔ مگر قیام پاکستان کے بعد امروکہ بٹھنڈہ روٹ بند ہونے سے سب کچھ اجڑ گیا ۔ آج اگر اس سٹیشن کی زبوں حالی اور بربادی کا نظارہ کیا جاتا ہے تو سنگدل سے سنگدل آدمی کی آنکھوں میں بھی آنسو آ جاتے ہیں ۔ کہنے کو کہا جاتا ہے پاکستان نے بہت ترقی کر لی ہے مگر صورتحال یہ ہے کہ گزشتہ روز گھوٹکی میں ریل کا حادثہ ہوا آج بھی ہر آنکھ اشکبار ہے۔ وسیب میں بھی بہت سی میتیں آئی ہیں۔ آج بھی ریلوے کا نظام 1860ء والا ہے۔ پاکستان میں ریلوے نظام کو توسیع دینے کی بجائے پاکستان میں انگریز کی طرف سے بنائے گئے کئی ریلوے سیکشن بند ہوئے اور سینکڑو کلومیٹر ریلوے لائنیں اکھاڑ لی گئیں جبکہ بھارت نے ہزاروں کلومیٹر نئی ریلوے لائن بچھائیں اور کئی میٹر گیج سے براڈ گیج یعنی چھوٹی لائنوں کو بڑی لائنوں میں تبدیل کیا ۔ صرف سمہ سٹہ ، امروکہ سیکشن کی مثال لیجئے کہ اس سیکشن پر اب ایک انجن ایک پسنجر بوگی پر مشتمل ریل گاڑی علامتی طور پر چلائی جا رہی ہے، وہ بھی عدالتی حکم پر وگرنہ 126 کلومیٹر طویل سیکشن پر 31 ریلوے اسٹیشن عملی طور پر بے کار پڑے ہیں ۔ میکلوڈ جنکشن جسے اب منڈی صادق گنج کہا جاتا ہے، دیدہ عبرت بنا ہوا ۔ا بہاولنگر اسٹیشن بندہے ۔ کیا ہمارے حکمرانوں نے اس پر کبھی غور کیا کہ یہ ترقی ہے یا ترقی معکوس؟ ریل کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پورے ملک میں تمام پسماندہ اور محروم علاقوں کو ترقی یافتہ علاقوں کے برابر لانا ہو گا۔ لیڈ ر شپ کے مقابلے میں غریب اور پسے ہوئے لوگ بہت با شعور ہو چکے ہیں ، میں نے ان سے گفتگو کی تو وہ ستلج دریا کی موت ، امروکہ ، بٹھنڈہ ریلوے بارڈر کی کشادگی ، بہاولنگر میں کیڈٹ و میڈیکل کالج کے قیام اور لاہور کی طرح بہاولنگر کیلئے بھی سندر انڈسٹریل اسٹیٹ کی باتیں کر رہے تھے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بہاولنگر سمیت تمام پسماندہ علاقوں میں میڈیکل کالج بنائے جائیں اور وہاں مقامی طالب علموں کا کوٹہ مقرر کیا جائے ۔ امروکہ، بٹھنڈہ بارڈر کھولا جائے ، دریائے ستلج کیلئے پانی کا انتظام کیا جائے، تعلیمی سہولتوں کے ساتھ بے روزگاری کے خاتمے کیلئے انڈسٹریل سٹیٹس قائم کی جائیں۔

ظہور دھریجہ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گزشتہ روز ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کے ہاتھوں سنگ بنیاد رکھے جانے کے باوجود ملتان سیکرٹریٹ فعال نہیں ہوا۔ عثمان بزدار وعدہ پورا کریں اور یاددہانی کرواتا رہوں گا۔ خطے کے ارکان اسمبلی بھی اس مسئلے پر توجہ دیں۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ دو سیکرٹریٹ نہیں ایک ہونا چاہئے۔
اچھی بات ہے کہ یہ باتیں وزیر خارجہ کی زبان سے ہو رہی ہیں۔ قوم پرست جماعتوں کی طرف سے یہ مطالبہ ہوتا تو کسی پروپیگنڈہ کا نام دیا جاتا۔ وزیر خارجہ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ سول سیکرٹریٹ فعال نہیں ہوا کہ افسران ملتان کو کالا پانی سمجھتے ہیں۔ تین سال گزر گئے وقت تیزی کے ساتھ گزر رہا ہے اور وقت بہت کم رہ گیا ہے۔ تحریک انصاف کو مسائل کی طرف توجہ دینا ہو گی۔ تبدیلی کا بہت چرچا ہے مگر جو تبدیلی نظر آ رہی ہے ‘ وہ یہ ہے کہ اس وقت اقتدار ن لیگ سے بھی بڑھ کر تحریک انصاف کے پاس ہے ‘ ن لیگ کے پاس مرکز اور پنجاب تھا جبکہ تحریک انصاف کے پاس صوبہ خیبرپختونخواہ بھی ہے ۔
ن لیگ کا تعلق پنجاب سے تھا جبکہ تحریک انصاف کی قیادت سرائیکی وسیب سے کامیابی حاصل کی ہے۔ ن لیگ نے پنجاب خصوصاً لاہور کیلئے بہت کچھ کیا ‘ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ تحریک انصاف وسیب کے لئے کیا کیا؟ اس کے ساتھ وزارت خارجہ بھی وسیب کی اہم شخصیت مخدوم شاہ محمود قریشی کے پاس ہے ‘ لاہور سے واہگہ بارڈر پہلے بھی کھلا ہوا ہے ‘ بابا گرو نانک کی 500سالہ برسی پر کرتار پور بارڈر کو کھول دیا گیا لیکن مخدوم شاہ محمود قریشی سے درخواست ہے کہ وہ امروکا بٹھنڈہ بارڈر کے ساتھ ملتان دہلی روڈ کشادگی کیلئے بھی اقدامات کریں ۔
ترقی کے دعوے بہت کئے جاتے ہیں مگر موقع پر کچھ نظر نہیں آرہا۔ رحیم یار خان میں شیخ زید ہسپتال فیز ٹو کا اعلان ہوا اسی طرح ملتان میں بھی نشتر ٹو اور ملتان کارڈیالوجی فیز ٹو ابھی تک نہیں بن سکا۔ سول سیکرٹریٹ کے لیے 4 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی مگر ایک روپیہ بھی خرچ نہیں ہوا۔ آدھا تیتر آدھا بٹیر کی مانند سیکرٹریٹ کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا۔
وسیب کو ملتان بہاولپور کے نام سے ایک دوسرے سے لڑانے کی کوشش کی گئی وسیب کو متحد کرنے کی بجائے تفریق کا بیج بویا گیا لیکن یہ بھی دیکھئے کہ جو ایڈیشنل سیکرٹری تعینات کئے گئے وہ آج بھی دھکے کھا رہے ہیں، نہ ان پاس دفاتر ہیں نہ فنڈ، نہ کوئی اختیار ابھی تک سول سیکرٹریٹ کیلئے رولز آف بزنس تیار نہیں ہو سکے۔ اس کے ساتھ ہماری وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی سے بھی درخواست ہے کہ سرائیکی وسیب کے لئے 2010ء میں بند ہونیوالی ٹرینوں کو چلانے کیلئے اقدامات کریں ۔
خانپور سے روہی ایکسپریس پنڈی کیلئے چلتی تھی ‘ وہ ٹرین ابھی تک بند ہے مگر سابقہ روہڑی ایکسپریس کو روہی ایکسپریس کا نام دیکر چلایا گیا ہے جبکہ خانپور روہڑی کیلئے ٹرین ابھی تک بحال نہیں ہو سکی ۔ اسی طرح سمہ سٹہ بہاولنگر بہت اہم روٹ ہے ، بہاولنگر کے لوگوں کو سفری سہولتیں قطعی طور پر میسر نہیں ہیں۔ بہاولنگر قدم قدم پر مشکلات کا شکار ہوا ہے ‘ سب سے بڑا عذاب تو دریائے ستلج کی فروختگی کا ہے ‘ جس سے بہاولنگر اور آس بہاولپور اور رحیم یارخان کے علاقوں میں چولستان کے بعد ایک اور چولستان وجود میں آ رہا ہے ‘ اس موقع پر ہم مخدوم شاہ محمود قریشی سے بھی مطالبہ کریں گے کہ وہ دریائے ستلج کی پھر سے بحالی کیلئے اقدامات کریں۔
قیام پاکستان سے پہلے سمہ سٹہ تا دہلی براستہ امروکہ بٹھنڈہ بہت بڑا ریلوے روٹ تھا اور یہاں سے چلنے والی پسنجر و گڈز ٹرینوں کی تعداد دوسرے روٹوں سے کہیں زیادہ تھی اور بہاولنگر اس روٹ کا بہت بڑا اسٹیشن اور تجارت کا بہت بڑا مرکز تھا ۔ بہاولنگر کا ریلوے اسٹیشن اتنا وسیع اور خوبصورت تھا کہ سیاح محض اسے دیکھنے کیلئے آتے تھے ۔ مگر قیام پاکستان کے بعد امروکہ بٹھنڈہ روٹ بند ہونے سے سب کچھ اجڑ گیا ۔ آج اگر اس سٹیشن کی زبوں حالی اور بربادی کا نظارہ کیا جاتا ہے تو سنگدل سے سنگدل آدمی کی آنکھوں میں بھی آنسو آ جاتے ہیں ۔ کہنے کو کہا جاتا ہے پاکستان نے بہت ترقی کر لی ہے مگر صورتحال یہ ہے کہ گزشتہ روز گھوٹکی میں ریل کا حادثہ ہوا آج بھی ہر آنکھ اشکبار ہے۔ وسیب میں بھی بہت سی میتیں آئی ہیں۔ آج بھی ریلوے کا نظام 1860ء والا ہے۔
پاکستان میں ریلوے نظام کو توسیع دینے کی بجائے پاکستان میں انگریز کی طرف سے بنائے گئے کئی ریلوے سیکشن بند ہوئے اور سینکڑو کلومیٹر ریلوے لائنیں اکھاڑ لی گئیں جبکہ بھارت نے ہزاروں کلومیٹر نئی ریلوے لائن بچھائیں اور کئی میٹر گیج سے براڈ گیج یعنی چھوٹی لائنوں کو بڑی لائنوں میں تبدیل کیا ۔ صرف سمہ سٹہ ، امروکہ سیکشن کی مثال لیجئے کہ اس سیکشن پر اب ایک انجن ایک پسنجر بوگی پر مشتمل ریل گاڑی علامتی طور پر چلائی جا رہی ہے، وہ بھی عدالتی حکم پر وگرنہ 126 کلومیٹر طویل سیکشن پر 31 ریلوے اسٹیشن عملی طور پر بے کار پڑے ہیں ۔
میکلوڈ جنکشن جسے اب منڈی صادق گنج کہا جاتا ہے، دیدہ عبرت بنا ہوا ۔ا بہاولنگر اسٹیشن بندہے ۔ کیا ہمارے حکمرانوں نے اس پر کبھی غور کیا کہ یہ ترقی ہے یا ترقی معکوس؟ ریل کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ پورے ملک میں تمام پسماندہ اور محروم علاقوں کو ترقی یافتہ علاقوں کے برابر لانا ہو گا۔ لیڈ ر شپ کے مقابلے میں غریب اور پسے ہوئے لوگ بہت با شعور ہو چکے ہیں ، میں نے ان سے گفتگو کی تو وہ ستلج دریا کی موت ، امروکہ ، بٹھنڈہ ریلوے بارڈر کی کشادگی ، بہاولنگر میں کیڈٹ و میڈیکل کالج کے قیام اور لاہور کی طرح بہاولنگر کیلئے بھی سندر انڈسٹریل اسٹیٹ کی باتیں کر رہے تھے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ بہاولنگر سمیت تمام پسماندہ علاقوں میں میڈیکل کالج بنائے جائیں اور وہاں مقامی طالب علموں کا کوٹہ مقرر کیا جائے ۔ امروکہ، بٹھنڈہ بارڈر کھولا جائے ، دریائے ستلج کیلئے پانی کا انتظام کیا جائے، تعلیمی سہولتوں کے ساتھ بے روزگاری کے خاتمے کیلئے انڈسٹریل سٹیٹس قائم کی جائیں۔

 

ذوالفقار علی بھٹو کا بیٹی کے نام خط ۔۔۔ظہور دھریجہ

سندھ پولیس کے ہاتھوں 5 افراد کی ہلاکت۔۔۔ظہور دھریجہ

ڈیرہ اسماعیل خان میں ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ۔۔۔ظہور دھریجہ

میرشیرباز خان مزاری اور رئیس عدیم کی وفات ۔۔۔ظہور دھریجہ

ظہور دھریجہ کے مزید کالم پڑھیں

%d bloggers like this: