مارچ 7, 2021

ڈیلی سویل۔۔ زمیں زاد کی خبر

Daily Swail-Native News Narrative

نامور سرائیکی شاعر،ادیب ارشاد تونسوی انتقال کر گئے

ارشاد تونسوی نے ندی ناں سنجوک کے نام سے شعری مجموعہ سرائیکی ادب کو دان کیا ہے ، اسی طرح نثر پاروں پر مشتمل ان کی کتاب عشق اساڈا دین بھی شائع ہوچکی ہے۔ 

نامور سرائیکی شاعر اور ادیب ارشاد تونسوی انتقال کر گئے ، وہ کچھ دنوں سے علیل تھے، انکی وفات آج صبح بہاولپور میں ہوئی ۔بعدازاں انہیں انکے آبائی شہر تونسہ شریف کی بستی ریتڑہ میں تدفین کردی گئی ۔ ۔

ارشاد تونسوی کی نماز جنازہ تونسہ شریف میں ادا کی گئی۔

ارشاد تونسوی سرائیکی صحافی شہریار تونسوی کے والد اور سینئیر نائب صدر نیشنل پریس کلب اسلام آباد ڈاکٹر سعدیہ کمال کے سسر تھے۔

ارشاد تونسوی نے ندی ناں سنجوک کے نام سے شعری مجموعہ سرائیکی ادب کو دان کیا ہے ، اسی طرح نثر پاروں پر مشتمل ان کی کتاب عشق اساڈا دین بھی شائع ہوچکی ہے۔

ارشاد تونسوی ’’گلی‘‘ کے نام سے ایک ناول بھی لکھ رکھا تھا جو ابھی تک شائع نہیں ہوسکا۔

وہ  15اکتوبر 1946ء کو تونسہ شریف میں پیدا ہوئے۔ میٹرک ہائی سکول تونسہ سے کیا، ایف۔ اے، بی۔ اے گورنمنٹ کالج ڈیرہ غازیخان سے کئے، اور ایم۔ اے ہسٹری 1968ء میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے کیا۔ پھر بطور ڈسٹرک منیجر اوقاف میں ملازمت کا آغاز کیا اور مدت ملازمت پوری کر کے ریٹائر ہو گئے۔ آج کل  تونسہ شریف  میں مقیم تھے اور سرائیکی ادب کی خدمت کو عبادت کا درجہ دیتے تھے۔

نامور ادیب جسارت خیالی نے لکھا ہے کہ ’’ارشا دتونسوی ایک سچے، کھرے تخلیق کار ہیں اور آرنلڈ کے مقولے پر پورا اترتے ہیں کہ ’’فن میں بے ایمانی اور منافقت نہیں چلتی، یہی وجہ ہے کہ موصوف نے اپنے شعری مجموعہ ’’ ندی ناں سنجوک‘‘کا انتساب اس عظیم علمی و ادبی شخصیت جاوید اختر بھٹی کے نام کیا ہے۔ جس نے منافقت اور موقع پرستی کے خلاف لکھتے لکھتے عمر گزار دی ہے۔ جسے سرائیکی ریسرچ سینٹر بہأ الدین زکریایونیورسٹی ملتان نے 2006ء کو شائع کیا تھا۔

ارشاد تونسوی کے ندرتِ خیالات کے حامل اس فکر انگیز شعری مجموعہ کو صدارتی ایوار ڈ بھی مل چکا ہے، اور ڈاکٹر انوار احمد جیسے کھرے نقاد اور خوبصورت انسان نے موصوف کی شاعرانہ عظمت کا اعتراف بھی دل کھول کر کیا ہے۔

یہ تاریخی حقیقت ہے کہ برصغیر تصوف کی سرزمین ہے۔ اس حوالے سے صوفیائے کرام نے اپنی تعلیمات، افکار و نظریات کو عام کرنے میں تاریخی کردار ادا کیا ہے۔ ارشاد تونسوی اس دھرتی کا عظیم سپوت ہی نہیں بلکہ ان کے سرپر اس عظیم صوفی شاعر خواجہ فریدؒ کا سایہ ہمایوں بھی ہے جس نے سامراجی دور میں بڑی جراءت سے یہ کہا تھا کہ ’’پٹ انگریزی تھانے،

ارشاد تونسوی کی نظم’’ پیر فرید، کا درمیانی حصہ نذرِ قارئین ہے جس میں شاعر تنہا خونچکاں حال میں درخشاں ماضی کی نہ صرف تمنا کرتے ہیں بلکہ ماضی کی عظیم ہستیوں کو یاد بھی کرتے ہیں۔ یہ وہ احساس تنہائی ہے جو شاعر کو اندر سے دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے :

میں سوچاں میں ہکو کلھا

نہ میں پار تیں نہ اروار

نہ ماضی نہ حال

نہ ورڈر زورتھ نہ شیلے

نہ غالب نہ بھگت کبیر

نہ مومن نہ میر

نہ لندن نہ دلی میڈی

نہ کابل قندھار

میں اروار نہ پار

میں دریا دی من ط تے کھڑا

پچھلے ویلے گولاں

مگر پھر بھی وہ اپنے وسیب کے حوالے سے دنیا میں عیسیٰ کے پیرو بن کر اپنا تاریخ ساز کردار ادا کرنا چاہتے ہیں، مظلوم طبقہ میں حریت فکر کا احساس جگانا چاہتے ہیں اور انسانی سماج میں تشخص برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کی ترغیب دیتے ہیں تاکہ ہمہ قسمی استحصال سے بچا جا سکے۔ ان کی یہ نظم ’’عیسیٰ، موجودہ خونچکاں عہد کا نوحہ ہے :

ہر پاسے بے رحم صلیباں

ہرپاسے انط سونہے لوک

میڈے چار چدھارہن ا سریاں

میڈی بے وسی دیاں کندھاں

میں جیں پاسے دید بھنوینداں

موت دی کالی چادر ڈیہداں

چپ دا تار سمندر ڈیہداں

میں ہاں چیر تے سڈ مرینداں

کہیں پاسوں نہیں ولدا آندا

میڈے دشمن میڈے جائے

میڈے دشمن حق ہمسائے

میکوں آہدن تومجرم ہیں

کالی گھپ اندھاری رات اِچ

توں ماچس دی تیلی بال تیں سگریٹ لیندیں

توں عیسیٰ ہیں

ارشاد تونسوی کی شاعری فکر کا گہرا سمند رہے۔ اس لیے وہ معانی کے لعل و جواہر تلاش کرنے کے لیے قاری کو غواص دیکھنا چاہتے ہیں اس سے پہلے مارکسی دانشور اور انقلابی شاعر ڈاکٹر خیال امروہوی نے یوں کہا تھا   ؎

مشکل نہیں ایسا مرے لہجے کو سمجھنا

ہے شرط زمانہ میرے معیار تک آئے

عدم صورت میں سنگریزوں کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ ارشاد تونسوی سچے اور کھرے انسان دوست شاعر ہیں ان کی شاعری تلخ حقائق کی آئینہ دار اور مصلحت پسندی سے پاک ہے۔ جس طرح دِلّتی شاعر ارجن ڈانکے نے اپنی انقلابی شاعری سے مجبور و مقہور طبقہ کاسیاسی سماجی شعور بیدار کر کے استحصالی طبقہ کے خلاف لا کھڑا کیا تھا۔ اسی طرح ارشاد تونسوی کی نظم’’ تریجھی دنیا دے لوک‘‘ کا بغور مطالعہ کریں تو تیسری دنیا کے داخلی و خارجی مسائل کو وسیبی علامات سے اجاگر کرنے کی کو شش کی گئی ہے اور استعماری قوتوں کے پنجۂ استحصال سے نکلنے کا احساس بھی دلایا ہے۔ اس حوالے سے نظم ’’تیسری دنیا دے لوک، دیکھیے  ؎

اساں آٹے لبڑیئے چوہے

اساں ونج لکئے مسوان ط

اساں پیٹ پلمے پئے کے

تے ڈیکھوں ترت اسمان

اساں ٹوبھے لدھڑ بن گئے

ساڈیاں اکھیں کڈھ گئے کاں

اساں منجھوں ننگے ٹر پئے

تے بھل گئے اپنا ناں

ساڈے ادھم سمے سُک گئے

ساڈے سینے وسمی بھا

ساڈے اتوں پانی ویہہ گیا

تے اندروں سک گئے گھا

اساں ہک واری ول جمدے

پر کینکوں آہدے ما

ارشاد تونسو ی کی شاعری میں تفکر و تعقل ہی نہیں بلکہ روح عصر بھی ہے اس لیے ان کی شاعری زندگی سے جڑی ہوئی ہے۔ ان کی زندگی بھر خواہش رہی کہ مجبور و مقہور انسانوں کا سیاسی، سماجی شعور بیدار ہو تاکہ وہ سب دیواریں گرا کر باہر نکلیں اور سکھ کا سانس لیں مگر ایسا نہ ہوسکا کیوں کہ وہ مقدر کی بھنگ پی کر نئی رت کے خواب دیکھتے رہے اور دیواریں مضبوط ہوتی رہیں۔ اس المیے کو شاعر نے یوں نظم کا روپ دیا ہے :

کندھاں ڈہن تاں رستے بنسن

کندھاں کون ڈھہاوے

اوجیڑھے اپنیط اپنیط کھڈیں وچ وڑ کے

رت بدلنط دی تانگھ وچ بیٹھے

جالے ونڈے رہ گئے

مکڑی انگوں جالیں دے وچ پھس گئے

باہر نہ آئے

یا او جنہاں پکے پھل تے وٹا مار نط دا وی آہر نہ کیتا

جھری ٹنگڑی ڈیکھ تے ہیٹھوں بہہ گئے

سوچنط لگے پکا پھل اے آخر ڈھہسی

رُت بدلی تاں کندھاں بیاں اچاں تھیساں

درختیں نویں کنڈے چائے

ارشاد تونسوی حقوق نسواں کے علم بردار بھی نظر آتے ہیں ان کو اس بات کا دکھ ہے کہ یونانی، رومی، مصری، ہندی، یہودی، عیسائی اور عربی معاشروں میں عورت سماجی حقوق سے محروم رہی ہے۔ اسلام نے عورت کو معاشرے میں با عزت مقام دیا لیکن مذہبی اجارہ داروں نے عورت کی سماجی حیثیت کو قبول نہ کیا وطن عزیز میں عورتوں کے ساتھ بھیانک سلوک دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ اس حوالے سے ارشادتونسوی کی خواتین کے عالمی دن کے موقع پر کہی گئی د و نظمیں ان کے ارمانوں کا نوحہ ہیں۔ کیونکہ مردوں کے اس بے رحم معاشرے میں ان کی چیخیں شگفتہ قہقہوں میں دب گئی ہیں۔ نظم دیکھیے  ؎

بابل تیں توں کجھ نئیں منگدے

نہ گھر بار نہ کنت نہ ڈھول

ساکوں ساڈے پیر ولا ڈے

ساڈے پیریں جھانجھر پاڈے

ہک واری ول ٹرن سکھا ڈے

اس کے علاوہ چوڑھیں کا گاون، کوئی خبر نئیں، کانفرنس ہونون دی آس، کویتا اور پہلے بھوئیں انب دے ویلھے، نظمیں اچھوتی اور فکر انگیز ہیں۔

مختصر ارشاد تونسوی کی شاعری تشبیہ و استعارے، علامات و تمثیلات اور محاورات سے مرصع ہے۔ ان کی شاعری میں تازگی بھی ہے اور جدت بھی، بے ساختگی بھی ہے شائستگی اور کلاسکیت بھی۔ اس لیے جمالیاتی پن نمایاں ہے۔ ان کے لہجے میں کھردرا پن نہیں بلکہ نفاست و لطافت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فکرو فن کے حوالے سے اور شعور ی طورپر ان کی شاعری درجۂ کمال پر ہے۔‘‘

لیجنڈ سرائیکی شاعر ارشاد تونسوی کی درج ذیل نظم زبان زدعام ہے،

بابل تیں توں کجھ نئیں منگدے
نہ گھر بار نہ کنت نہ ڈھول
ساکوں ساڈے پیر ولا ڈے
ساڈے پیریں جھانجھر پاڈے

ہک واری ول ٹرن سکھا ڈے

1990 ارشاد ءچ ارشاد تونسوی سرکار میڈے زیر ادارت جام پور دے پہلے سرائیکی ماھنامہ پینگھ کیتے اپڑیں ھتھیں نال کلام بھیجیاء آپ اوں ویلھے بہاولپور ھوندے ھن ۔۔آفتاب مستوئی جام پور

یہ بھی پڑھیں:

عشق اساڈا دین ۔ ارشاد تونسوی

سنڌي-سرائيڪي سَڱ دا سوال؟ ۔۔۔ارشاد لغاري

 

 

%d bloggers like this: